ہفتہ، 12 جولائی، 2025

-: بات کی تاثیر، اندازِ بیان میں پنہاں ہے :-


 -: بات کی تاثیر، اندازِ بیان میں پنہاں ہے :-


روایت ہے کہ ایک بادشاہ نے خواب میں دیکھا کہ اُس کے تمام دانت ٹوٹ کر گر چکے ہیں۔


بادشاہ نے فوراً خواب کی تعبیر جاننے کے لیے ایک ماہر معبر کو دربار میں طلب کیا اور اپنا خواب سنایا۔


معبر نے بغور خواب سُنا، پھر پوچھا:

"بادشاہ سلامت! کیا آپ کو کامل یقین ہے کہ آپ نے یہی خواب دیکھا ہے؟"


بادشاہ نے اثبات میں جواب دیا۔


معبر نے "لاحول ولا قوۃ الا باللہ" پڑھا اور عرض کی:

"عالی جاہ! خواب کی تعبیر یہ ہے کہ آپ کے تمام اہلِ خانہ آپ کی زندگی میں وفات پا جائیں گے۔"


بادشاہ اس بات سے سخت برہم ہوا، چہرہ غیظ و غضب سے سرخ ہو گیا۔ درباریوں کو حکم دیا کہ اس معبر کو فوراً قید خانے میں ڈال دیا جائے، اور کسی دوسرے معبر کو بلایا جائے۔


دوسرا معبر آیا، خواب سُنا، اور کم و بیش یہی تعبیر پیش کی۔ انجام وہی ہوا، قید خانہ اس کا مقدر ٹھہرا۔


تیسرے معبر کو طلب کیا گیا۔ بادشاہ نے خواب سنایا۔ معبر نے وہی سوال کیا:

"جہان پناہ! کیا آپ کو یقین ہے کہ یہی خواب آپ نے دیکھا ہے؟"


بادشاہ نے فرمایا: "ہاں، یقیناً یہی خواب میں نے دیکھا ہے۔"


معبر نے مسکرا کر عرض کی:

"بادشاہ سلامت! مبارک ہو! آپ ماشاء اللہ اپنے خاندان میں سب سے طویل عمر پائیں گے۔"


بادشاہ نے تعجب سے پوچھا:

"کیا یہی اس خواب کی تعبیر ہے؟"


معبر نے باادب عرض کیا:

"جی حضور، بعینہٖ یہی تعبیر ہے۔"


بادشاہ نہایت خوش ہوا، معبر کو انعام و اکرام سے نوازا اور عزت و احترام کے ساتھ رخصت کیا۔


اب غور فرمایئے!

پہلے معبر نے یہی کہا تھا کہ بادشاہ اپنے سب گھر والوں کی موت دیکھے گا،

جبکہ تیسرے معبر نے کہا کہ بادشاہ سب سے لمبی عمر پائے گا۔


مطلب دونوں تعبیرات کا ایک ہی تھا،

لیکن فرق صرف "اندازِ بیان" کا تھا۔


لہٰذا بات کی تاثیر اور قبولیت کا راز محض الفاظ میں نہیں، بلکہ انداز اور حکمتِ گفتار میں پوشیدہ ہے۔


#ahmadullahsaeedi #अहमदुल्लाह_सईदी #احمداللہ_سعیدی #madani_cambridge_school #مضامین #old_simalia #new_simalia #اردو_دنیا #brain

جمعہ، 4 جولائی، 2025

عقل کی کمی مسکراہٹ کی زیارتی؟

 عقل کی کمی، مسکراہٹ کی زیادتی؟



یہ خاکہ نہ صرف ایک فنکارانہ اظہار ہے بلکہ ایک گہری سچائی کا مظہر بھی ہے۔ تصویر میں جیسے جیسے دماغ چھوٹا ہوتا جاتا ہے، ویسے ویسے چہرے پر مسکراہٹ بڑھتی جاتی ہے۔ بظاہر یہ ایک مزاحیہ خاکہ ہے، لیکن حقیقت میں یہ ہمارے معاشرے کی ایک تلخ حقیقت کی عکاسی کرتا ہے۔


ہم نے اپنی فکری وسعت، علم کی گہرائی اور عقل و شعور کو رفتہ رفتہ خوشی کی جگہ دے دی ہے، مگر یہ خوشی محض لا علمی پر مبنی ہے، شعور سے محرومی کی ایک مصنوعی مسکراہٹ ہے۔


 اصل سوال یہ ہے کیا کم سوچنے، کم سمجھنے اور کم جاننے سے انسان واقعی خوش ہوتا ہے؟

یا یہ خوشی ایک دھوکا ہے؟ ایک ایسا پردہ جو ہمیں خود احتسابی سے روکے رکھتا ہے؟


 یقیناً زندگی میں بیلنس ضروری ہے۔

علم، شعور اور عقل ہمیں بہتر فیصلے لینے، بہتر زندگی گزارنے اور ایک مثبت معاشرہ تشکیل دینے میں مدد دیتے ہیں۔ مسکراہٹ خوبصورت تب لگتی ہے جب وہ شعور کے ساتھ ہو، جب وہ سنجیدگی، دانائی اور محبت کی پیداوار ہو، نہ کہ غفلت، جہالت اور بے فکری کی۔


 آئیے، سیکھنے اور سوچنے کی روش کو اپنائیں۔

 ضرور خوش رہیں!




#احمداللہ_سعیدی #अहमदुल्लाह_सईदी #ahmadullahsaeedi #new_simalia #اردو_دنیا #مضامین #brain

بدھ، 2 جولائی، 2025

خوشی منانے کا علاقائی انداز اور اس کی شرعی حیثیت



خوشی منانے کا علاقائی انداز اور اس کی شرعی حیثیت


تحریر: محمد احمد رضا چشتی اشرفی رکن آل انڈیا علماء و مشائخ بورڈ یونٹ سملیا 



دنیا بھر میں خوشی منانے کے طریقے مختلف ہوتے ہیں۔ ہر قوم، ہر علاقے اور ہر تہذیب کے لوگ اپنے اپنے مخصوص انداز میں خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔ ہندوستان جیسے کثیرالثقافتی ملک میں بھی ہر خطے کی اپنی روایات، رسمیں اور خوشی منانے کے انداز پائے جاتے ہیں۔ ہمارے علاقے میں بھی خوشی کے مواقع پر اظہارِ مسرت کا ایک خاص اور منفرد طریقہ رائج ہے، جو اب گویا ایک ثقافتی روایت بن چکا ہے۔

ہمارے یہاں عام طور پر جب شادی بیاہ کی تقریبات ہوتی ہیں، یا کسی گھر کی بنیاد ڈالی جاتی ہے، یا کسی تعمیری یا نیک کام کی ابتدا کی جاتی ہے، تو اہلِ خانہ اور اہلِ محلہ خوشی کا اظہار ایک دوسرے پر رنگ ڈال کر کرتے ہیں۔ یہ رنگ برنگی خوشیاں صرف ایک دن یا ایک خاص موقع تک محدود نہیں ہوتیں بلکہ جب بھی کوئی موقع مسرت آتا ہے، لوگ اپنے جذبات کا اظہار اسی طریقے سے کرتے ہیں۔ یہ ایک ثقافتی اور علاقائی شعار بن چکا ہے جس میں ہندو اور مسلمان دونوں شامل ہوتے ہیں، اور اس کا مذہبی رنگ (جیسا کہ "ہولی") سے کوئی تعلق نہیں۔

گزشتہ دن ہمارے گاؤں کے محترم استاد، ماسٹر جاوید صاحب کے یہاں مکان کی بنیاد ڈالی گئی۔ انہوں نے مجھے اور دیگر اہلِ محلہ کو دعوت دی۔ وہاں میں نے دیکھا کہ ان کے اہلِ خانہ ایک دوسرے کو رنگ لگا کر خوشی کا اظہار کر رہے تھے۔ حتیٰ کہ ماسٹر صاحب کی والدہ نے مجھ سے بھی پوچھا کہ کیا وہ مجھے رنگ لگا دیں، مگر میں نے شکریہ کے ساتھ معذرت کی۔

اسی موقع پر ہمارے گاؤں کے امام محترم، مولانا نذر الاسلام صاحب نے اس رواج پر سوال اٹھایا اور فرمایا: "کیا یہ طریقہ ہولی سے مشابہ نہیں؟" ان کی بات سن کر میں نے مؤدبانہ عرض کیا کہ ہمارے علاقے میں یہ ہولی کی نقل نہیں بلکہ ایک علاقائی طریقہ ہے جو کسی مخصوص مذہب کی رسم نہیں بلکہ ایک ثقافتی اظہارِ خوشی ہے، جو شادی، تعمیر یا کسی بھی مثبت عمل کے آغاز پر اپنایا جاتا ہے۔ ہولی ایک خاص دن اور مذہبی پس منظر کے ساتھ منائی جاتی ہے، جب کہ یہاں کے لوگ بلا کسی مذہبی نیت کے، محض خوشی کے جذبے سے، رنگ کا استعمال کرتے ہیں۔

بعض افراد ہر نئی چیز کو بدعت یا گمراہی سے تعبیر کرتے ہیں، اور ان کا زاویہ نظر زیادہ سخت ہوتا ہے۔ ایسے میں ہمیں توازن اور فہم و بصیرت کے ساتھ کام لینا چاہیے۔ دین کی دعوت دینے والے افراد کا کام لوگوں کو قریب لانا ہونا چاہیے نہ کہ دین سے دور کرنا۔ اگر کوئی چیز نہ شرعی حکم کی مخالفت کرتی ہے اور نہ ہی کسی کفر یا شرک پر مبنی ہے، تو محض شبہ کی بنیاد پر اس کی مخالفت کرنا مناسب نہیں۔

ہمیں چاہیے کہ ہم دینی اعتدال، حکمت اور نرمی کے ساتھ لوگوں کی رہنمائی کریں، تاکہ وہ دین سے قریب ہوں، نہ کہ بدظن ہو کر دور جائیں۔ دین میں جہاں شریعت کے اصول اہم ہیں، وہیں لوگوں کی طبیعت، تہذیب اور عرف کا لحاظ بھی سنتِ نبوی ﷺ کا حصہ ہے۔


اسلام میں تعویذ کا حکم: ایک متوازن جائزہ

 -: اسلام میں تعویذ کا حکم ،ایک متوازن جائزہ :-


( تحریر: محمد احمد رضا چشتی اشرفی رکن آل انڈیا علماء و مشائخ بورڈ یونٹ سملیا)



اسلام میں تعویذ (یعنی کوئی دعا، قرآن کی آیت یا مخصوص کلمات کو لکھ کر پہننا یا لٹکانا) کے بارے میں علماء کے درمیان اختلاف موجود ہے۔ اس کی اجازت یا ممانعت اس بات پر منحصر ہے کہ تعویذ میں کیا لکھا گیا ہے اور اس سے متعلق انسان کا عقیدہ کیا ہے۔



اسلام میں تعویذ اس وقت جائز ہوتا ہے جب اس میں قرآن کی آیات، اللہ کے اسماء یا صحیح احادیث سے ثابت دعائیں شامل ہوں۔ اسے شرک یا جادو کی نیت سے نہ باندھا جائے بلکہ صرف دعا اور برکت کے طور پر استعمال کیا جائے۔ یہ عقیدہ رکھا جائے کہ تعویذ خود کچھ نہیں کرتا، بلکہ اللہ کے حکم سے اثر ہوتا ہے۔


صحابہ کرام میں سے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بچوں کو قرآنی آیات پر مبنی تعویذ لٹکایا کرتے تھے۔ امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے بھی قرآن والے تعویذ کے جواز کی روایت موجود ہے۔


تعویذ اس وقت حرام ہو جاتا ہے جب اس میں غیر شرعی الفاظ، جادو، طلسم یا شیطانی کلمات شامل ہوں۔ اس کے ذریعے غیب دانی، قسمت بدلنے یا اللہ کے سوا کسی اور پر یقین رکھا جائے۔


رسول اللہ ﷺ نے فرمایا  "جس نے تعویذ لٹکایا، اس نے شرک کیا۔"(مسند احمد، سنن ابی داؤد) یہ ان تعویذوں کے بارے میں ہے جو شرک پر مبنی ہوں یا دین کے خلاف ہوں۔


قرآنی آیات یا اللہ کے ناموں پر مبنی تعویذ جائز ہے (اللہ پر یقین کے ساتھ) اور جادو، طلسم، یا غیر شرعی الفاظ والا تعویذ ناجائز اور حرام ہے۔ علاوہ ازیں تعویذ پر مکمل بھروسہ، اللہ کو بھول جانا شرک ہے ۔



بیشتر صوفیاۓ کرام اور بعض نیک علما تعویذ کو ایک ذریعۂ تبلیغ کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ غیر مسلم یا کمزور ایمان والے افراد تعویذ لینے کے بہانے ان کے پاس آتے ہیں، اور یوں ان کو اسلام کی خوبصورتی اور اللہ پر بھروسے کا پیغام ملتا ہے جو انتہائی مستحسن اقدام ہے ۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ کچھ حضرات تعویذ کو ذریعہ معاش بنا لیتے ہیں۔ وہ لوگوں کی سادگی سے فائدہ اٹھا کر تعویذ بیچتے ہیں، پیسے لیتے ہیں، اور دین کو کاروبار بناتے ہیں۔ ایسے عمل سے تعویذ نہ صرف ناجائز بلکہ دین کی بدنامی کا سبب بن جاتا ہے۔


ہمیں چاہیے کہ ہم قرآنی دعاؤں اور مسنون اذکار کو سیکھیں اور دوسروں کو بھی سکھائیں۔ اولا تعویذ کی بجائے اللہ سے دعا اور قرآن سے رجوع کو اپنا معمول بنائیں۔


اگر تعویذ کا استعمال کیا جائے تو اس میں صرف شرعی، صاف اور واضح الفاظ ہوں اور مکمل توکل اللہ ہی پر ہو۔


یاد رکھیں ،اصل حفاظت اور شفا صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ تعویذ اگر عقیدے کو کمزور کرے تو نقصان دہ ہے، اور اگر ایمان کو مضبوط کرے تو فائدہ مند بن سکتا ہے۔


واللہ أعلم

منگل، 1 جولائی، 2025

ہندوستانی بینکنگ نظام: شہری عزت دیہی زحمت؟

 -: ہندوستانی بینکنگ نظام: شہری عزت، دیہی زحمت؟ :- 


( تحریر: محمد احمد رضا چشتی اشرفی رکن آل انڈیا علماء و مشائخ بورڈ یونٹ سملیا )


(بینکنگ کے نام پر چارجز کی چالاکیاں اور دیہی عوام کے ساتھ ناانصافی)



ہندوستان میں اس وقت ہزاروں بینک شاخیں (branches) اور درجنوں بڑے مالیاتی ادارے موجود ہیں، جو کروڑوں لوگوں کی بینکنگ ضروریات پوری کر رہے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ بینک سبھی صارفین کے ساتھ یکساں سلوک کرتے ہیں؟ کیا دیہی اور شہری صارفین کو ایک جیسا احترام اور سہولت دی جاتی ہے؟


شہری علاقوں میں بہتر سروس، گاؤں میں بے توجہی:


یہ حقیقت ہے کہ شہری علاقوں میں بینکوں کے ایمپلائیز خوش اخلاق ہوتے ہیں، سسٹم بہتر ہوتا ہے، اور کام جلدی اور شفاف طریقے سے کیا جاتا ہے۔ لیکن جب یہی بینک دیہی علاقوں میں کام کرتے ہیں تو ان کا رویہ اکثر تبدیل ہو جاتا ہے۔

گاؤں دیہات کے معصوم، کم تعلیم یافتہ لوگوں کے ساتھ بعض بینک ملازمین بدتمیزی، بد اخلاقی اور لاپروائی سے پیش آتے ہیں۔ نہ صحیح رہنمائی، نہ شفاف معلومات، اور نہ ہی وقت کی قدر۔


میرے ذاتی مشاہدات:


1. ایچ ڈی ایف سی (HDFC)، ICICI، بینک آف انڈیا، بینک آف بڑودا


یہ بینک قابلِ تعریف خدمات فراہم کرتے ہیں۔

ان کا سسٹم محفوظ، عملہ تربیت یافتہ، اور سروس تیز ہوتی ہے۔ لوگ ان بینکوں پر بھروسہ کرتے ہیں، اور اکثر معزز شخصیات بھی ان میں اکاؤنٹس کھولتے ہیں۔


2. ایکسس بینک، اسٹیٹ بینک آف انڈیا (SBI)، پنجاب نیشنل بینک (PNB)


ان بینکوں کی بعض شاخوں میں خاص طور پر دیہی علاقوں میں انتہائی سست روی، لاپرواہی، اور غیر ضروری چارجز کا چلن ہے۔


حال ہی میں میں اپنے چچیرے دادا ماسٹر فرید عالم صاحب کے ساتھ Axis Bank گیا۔

صرف 2 مہینے کا بینک اسٹیٹمنٹ نکلوانے میں ڈھائی گھنٹے ضائع ہوئے۔

بار بار یاد دہانی کے باوجود ملازمین توجہ نہیں دے رہے تھے۔ جب غصہ ہوا، تب جا کر کام ہوا۔


 "ڈکیتی" کے انداز میں چارجز کی کٹوتی:


دیہی علاقوں میں Axis بینک کے ملازمین محلہ محلہ گھوم کر "زیرو بیلنس اکاؤنٹ" کے نام پر لوگوں کو لبھاتے ہیں، لیکن:


اکاؤنٹ کھلنے کے بعد بے شمار غیر واضح چارجز لگائے جاتے ہیں


₹3500 سے کم بیلنس ہونے پر ماہانہ جرمانہ


₹400، ₹600، ₹800 تک کی کٹوتی بغیر اطلاع


اکاؤنٹ بند کروانے پر 6 مہینے کی شرط


بار بار "تاریخ پر تاریخ" دے کر ٹال مٹول


یہ طریقہ دیہی صارفین کے ساتھ دھوکہ دہی اور بدعنوانی کی مثال ہے۔


 ایک اور مثال: بینک آف بڑودا


میرے والدہ کے اکاؤنٹ میں ڈیبٹ کارڈ کی مدت ختم ہو چکی ہے، لیکن نیا کارڈ جاری نہیں کیا گیا۔ پھر بھی ہر مہینے اس کا چارج کاٹا جا رہا ہے۔ یہ سیدھی سیدھی بے ایمانی ہے۔


عوام کے لیے مفید مشورے:


1. گھر آ کر اکاؤنٹ کھلوانے والے ملازمین پر کبھی بھروسہ نہ کریں


2. بینک میں جا کر خود مینجر یا اسٹاف سے تفصیل میں پوچھ کر ہی اکاؤنٹ کھلوائیں


3. ہر چارج، سروس فیس، اور ATM سروس کے بارے میں صاف اور تحریری معلومات حاصل کریں


4. بینک کا اسٹیٹمنٹ ہر مہینے چیک کریں تاکہ چارجز کا پتہ چلے


5. اگر کوئی بدتمیزی کرے یا غیر واضح کٹوتی ہو تو RBI کی شکایت ویب سائٹ پر رپورٹ کریں:

🔗 https://cms.rbi.org.in


 نتیجہ:


بینکنگ نظام کو عوام دوست اور دیانت دار ہونا چاہیے، خاص طور پر دیہی صارفین کے ساتھ، جو پہلے ہی شعور اور وسائل میں محدود ہوتے ہیں۔

عوام الناس کو چاہیے کہ ہر مالیاتی معاملے میں تحقیق، ہوشیاری، اور احتیاط سے کام لیں تاکہ بعد میں پچھتانا نہ پڑے۔

پیر، 30 جون، 2025

مولانا محمد احمد رضا چشتی اشرفی: ایک ہمہ جہت علمی و دینی شخصیت

  مولانا محمد احمد رضا چشتی اشرفی: ایک ہمہ جہت علمی و دینی شخصیت








مولانا محمد احمد رضا چشتی اشرفی، جو احمداللہ سعیدی کے نام سے بھی معروف ہیں، موجودہ وقت میں ضلع اتر دیناجپور کے سورجاپور-دالکولہ خطے کی ایک مایہ ناز دینی، علمی اور فلاحی شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ وہ ایک معزز و معروف خانوادے "منشی خاندان" سملیا میں 30 جون 1996 کو پیدا ہوئے۔ ان کے علمی، تحریکی، تعلیمی اور فلاحی کارنامے نہ صرف ان کے گاؤں بلکہ وسیع تر علاقے میں قابل تحسین اور لائقِ تقلید ہیں۔




ابتدائی تعلیم اور علمی سفر




مولانا کی ابتدائی تعلیم گاؤں کے ہی ایک مقامی دینی ادارے میں ہوئی، لیکن ان کی علمی استعداد اور غیرمعمولی ذہانت کو بھانپتے ہوئے ان کے بڑے ابو، حضرت علامہ و مولانا عالمگیر رضا صاحب قبلہ نے انہیں محض پانچ سال کی عمر میں الہ آباد کے ایک اسکول میں داخل کرا دیا۔ وہاں انہوں نے اپنی ذہانت و فطانت سے ممتاز کامیابیاں حاصل کیں اور ہمیشہ نمایاں پوزیشن کے ساتھ تعلیمی مدارج طے کیے۔




اپنی والدہ محترمہ کی خواہش پر مولانا احمد رضا نے قرآن کریم حفظ کرنے کی سعادت حاصل کی۔ اس کے لیے انہیں مدرسہ فیضان العلوم داندوپور میں داخل کیا گیا، بعد ازاں، اعلیٰ دینی تعلیم کے لیے وہ معروف ادارہ جامعہ عارفیہ، سید سراواں میں داخل ہوئے جہاں انہوں نے عالمیت، فضیلت کے تمام مراحل انتہائی کامیابی سے مکمل کیے اور وہیں سے گریجویشن کی سند بھی حاصل کی۔




تدریسی، تحریری اور تخلیقی خدمات




مولانا احمد رضا ایک صاحبِ قلم عالمِ دین ہیں۔ ان کے مضامین وقتاً فوقتاً مختلف رسائل، اخبارات اور ویب سائٹس کی زینت بنتے رہتے ہیں۔ وہ جدید مسائل پر عالمانہ گفتگو اور دینی رہنمائی کے لیے جانے جاتے ہیں۔ ان کی تحریروں میں وقت کی نبض کو سمجھنے کا شعور، زبان و بیان پر عبور، اور مسئلہ فہمی کی گہرائی نمایاں طور پر محسوس ہوتی ہے۔




جامعہ عارفیہ میں اپنی تعلیم کے دوران انہوں نے یومِ جمہوریہ اور یومِ آزادی جیسے اہم قومی مواقع کو منانے کی پہل کی، جسے بعد میں ادارے کی انتظامیہ نے بھی قبول کیا۔ یوں انہوں نے دینی اور ملی شعور کو ہم آہنگ کرنے میں بھی ایک مثبت کردار ادا کیا۔




فلاحی خدمات اور سماجی قیادت




کورونا کی عالمی وبا کے بعد مولانا اپنے وطن واپس آئے اور اپنے ہی علاقے میں رہائش اختیار کی۔ واپسی کے بعد انہوں نے اپنے فکری، دینی اور فلاحی کردار سے گاؤں اور آس پاس کے علاقوں میں نمایاں تبدیلیاں پیدا کیں۔ ایک موقع پر کھاری بسول میں پیش آنے والے آتشزدگی کے سانحے میں، انہوں نے آل انڈیا علما و مشائخ بورڈ کے صدر حضرت محمد اشرف میاں صاحب قبلہ سے رابطہ کر کے متاثرین کے لیے 2.5 لاکھ روپے کی امداد دلائی۔ اس کے علاوہ ذاتی کوششوں سے مزید 2.5 لاکھ روپے گاؤں والوں سے جمع کر کے متاثرہ خاندانوں تک پہنچائے۔




ان کی قیادت میں جب بھی کوئی حادثہ پیش آیا، چاہے وہ موت و میراث کا مسئلہ ہو یا قدرتی آفت، مولانا نے بڑھ چڑھ کر عملی خدمات انجام دیں۔ خاص طور پر جب کوئی پردیسی انتقال کر جاتا ہے تو میت کو گاؤں لانے کا سارا خرچ بورڈ کی مقامی یونٹ برداشت کرتی ہے، جس میں مولانا احمد رضا کا مرکزی کردار ہوتا ہے۔




ادارہ جاتی کارنامے




سابق پردھان غلام سرور چودھری، مولانا رضوان ہاشم اور دیگر معززین کے تعاون سے انہوں نے اپنے گاؤں سملیا میں آل انڈیا علماء و مشائخ بورڈ کی یونٹ قائم کی۔ اس یونٹ کے تحت علاقے میں فلاحی و دینی کاموں کا جال بچھایا گیا، جن میں مولانا شہباز عالم چشتی کی معاونت بھی شامل رہی۔ مختلف فلاحی اسکیموں، تعلیمی سہولیات اور مذہبی خدمات کے سلسلے میں مولانا احمد رضا نے نمایاں کردار ادا کیا۔




مدنی کیمرج اسکول: تعلیم و تربیت کا مرکز




مولانا محمد احمد رضا نہ صرف ایک عالمِ دین اور مضمون نگار ہیں، بلکہ ایک باصلاحیت تعلیمی منتظم بھی ہیں۔ وہ سورجاپور کے معروف تعلیمی ادارے مدنی کیمرج اسکول کے پرنسپل ہیں، جہاں جدید عصری تعلیم کے ساتھ ساتھ دین و اخلاق کی تربیت کا بھی خاص نظم کیا گیا ہے۔ اسکول کی انفرادیت یہ ہے کہ وہاں انگلش میڈیم تعلیم کے ساتھ دینیات کا مکمل نصاب بھی شامل ہے، جس سے طلبہ کی ہمہ جہتی تربیت ممکن ہو پاتی ہے۔




عقائد و نسبت




فقہی لحاظ سے مولانا محمد احمد رضا حنفی ہیں، اور عقائد کے باب میں ماتریدی مکتب فکر سے وابستہ ہیں۔ ان کا روحانی مشرب چشتی ہے اور وہ سلسلہ چشتیہ کی تعلیمات و روحانیت سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ عقیدہ و عمل دونوں میں ان کی روشنی قابل رشک ہے، مگر اس کے باوجود بعض بدخواہ عناصر ان کے بارے میں شبہات پھیلانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ مگر ان کی زندگی اور ان کا کردار اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ وہ ہمیشہ دین و سنیت پر ثابت قدم رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اہلِ سنت کے کئی جید علما سے ان کے گہرے تعلقات قائم ہیں۔






اختتامیہ




مولانا محمد احمد رضا چشتی اشرفی ایک ہمہ جہت، متوازن، اور فعال شخصیت ہیں۔ ان کی زندگی علم، عمل، خدمت، اخلاص، اور قیادت کا حسین امتزاج ہے۔ ان کی تحریری و تقریری صلاحیتیں، تنظیمی فہم، تعلیمی بصیرت اور فلاحی سرگرمیاں انہیں نئی نسل کے لیے ایک رول ماڈل بناتی ہیں۔ ایسے علماء کی موجودگی قوم و ملت کے لیے باعثِ رحمت اور وجہِ فخر ہے۔




#ahmadullahsaeedi #احمداللہ_سعیدی

پیر، 23 جون، 2025

ہمارے گاؤں سملیا میں ایک جدید ہسپتال کی اشد ضرورت



ہمارے گاؤں میں ایک جدید ہسپتال کی ضرورت — ایک اجتماعی فلاحی خواب


( تحریر:- محمد احمد رضا چشتی اشرفی رکن آل انڈیا علماء و مشائخ بورڈ یونٹ سملیا)

اللہ رب العزت کا بے پایاں شکر و احسان ہے کہ ہمارے گاؤں سملیا میں متعدد افراد ایسے ہیں جو مخیرین کی حیثیت سے ہمیشہ سماجی و فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ اسی طرح کئی حضرات وہ بھی ہیں جو دینی اور دنیاوی فلاح و بہبود کے لیے ہر وقت  مصروف رہتے ہیں۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف قابلِ تحسین ہے بلکہ ہمارے معاشرے کا ایک روشن اور مثبت پہلو بھی ہے۔

اگر ہم ترقی یافتہ ممالک کی طرف نگاہ دوڑائیں، تو ہمیں نظر آتا ہے کہ یورپ و امریکہ کے بیشتر گاؤں جدید سہولیات سے آراستہ ہیں۔ ہر گاؤں میں کھانے پینے کے لیے وسیع و عریض ریسٹورنٹ، علاج معالجے کے لیے جدید ہسپتال، شادی بیاہ کے لیے میرج ہال، تعلیم کے لیے معیاری کالج، اور کھیل و تفریح کے لیے اسٹیڈیم یا کھیل کے میدان موجود ہوتے ہیں۔ ان سہولیات کی دستیابی نے وہاں کے دیہی علاقوں کو بھی شہری ترقی کا ہم پلہ بنا دیا ہے۔

یہ منظرنامہ اگرچہ ہمارے گاؤں یا خطے کے دیہی علاقوں کے لیے بظاہر ایک خواب سا لگتا ہے، لیکن تاریخ شاہد ہے کہ مسلسل کوشش، عزم اور اخلاص کے ساتھ اگر کوئی قوم کسی خواب کو حقیقت میں بدلنے کی کوشش کرے تو اللہ تعالیٰ ضرور اس میں کامیابی عطا فرماتا ہے۔ البتہ یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ ہمارے گاؤں دیہات کو اس منزل تک پہنچنے کے لیے ابھی طویل سفر طے کرنا ہوگا، شاید کئی دہائیاں درکار ہوں۔

اس کے باوجود، امید کی کرنیں موجود ہیں۔ ہندوستان میں کئی دیہی علاقے، خصوصاً تمل ناڈو اور کیرالا جیسے ریاستوں کے گاؤں، ایسے ہیں جہاں آج بھی جدید طبی سہولیات میسر ہیں۔ وہاں ایسے ہسپتال قائم ہیں جہاں ہر طرح کے علاج حتیٰ کہ پیچیدہ آپریشن بھی بآسانی ممکن ہیں، اور مقامی لوگوں کو بڑے شہروں کا رخ نہیں کرنا پڑتا۔

اسی طرز پر اگر ہم اپنے گاؤں سملیا میں دستیاب مقامی وسائل، ڈاکٹروں، اور سماجی شخصیات کے تعاون سے ایک معیاری ہسپتال قائم کرنے کی سنجیدہ کوشش کریں، تو یہ ایک انقلابی قدم ہوگا۔ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ کسی مریض کو فوری علاج کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن پورنیہ یا کشن گنج جیسے شہروں تک لے جانے میں تاخیر کی وجہ سے قیمتی جانیں ضائع ہو جاتی ہیں۔ کبھی یہ تاخیر مالی تنگی کی وجہ سے، تو کبھی غفلت اور لاپروائی کے سبب ہوتی ہے۔

لہٰذا آج وقت کی اہم ترین ضرورت ہے کہ گاؤں میں ایک ایسا ہسپتال قائم کیا جائے جہاں کم از کم بنیادی طبی سہولیات، زچگی (ڈلیوری)، اور ابتدائی نوعیت کے آپریشنز ممکن ہو سکیں۔ اگر ہم اس ہدف میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یقیناً سملیا ایک مثالی گاؤں بن کر ابھرے گا اور ترقی کی نئی بلندیوں کو چھوئے گا۔

ہم اپنے گاؤں کے تمام اکابرین، اہل خیر، صاحبِ ثروت اور باشعور افراد سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس خواب کو شرمندۂ تعبیر بنانے کے لیے سنجیدگی سے غور کریں۔ اگر وہ اس کارِ خیر میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں، تو یہ نہ صرف موجودہ نسل کے لیے ایک بیش قیمت تحفہ ہوگا بلکہ آنے والی نسلیں بھی ان کو دعاؤں میں یاد رکھیں گی۔ اور قیامت تک ان کے اس عمل کی گونج گاؤں کے گلی کوچوں میں سنائی دیتی رہے گی۔


ہندوستانی مسلمانوں کے مسائل،قیادت کی خاموشی،اور مستقبل کے خدشات

آج ہندوستان میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے ساتھ جس طرزِ عمل کا مشاہدہ کیا جا رہا ہے، وہ نہایت تشویش ناک اور فکر انگیز ہے۔ متعدد مواقع پر ا...