جمعہ، 30 دسمبر، 2022

بچے مساجد سے دُور کیوں؟؟؟۔🤔

 *ہمارے بچے مساجد سے دُور کیوں۔۔۔۔۔🤔؟*


چھوٹا بچہ گھر میں جب امی اور ابو کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھتا ہے تو اس کے دل میں بھی ویسا کرنے کی خواہش جنم لیتی ہے۔ وہ بغیر کہے مصلے کے ساتھ آ کر کھڑا ہو جاتا ہے رکوع و سجود کی نقل اُتارتا ہے۔ بالکل سنجیدگی کے ساتھ ویسا ہی کرتا ہے جیسا وہ کرتے ہوئے دیکھتا ہے۔

 پھر وہ اپنے ابو کو مسجد میں جاتے دیکھتا ہے۔ وہ بھی چاہتا ہے کہ میں بھی ان کے ساتھ وہاں جاؤں اور بغیر کہے وہ پیچھے پیچھے مسجد چلا جاتا ہے۔ کبھی گھر سے کوئی نہ بھی جائے تو وہ خود مسجد پہنچ جاتا ہے۔ وہ دیکھنا چاہتا ہے کہ یہاں آ کر لوگ کیا کرتے ہیں یہاں لوگ جمع کیوں ہوتے ہیں؟

وہ مسجد آتا ہے لیکن اسے مسجد کے آداب کا علم نہیں ہوتا، وہ یہاں بھی گھر کی طرح دوڑتا بھاگتا ہے، شرارتیں کرتا ہے، کبھی اس صف میں جاتا ہے کبھی دوسری صف میں ، کبھی وضو خانے پر آ کر دوسروں کی طرح منہ ہاتھ دھوتا ہے، وہ بھی ٹونٹی کھولتا ہے اور ویسا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ضرورت سے زیادہ ٹونٹی کھول بیٹھتا ہے۔ کافی دیر تک ہاتھ پاؤں دھوتا رہتا ہے، کیونکہ اُسے ایسا کرنے میں مزا آتا ہے، اسے اچھا لگتا ہے وہ بھی دوسروں کی طرح ’’بڑے بڑے ‘‘ کام کرنا چاہتا ہے اور وہ ان تمام کاموں میں بالکل سنجیدہ ہوتا ہے۔ دل سے کرتا ہے اپنی طرف سے ٹھیک کرنے کی کوشش کرتا ہے اور دل میں خوشی محسوس کرتا ہے۔

لیکن ۔۔۔۔


کوئی بابا جی اُسے وضو خانے پر جھڑکتے ہیں۔

’’اوئے ادھر کیا کر رہے ہو‘‘ ۔

’’اتنی زیادہ ٹونٹی کیوں کھولی ہے؟‘‘ ۔

’’اتنی دیر سے پانی ضائع کر رہے ہو‘‘ ۔

’’چلو اُٹھو دفع ہو جاؤ یہاں سے ‘‘ ۔۔۔۔

بعض اوقات تو ہاتھ سے پکڑ کر، گھسیٹ کر اُسے وہاں سے نکال دیتے ہیں۔ بعض نا عاقبت اندیش اُسے کھینچ کر مسجد سے نکال دیتے ہیں۔ بعض مساجد کے بزرگ تو بچوں کو دیکھتے ہی اُن کے پیچھے پڑ جاتے ہیں اور جب تک وہ مسجد سے نکل نہیں جاتے یا اُن کی مرضی کے مطابق ٹک کر نہیں بیٹھتے اُنہیں چین نہیں آتا۔


کچھ نمازی تو ایسے ہیں کہ بچے دیکھ کر ہی غصے میں آ جاتے ہیں ۔ صف میں بیٹھے دیکھا تو قمیض سے پکڑ کر پیچھے کر دیا۔ کسی بچے کو باتیں کرتا دیکھا تو جا کر ایک تھپڑ لگا دیا۔ ’’بدتمیز یہ مسجد ہے چپ کرو‘‘ وہ نماز پڑھتے ہوئے ہل رہا تھا تو نماز کے دوران یا بعد میں سرعام تذلیل کر دی جاتی ہے۔

 جہاں دو تین بچے اکٹھے بیٹھے باتیں کرتے یا ہنستے دیکھے فوراً انہیں مسجد سے باہر نکال دیا جاتا ہے۔ کیونکہ مسجد کا ماحول ’’خراب‘‘ ہوتا ہے۔ وہ قرآن پکڑتا ہے تو چھین لیا جاتا ہے کہ چھوٹا بچہ ہے قرآن گرا دے گا۔ کوئی بچہ صاف ستھرا نہیں، تب بھی دھکے دے کر مسجد کے دروازے پر کر دیا جاتا ہے۔ دوران تراویح بچے لمبی نماز سے تھک کر بیٹھے یا ساری تراویح پڑھنے کی بجائے کوئی پڑھ لی کوئی چھوڑ دی تو اس پر کوئی صاحب انہیں گھوریں گے، منہ بنائیں گے، باتیں سنائیں گے، کوئی بازو سے پکڑ کر یا جھپٹ کر اُسے زبردستی نماز میں کھڑا کریں گے یا کہیں گے؛ نہیں نماز پڑھنی تو مسجد سے دفع ہو جاؤ۔ یا اے سی والے ہال سے نکال کر گرم صحن میں بھیج دیا جاتا ہے۔ یہی صوتحال خواتین کے ہال میں بچیوں کے ساتھ ہوتی ہے ۔۔۔۔

ان سب دُرشت رویوں ، گرم لہجوں، سخت غصے والے مزاجوں اور بچوں کے بے عزتی کرنے، ڈانٹنے ڈبٹنے اور مانے کا نتیجہ کیا نکلتا ہے؟

انہیں گھورنے، مارنے کے لئے دوڑنے اورگھسیٹنے کا انجام کیا ہوتا ہے؟ 

ہماری مساجد بچوں سے خالی رہتی ہیں حالانکہ انہی بچوں نے تو کل جواں ہو کر پختہ نمازی بننا تھا ۔۔۔ لیکن "افسوس ان غنچوں پر جو بِن کھلے مُرجھا گئے‘‘


دوسرا سبب مساجد کے قاری صاحبان ہیں کہ جن کے پاس بچے سپارہ / قاعدہ پڑھنے آتے ہیں ۔ اب یہاں بھی ’’نظم و ضبط‘‘ کا ’’عظیم مسئلہ‘‘ سامنے آتا ہے۔ کسی بچے کی پڑھنے کی غلطی نکلی نہیں اور ٹھاہ کر کے ڈنڈا، مکا یا چپت اس کے جسم پر لگی نہیں۔ خوف اور جبر کا ماحول! ہر غلطی پر سزا، ہر بار سبق یاد نہ ہونے پر بے عزتی اور مارکٹائی یا کم از کم سرعام ’’انعام‘‘ ۔۔۔

مجھے کتنے لوگ ایسے ملے کہ جنھوں نے کہا کہ میری بچپن میں خواہش تھی کہ میں عالم دین بنوں ، حافظ قرآن بنوں ، دین سیکھوں لیکن فلاں قاری صاحب کی وجہ سے میں ایسا متنفر ہوا کہ دوبارہ مسجد داخل نہیں ہوا۔

’’میں نے فلان بچے کی خوفناک پٹائی لگتے دیکھی اور میں وہاں سے بھاگ گیا۔

مجھ پر قاری صاحب کے رعب کی وجہ سے سبق یاد ہی نہیں ہوتا تھا یا یاد کیا ہوا بھی بھول جاتا تھا‘‘ ۔۔۔

قاریوں اور نمازیوں کے ان رویوں نے ہماری مساجد کو بے رونق کر رکھا ہے۔


رسول اللہﷺ کے دور میں کیا ہوتا تھا؟ مسجد نبوی میں کیا صورت حال تھی؟

 بچے تو ہر دور میں شرارتی رہے۔ بھاگنے دوڑنے، باتیں کرنے، اچھلنے کودنے والے۔ ابھی انہیں کیا پتا کہ مسجد کے آداب کیا ہیں؟مساجد میں آتے جاتے رہیں گے نمازیوں کو دیکھتے رہیں گے تو آہستہ آہستہ سب سیکھ جائیں گے کہ مسجد میں کس طرح رہا جاتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں بھی بچے ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ کبھی اس صف میں دوڑ کبھی اس صف میں کبھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر چڑھ گئے ۔ کبھی سجدے میں آپ ہیں تو آپ کی پیٹھ پر چڑھ کر کھیلنے لگے۔ کبھی منبر پر چڑھ گئے کبھی رونے لگے، کبھی کچھ ، کبھی کچھ۔ لیکن آپﷺ کا رویہ کیا تھا؟

سر سجدے میں ہے تمام صحابہ بطور مقتدی بھی سر بسجود ہیں۔ سجدہ طویل ہو گیا طویل سے طویل تر ۔ صحابہ کے دل میں مختلف خیالات آ رہے ہیں کہ آج اللہ خیر کرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سر سجدے سے کیوں نہیں اُٹھا رہے۔ بہت دیر بعد سر اُٹھایا، نماز مکمل کی، سلام پھیرا صحابہ کو متفکر پایا تو فرمایا؛ بات دراصل یہ تھی کہ ایک بچہ میری پیٹھ پر چڑھ کر کھیلنے لگا میں نے اُسے اُتارنا مناسب نہیں سمجھا جب وہ خود ہی اُترا تو پھر میں نے سر اُٹھایا ۔ کتنی عزت کتنا احترام مسجد میں نماز کے دوران بھی ایک بچے کے کھیل یا اُس کی شرارتوں کا !


بچے کے رونے کی آواز آتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز مختصر کر دیا کرتے تھے۔ لیکن یہ کبھی نہیں کہتے تھے کہ لوگو یا عورتو ! اپنے بچوں کو مساجد میں نہ لایا کرو۔ اس سے ہماری نمازیں خراب ہوتی ہیں ۔ کیا ہماری نمازوں کا خشوع و خضوع نبی کریم ﷺ یا صحابہ کرام کی نمازوں سے زیادہ ہے کہ جو کسی بچے کی آواز پر فوراً خراب ہو جاتا ہے۔ بلکہ آپ تو لوگوں کو کہتے کہ عورتوں کو مساجد میں آنے سے نہ روکو۔ اب عورتیں آئیں گی تو اُن کے ساتھ بچے بھی آئیں گے اور وہ ہنسیں گے بھی روئیں گے بھی ۔۔۔ تو کیا کیا جائے؟؟؟

برداشت کیا جائے ! اپنے اندر صبر و تحمل پیدا کیا جائے، لیکن ہم جوں جوں پہلی دوسری صف کے پختہ نمازی بنتے جاتے ہیں، ہمارا مزاج اتنا ہی سخت ہوتا چلا جاتا ہے، اتنا ہی تکبر آ جاتا ہے مزاج گرم ہو جاتا ہے۔ 

یہ کیسی عبادت ہے؟ اس کا نتیجہ تو دل کی نرمی کی صورت میں نکلنا چاہئے۔ اچھے اخلاق ، نرم گفتگو بچوں سے محبت کی شکل میں ظاہر ہونا چاہئے۔

 ہونا تو یہ چاہئے کہ ہم بچوں کو مساجد میں آنے کی ترغیب دیں۔ کوئی بچہ مسجد آئے اس کا استقبال کریں، اُسے گلے لگائیں، اُسے بوسہ دیں، اُسے اتنی محبت، اتنا پیار، اتنی عزت و احترام دیں کہ اُسے لگے کہ دنیا میں اس سے بہترین جگہ کوئی نہیں، ایسے اعلیٰ لوگ کہیں نہیں، اُس کی شرارتوں، غلطیوں ، باتوں، اچھلنے کودنے کو برداشت کریں اور کبھی سمجھائیں تو علیحدگی میں نرمی اور شفقت سے اسطرح کہ اُس کی عزتِ نفس محفوظ رہے، غصے کی بجائے مسکرائیں اور اُنھیں دیکھ کر اپنے بچپن کو یاد کریں کہ ہم سب بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ بچے شیطان نہیں ہوتے بلکہ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہیں۔ ناداں ہوتے ہیں، گناہوں سے پاک لیکن ناتجربہ کار ہوتے ہیں۔ وہ ہمیں دیکھ کر کچھ سیکھنا چاہتے ہیں، وہ آگے بڑھنا چاہتے ہیں، وہ ان مساجد سے جڑیں گے تو کل زندگی کے کسی بھی شعبے میں جائیں گے تو مساجد کو اعلیٰ مقام دیں گے، مساجد کے اماموں قاریوں کو عزت دیں گے، علماء کا احترام کریں گے، بلکہ خود بھی عالم بنیں گے۔

 وہ دنیا کے دیگر اداروں کی بجائے مساجد کو بنیادی مقام دیں گے۔

اکثر بچوں کو تو کئی سال اور بڑا ہونے پر علم ہوتا ہے کہ انھوں نے کیا غلطی کی تھی جس کی وجہ سے انھیں مسجد میں بے عزت کیا گیا ۔ حقیقت یہ ہے کہ جس وقت بچوں کے ساتھ ایسا سلوک ہوتا ہے تو وہ بے خبر ہوتے ہیں کہ انھوں نے کیا غلط کیا نہ ہی انھیں کوئی سمجھاتا ہے۔ ایک دوبار سمجھانا بھی کافی نہیں ہوتا بلکہ دس بار سمجھانا بھی نہیں !!! بس اپنے عمل اور ماحول سے سمجھائیں وہ خود بخود اندازہ لگائے کہ یہاں کا ماحول مختلف ہے اور یہاں مجھے کیسے آنا جانا ہے اور کیا کس طرح کرنا ہے؟

نبی اکرم ﷺ نے بچے تو درکنار کسی بڑے انسان کے مسجد میں پیشاب کرنے کو بھی برداشت کیا اور لوگوں کو اُسے مارنے یا ڈانٹنے سے منع کیا ۔ پھر اُسے بلا کر شفقت سے سمجھایا کہ مساجد نماز کی ادائیگی کے لئے ہوتی ہیں نہ کہ ایسے کاموں کے لئے ، وہ اس سلوک سے اتنا متاثر ہوا فوراً کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو گیا۔

کیا آج ہم کسی غیر مسلم کے لئے اپنی مساجد میں اتنی برداشت اور حوصلہ رکھتے ہیں؟ کم از کم مسلمان بچوں کے لئے تو پیدا کریں۔

میرے خیال میں تو بچے مساجد میں اگر پیشاب یا پاخانہ بھی کر دیں تو اس پر ہنگامہ کھڑا نہ کریں اور نہ ان کے والدین کو شکایات لگائیں کہ انھوں نے بچوں کو مسجد میں کیوں بھیجا۔ سکول اپنے کاروبار کے لئے اڑھائی تین سال کے بچے کو برداشت کرتا ہے۔ اُن کے لئے آیا یا ماسی کا بندوبست کرتا ہے ۔ انھیں ہر صورت صاف ستھرا رکھتا ہے۔ پیمپرز کا بندوبست رکھتا ہے یا کم از کم والدین کے تعاون سے اسے سر انجام دیتا ہے اور اس کی کوشش ہوتی ہے کہ باوجود اس تمام تکالیف کے زیادہ سے زیادہ بچے سکول میں آئیں۔ یہی وجہ ہے کہ سکول بچوں سے بھرے ہوئے ہیں، کلاسز میں جگہ نہیں لیکن مساجد؟ مساجد کی صفائی ستھرائی کے لئے ہم خرچ کرتے ہیں ایک اور صفائی والے آدمی کا خرچہ برداشت کر لیں تو ہماری نئی نسلیں نمازی بن سکتی ہیں۔

جب سے ہماری مساجد میں قیمتی قالین بچھانے اور شیشے والی کھڑکی اور دروازوں کا رجحان پیدا ہوا ہے اس وقت سے مساجد کی انتظامیہ بچوں کے حوالے سے اور زیادہ حساس ہو گئی ہے۔ انھیں ہر وقت یہ خدشہ رہتا ہے کہ بچے قیمتی قالین خراب کر دیں گے۔ شیشے والے دروازے ٹوٹ سکتے ہیں۔ ہم یہ سوچ لیں کہ بچے زیادہ قیمتی ہیں یا قالین؟ بچوں کی تربیت زیادہ ضروری ہے یا شیشوں والے دروازوں کی حفاظت؟ 

  آئیے مساجد اور اپنے دلوں کے دروازے بچوں کے لئے کھول دیجیئے۔

 یہی ہماری اور آپ کی ذمہ داری ہے۔۔۔۔


بدھ، 28 دسمبر، 2022

خوف و معرفت


 ❁◐••┈┉•••۞═۞═۞═۞═◐•••┉┈••◐❁


    🔹 *خوفِ الٰہی بھی معرفت کا نتیجہ ہے* 🔹



  امام جلال الدین رومی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ ایک آدمی سفر پر نکلا ، جنگل میں چلتا رہا ، جنگل میں بہت دور چلنے کے بعد اُسے تھکان ہوئی اور تھکان کی وجہ سے نیند غالب ہوگئی ، اس نے سوچا کہ کہیں آرام کرلوں ؛ لیکن آرام کرنے کی اس لئے ہمت نہیں ہوئی کہ جنگل کا راستہ ہے جنگل کے راستے میں کیسے آرام کروں ؟ سوچتا رہا کہ کوئی چیز مجھے ایسی مل جائے ؛ جس کی وجہ سے مجھے کچھ سہارا مل جائے ، تو میں آرام کرلوں ، بہت آگے جانے کے بعد دیکھا کہ ایک جانور سویا ہوا ہے ، اس نے کہا کہ بہت اچھا ، یہ کوئی جانور سو رہاہے ، میں بھی اس کے بازو سو جاؤں ۔ 

چنانچہ جانورکے بازو ، وہ بھی جاکر لیٹ گیا ، نیند کا اتنا غلبہ تھا ، تھکان ایسی تھی کہ زمین پر پڑتے ہی نیند لگ گئی ، کچھ دیر بعد اسی راستے سے ایک دو آدمی آرہے تھے ، پیچھے سے آتے آتے جب وہ وہاں پہنچے ، تو ایک عجیب منظر انھوں نے دیکھا کہ ایک انسان سویا ہوا ہے اور اس کے بازو جو جانور سویا ہوا ہے ، وہ حقیقت میں شیر ہے ، یہ لوگ بہت پریشان ہوئے کہ کہیں یہ شیر جاگ نہ جاۓ اور اس بے چارے کو کھا نہ جائے ۔ انھوں نے آہستہ سے سونے والے کو آواز دی اور جگایا ، جب وہ جاگا تو ان لوگوں نے اس سے کہا کہ کہاں سوئے ہو ؟ وہ تمھارے بازو شیر ہے شیر ! ! بس جناب اتنا سنتے ہی وہ گھبرایا پریشان ہوا اور ڈر کے مارے اس کی جان نکل گئی اور مرگیا ۔ 

اس سے معلوم ہوا کہ خوف بھی معرفت و پہچان کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے ، اگر معرفت و پہچان نہ ہو ؛ تو خوف نہیں آسکتا ، جب پہچان ہوگی ؛ تو خوف آجائے گا ۔ 


دیکھیے ! جب تک اسے شیر کی معرفت و پہچان نہیں تھی ، تو اس پر شیر کا خوف بھی پیدا نہیں ہوا ، جیسے ہی شیر کی معرفت حاصل ہوئی ، تو اس کا خوف بھی پیدا ہوا اور وہ مرگیا ۔ اسی طرح جب اللہ کی پہچان انسان کو ہوجاتی ہے کہ اللہ کتنا بڑا اور زبردست ہے ، کتنی بڑی طاقت والا ہے ؟ وہ کیا سے کیا کرسکتا ہے ؟ جب یہ پہچان اللہ کی انسان کو ہوگی ، تو ایسا نہیں ہوسکتا کہ اس کے دل کے اندر کوئی ہلچل نہ مچے اور اس کی وجہ سے اس کے دل میں اللہ کا خوف پیدا نہ ہو ۔ 


➖➖➖➖➖➖➖➖➖


منگل، 27 دسمبر، 2022

_اب بتاؤ کون نہائے گا😍🤗🤣🤣

 _اب بتاؤ کون نہائے گا😍🤗🤣🤣


کالــــج اسٹوڈنٹ کے ایکــــــــ گروپ نے وکیل صاحب سے پوچھا۔

سر ! ھمارے ملک میں وکالت کے کیا معنی ہیں ؟🤔

وکیل صاحب نے کہا 

میں اس کے لئے ایکــــــــ مثال دیتا ہوں ہوں۔😊


مان لو کہ میرے پاس دو آدمی آتے ہیں۔ ایکــــــــ بالکل صاف ستھرا اور دوسرا بہت گندہ ہے۔ اب میں ان دونوں کو صلاح دیتا ہوں کہ وہ دونوں نہا کر صاف ستھرے ہو جائیں۔

*اب آپ لوگ بتائیں کہ ان

*میں سے کون نہائے گا ؟🙄


ایکــــــــ اسٹوڈنٹ نے کہا۔ جو گندہ ھے وہ نہائے گا۔

وکیل نے کہا۔ نہیں صرف صاف آدمی ہی نہائے گا کیونکہ کہ اسے صفائی کی عادت ہے جب کہ گندے آدمی کو تو صفائی کی اہمیت ہی نہیں معلوم۔😊


*وکیل اب بتاؤ کون نہائے گا ؟🤔


دوسرے اسٹوڈنٹ نے کہا صاف آدمی۔🤗


وکیل نے کہا۔ نہیں گندہ شخص نہائے گا کیونکہ کہ اسے صفائی کی ضرورت ہے 

*اب بتاؤ کون نہائے گا؟🤔


دو اسٹوڈنٹ ایکــــــــ ساتھ بولے جو گندہ ہے وہ نہائے گا😍


وکیل نے کہا۔ نہیں دونوں نہائیں گے کیونکہ صاف آدمی کو نہانے کی عادت ہے اور گندے آدمی کو نہانے کی ضرورت ہے ے۔

*اب بتاؤ کون نہائے گا ؟🤔


سب اسٹوڈنٹ ساتھ بولے جی دونوں نہائیں گے۔🤗


وکیل نے کہا ، غـــــــلط ! کوئی بھی نہیں نہائے گا کیونکہ گندے کو نہانے کی عادت نہیں اور صاف آدمی کو نہانے کی ضرورت نہیں۔

*اب بتاؤ کون نہائے گا ؟🤔


ایکــــــــ اسٹوڈنٹ نے بہت نرمی سے کہا سر آپ ھر بار الگ الگ جواب دیتے ہیں اور ھر جواب صحیح معلوم پڑتا ہے تو ہمیں صحیح جواب کیسے معلوم ہو گا ؟🙄


وکیل صاحب بولے بس یہی وکالت ہے۔ اہم یہ نہیں کہ حقیقت کیا ھے بلکہ اہمیت اس بات کی ہے کہ آپ اپنی بات کو صحیح ثابت کرنے کے لئے کتنی ممکنہ دلیل دے سکتے ہیں! 😊

کیا سمجھے؟ 

نہیں سمجھے؟ 

یہی وکالت ہے! 

*تو اب بتائیں کون نہائے گا ؟😜😁😂😂😂

احمد اللہ سعیدی عارفی




اتوار، 11 دسمبر، 2022

12 December और Indira Gandhi


 आज ही के दिन, ऐतिहासिक 12 दिसंबर 1971 को भारत की जांबाज लौह महिला इंदिरा गांधी ने देशभर के 500 से अधिक राजे रजवाड़ों के मुफ्त के पेंशन, प्रीवी पर्स को समाप्त कर दिया था। उनकी मुफ्तखोरी खत्म कर दी थी। मामूली रजवाड़ों को भी 10 लाख रुपए से अधिक की पेंशन प्रतिमाह मिलती थी। यह पेंशन उनको साल 1950 से मिलती थी। करोड़ों की पेंशन, भारत सरकार मजबूरन गरीबों के खून को चूस कर देती थी । लेकिन इंदिरा गांधी ने बहादुरी पूर्वक उसे एक झटके से भी बंद कर दिया। तब बौखलाए इन्हीं राजे रजवाड़ों ने अपनी ताकत वापस पाने के लिए बड़े बनियों के साथ मिलकर भाजपा की स्थापना 1980 में कराई। जनता को धोखा दिग्भ्रमित करते हुए आखिरकार भाजपा को शासन में ला दिया।अब पुनः निजीकरण के रास्ते अपनी सत्ता पुनः वापस पा रहे हैं।

-:Real fact, real picture: -

 Real fact, real picture --



इंदिरा की भूल से ही खिला देश में कमल का फूल --


भाइयों और बहनों,

      भले यह बात आपको बुरी या भली लगे, लेकिन यह बात सच है कि इंदिरा गांधी ने जिस दिन देशभर के सभी राजे राजवाड़ा की सरकारी शाही रैली यानि प्रीवी पर्स को बंद किया ,

   उसी दिन से सारे रजवाड़े, धन्ना सेठ ,बड़े मारवाड़ी याने बनिया वर्ग पुरी तरह इंदिरा गांधी और कांग्रेस के खिलाफ हो गए।

  वे सारे पूरी तरह एकजुट होकर तन मन धन से कांग्रेस को बदनाम करा लगे और उसकी सरकार को गिराने में लग गए।

   जिन शासकों और रजवाड़ों की शाही थैली , उस सस्ती के दौर में सालाना मिलने वाले लाखों रुपए कांग्रेस सरकार ने वर्ष 1971 में बंद किया उसमें सबसे ज्यादा गुजरात के ही थे । 

   अंग्रेजों ने जब भारत छोड़ा तभी राजे रजवाड़ों ने इसका विरोध किया और अपने जीवन निर्वाह शासन के लिए पेंशन की मांग की । अंग्रेजों के हस्तक्षेप के कारण तत्कालीन भारत सरकार ने उनको पेंशन में याने थैली , प्रीवी पर्स देना मंजूर किया।

   इंदिरा गांधी ने जब उनको थैली बंद की, तब उस समय बड़ौदा के पूर्व राजा फतेह सिंह गायकवाड के नेतृत्व में राजाओं का एक बड़ा संगठन बना।  जो सीधे कांग्रेस और इंदिरा गांधी के विरोध में उतर आया । चूंकि इन निठल्ले, निष्क्रिय राजाओं को बैठे-बिठाए हर साल ₹10 लाग से अधिक की धनराशि, उस सस्ती के दौर में मिल जाती थी। 

    इसलिए इन लोगों ने कांग्रेस को उखाड़ने के संकल्प के साथ काम करना शुरू कर दिया । कांग्रेस के खिलाफ दुष्प्रचार शुरू कर दिया और इसके लिए उन्होंने आम जनता के बीच भी पैसे बांट कर अपने एजेंट बनाए।

  सरकारी दस्तावेजों के मुताबिक उस समय सिर्फ गुजरात के ही 83 शासकों को शाही थैली मिल रही थी।

    यह थैली बंद होने से उनको 81 लाख रूपए की आमदनी से हाथ धोना पड़ा। मध्य प्रदेश के 59 पूर्व राजाओं को भी यही थैली मिलती थी। भोपाल के राजमहल में इस सरकारी पैसे से 30 फोन कनेक्शन लगाए हुए गए थे ।

  जयपुर ,ग्वालियर ,जोधपुर उदयपुर के राजघरानों को 10, 10 लाख रुपए मिलते थे। जबकि मैसूर के राजा को 26 लाख, त्रावणकोर के राजा को 18 लाख, पटियाला के राजा को 17 लाख और हैदराबाद के निजाम को 20 लाख रुपए की थैली, उस दौर में मिलती थी।

   बावजूद उसके इन लोगों ने ध्रांगधरा के पूर्व राजा मयूर सिंह तृतीय के नेतृत्व में अपनी रियाया को भड़का कर  विद्रोह किया ।

  इसके कारण तत्कालीन राष्ट्रपति वीवी गिरी को सभी राजाओं, महाराजाओं की मान्यता रद्द करनी पड़ी और इंदिरा गांधी को शाही थैली बंद करना पड़ा।

   इसके बाद सभी राजा महाराजा ने देश विरोधी ताकतों के साथ मिलकर भारत में आंतरिक उथल-पुथल विद्रोह, बगावत करवाना शुरू कर दिया।

   विपक्षी दलों , विरोधी संगठनों को पैसे देकर उनकी फंडिंग करके आंदोलन करवाए। लाचार होकर इंदिरा गांधी को इमरजेंसी लगानी पड़ी।  उस इमरजेंसी को भी इन रजवाड़ों ने काफी बदनाम करवाया।

  इमरजेंसी के बाद समाजवादी दलों की पूंछ पकड़कर इन राजे राजवाड़े ने दक्षिणपंथी संगठनों का साथ लेकर कांग्रेस विरोधी मुहिम शुरू कर दी और सत्ता तक पहुंच गए।

   जनता में अपनी स्वीकार्यता बढ़ाई। बाद में जयप्रकाश नारायण ने भी यह भूल स्वीकार की कि उनको संपूर्ण क्रांति के आंदोलन में इन दक्षिणपंथी लोगों , अंग्रेजों के दलालों को शामिल नहीं करना चाहिए था । लेकिन तब तक बहुत देर हो चुकी थी।

   वर्ष 1980 में इंदिरा गांधी के दोबारा सत्ता में आने के बाद से बौखलाए लूटेरा बनिया वर्ग, राजा राज वाड़ो ने मिलकर भाजपा की स्थापना की, क्योंकि पुराना संगठन जनसंघ बिल्कुल बेकार हो गया था । जनता में उसकी कोई स्वीकार्यता नहीं थी।

    इसलिए पुराने जनसंघ को नए ढंग से रीलॉन्च करके उसे भाजपा का रूप दिया गया। तब से निरंतर उसको फंडिंग करके यह राजे रजवाड़े, कारपोरेट घराने मजबूत करते रहे हैं।

   इंदिरा गांधी से यही गलती हुई थी कि उन्होंने इन माफिया तत्वों, राजा रजवाड़ों पर पूरा नकेल नहीं कसी। लोकतंत्र के नाम पर इनको बोलने, घूमने, संगठन बनाने, सभा सोसाइटी करने की पूरी आजादी दे दी।

   अगर इंदिरा जी उन पर पूरा अंकुश लगाए रखती तो उनका सिंडिकेट नहीं बनता और वह सारे कारोबारी मिलकर देश विरोधी तत्वों से सांठगांठ करके उनकी हत्या नहीं करवा देते ।

  हत्या के बाद दुर्भाग्य से कांग्रेस का नेतृत्व कमजोर अनुभवहीन हाथों में चला गया।  इससे सभी राजे रजवाड़े पुनः गोलबंद होकर सक्रिय हो उठे। दक्षिणपंथी विचारधारा को मजबूत करने लगे । राष्ट्रवाद के नाम पर बनियावाद को मजबूत किया और आतंकवाद, हिंदुत्व आदि के नाम पर लोगों को धोखा देते हुए अपनी सरकार भी बना ली।

   वास्तव में यह तमाम धन्ना सेठ, राजे रजवाड़े अपनी थैली को बंद करने के अलावा बैंकों के राष्ट्रीयकरण से भी नाराज थे। क्योंकि इन दोनों कदम से उनका पूरा पावर चला गया था। इसलिए उन्होंने कांग्रेस को उखाड़ने के लिए अपनी पूरी पूंजी लगा दी । पूरी शक्ति लगा दी। सभी विपक्षियों की वह फंडिंग करते रहे।

   जॉर्ज फर्नांडिस के रेल आंदोलन से लेकर हर बड़े आंदोलन के पीछे इन्हीं रजवाड़ों की पैसे की ताकत होती थी। दरअसल, अपनी हुकूमत पाने के लिए, अपनी ताकत पाने के लिए इन बनियों , राजे रजवाड़ों ने कांग्रेस को जमकर बदनाम किया। आज तक हुए कर रहे हैं । राहुल गांधी को पप्पू कह रहे हैं । इसलिए इन लोगों ने मिलकर आज भी दिल्ली में पुनः अपनी कठपुतली सरकार बिठा ली है और बारी बारी से सार्वजनिक संपत्तियों को खरीदने जा रहे हैं। लोकतंत्र को खत्म कर, वापस राजतंत्र लाते जा रहे हैं।

  50 के दशक से ही ग्वालियर का राजघराना, सिंधिया परिवार, विजय राजे सिंधिया शुरू से ही दक्षिणपंथी विचारधारा यानी भाजपा की फंडिंग करती रही।


अहमदुल्लाह सइदी आरफी 

پیر، 5 دسمبر، 2022

مسواک کے فائدے اور آداب

 

🌹 سبق آموز تحریر 🌹

*✨ مسواک  کے فائدے اور آداب۔*


```مِسواک  اللہ کے پیارے حبیب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بہت  پیاری  سنّت  ہے۔ اچّھی اچّھی نیّت کے ساتھ مِسواک   کی   سنّت  پر  عمل   کرنا  نہ صرف اجر و ثواب کے حصول کا ذریعہ ہے    بلکہ    اس کی   بَدولت دنیا  کے متعدّد فائدے بھی حاصل ہوتے ہیں۔

آئیے!  مسواک کے چند فوائد و آداب پڑھئے  اور  فوائد پانے  اور آداب پر عمل  کی  نیّت   فرمائیے۔ دو فرامینِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم:

1) دو  رَکْعَت  مِسواک کر کے پڑھنا بِغیر مِسواک  کی  70 رَکْعتوں  سے اَفضل  ہے۔
(الترغیب والترھیب ،ج1، ص102، حدیث: 18)

2) مِسواک کا اِستعمال اپنے لئے لازِم کر لو  کیونکہ یہ منہ کی صفائی اور ربّ  کی رِضا   کا  سبب  ہے۔
(مسندِ امام احمد ،ج2، ص438، حدیث: 5849

✨ حضرتِ سیِّدُنا ابنِ عبّاس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ مِسواک میں  دس (10) خوبیاں ہیں:

منہ         صاف     کرتی ،  مَسُوڑھے کو مضبوط بناتی ہے، بینائی بڑھاتی، بلغم  دُور کرتی ہے،  منہ کی بدبو ختم کرتی، سنّت کے مُوافِق ہے، فرشتے خوش ہوتے ہیں، ربّ راضی ہوتا ہے، نیکی بڑھاتی اور معدہ   دُرُست  کرتی ہے۔
(جمع الجوامع، ج5، ص249، حدیث: 14867)

✨ حضرت  سیِّدُنا   امام   شافِعی رحمۃ اللہ علیہ          فرماتے ہیں:

چار چیزیں عَقْل بڑھاتی ہیں: فُضُول باتوں  سے  پرہیز ، مِسواک  کا استِعمال، نیک لوگوں کی صحبت  اور   اپنے علم پر عمل کرنا۔
(حیاۃ الحیوان ، ج2، ص166)

✨ مِسواک سے متعلق  چند  آداب:

ہو سکے تو  اپنے کُرتے میں سینے پر دائیں بائیں دو جیب بنوایئے اور دل کی جانب   (یعنی left Side والی) جیب کے برابر  میں مسواک رکھنے  کیلئے    ایک     چھوٹی سی جیب  بنوا لیجئے۔ یوں پیارے آقا  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم    کی پیاری پیاری  سنّت  مسواک شریف گویا  سینہ  اور دل سے لگی رہے گی۔

مسواک کو کھڑا کرکے رکھنا سنّت ہے۔
(مراٰۃ المناجیح،ج 1،ص372ماخوذاً)

اگر اسے کھڑا نہیں کرتے یونہی نیچے گِرادیتے ہیں تو ایسا کرنے والے کے لئے جنون (یعنی پاگل پن) کا خطرہ ہے۔

✨ تابعی بزرگ حضرت سیّدنا سعید بن جُبَیر  رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:

جو  مسواک   کو   زمین   پر رکھے  اور  مجنون  (یعنی پاگل) ہوجائے  تو   اپنے علاوہ    کسی کو ملامت  نہ  کرے۔
(مسواک کے فضائل،ص30)

جس طرح دینی کتاب کو  زمین پر رکھنا  ادب کے خلاف ہے اسی طرح مسواک کو بھی زمین  پر  نہ   رکھا جائے۔

مسواک کو اونچی جگہ جہاں مٹّی کچرا وغیرہ نہ ہو لِٹا کر رکھنے میں حرج نہیں۔

مستعمَل  (یعنی استعمال شدہ، Used) مِسواک کے رَیشے نیز جب مِسواک ناقابلِ اِستعمال ہوجائے تو اسے پھینک مت دیجئے کہ یہ آلۂ ادائے سنّت ہے، کسی جگہ اِحتیاط سے رکھ دیجئے یا دَفْن کردیجئے یا پتھر وغیرہ  کسی بھاری چیز   کے ساتھ  باندھ کر  سمندر  میں   ڈبو دیجئے۔

 ایک حل یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مسواک کے ریشے یا مستعمَل مسواک اس طرح کے کسی ڈبہ  وغیرہ  میں ڈال دی جائے۔

اللہ کریم ہمیں ادائے سنّت  کی نیّت سے مسواک کو اپنانے اور دوسروں کو اس کی ترغیب دلانے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم```

از :- احمد اللہ سعیدی عارفی

جمعہ، 2 دسمبر، 2022

-:निकाह:-

 *✍🏼 निकाह* के नाम पर शादी तुम करो और दो तीन सौ बरातियों के खाने का ख़र्चा लडकी के माँ- बाप उठाऐ ।

यह कौन सी *सुन्नत* है 

कौन सा *इस्लाम* है ?


✅ मेहर तुम देते नहीं, 

उधार रखकर माफ़ करवा कर हक़ मारना यह कौन सी *सुन्नत* है 

कौन सा *इस्लाम* है ?


✅ शुरुआती सात महीने तक बीवी से पूरे खानदान की नौकरी करवा कर उसे खिदमत का नाम देकर जब डिलिवरी का वक़्त करीब आए तो उसे फिर "मायके" छोड़ आना कौन सी *सुन्नत* है 

कौन सा *इस्लाम* है ?


✅ ज़्यादातर डिलिवरी सिजेरियन ऑपरेशन से हो रही हैं, पैदा होने वाला बच्चा तुम्हारा और उसका ख़र्चा लड़की के माँ-बाप उठाये यह कौन सी *सुन्नत* है 

कौन सा *इस्लाम* है ?


👉🏼 *लोगों* यह डाकुओं और लुटेरों वाली आदतें अपने आप में से निकालो और सुधर जाओ,

और क़ौम के हर तबक़े और हर मां बाप को चाहिए कि वह बारातियों को खाना खिलाने का रिवाज बंद करें और लड़के वालों को भी चाहिए कि वो लड़की के वालिदैन से बकवास फ़रमाइशें बंद करें !!


✅ मेहर लड़की का हक़ है जिसे लड़की खुद तय करे या फिर वो बाप भाई में से जिसे जिम्मेदारी दे वो तय करे, 

जहां तक हो सके मेहर को नकद तै करे


 ✅ लड़के वालों को भी चाहिए कि वो भी कोशिश करें कि मेहर हाथों हाथ लड़की को दे दें, 

मेहर पर सिर्फ ओर सिर्फ लड़की का हक़ होता है वो जो चाहे वो करे जिसे चाहे उसे दे !!


✅ मेहर अदा करने के बाद मेहर की रकम पर लड़के का या लड़के के घर वालों का कोई हक नहीं !!


*आइये हम अहद करें, कि हम अपने बेगैरती के लिबास पर ग़ैरत की चादर डाल कर शादियों के नाम पर होने वाले तमाम फ़ुज़ूल के कामों को रोक कर निकाह को आसान और ज़िंदगी को ख़ुश गवार बनाएंगे और यह भी तय करें कि हमारी वजह से कोई लड़की किसी बाप पर बोझ न बने* !! 

जरुर ग़ौर करें।

अहमदुल्लाह सइदी 

#ahmadullahsaeedi




جمعرات، 1 دسمبر، 2022

-:ضلع کشن گنج:-

 🌷 ضلع  کشن گنج  🌷



ریاست بہار  کے  سیمانچل منطقہ کے  ضلع  کشن گنج  کا  قیام 14/جنوری 1990ء میں عمل میں آیا ____  ضلع کے  ہیڈکواٹر  کا  نام  بھی  کشن گنج  ہے.

ضلع کا رقبہ  1880  اسکوائر    کیلو میٹر ہے.  جو  سات تحصیل (Block) اور   731   گاؤں   (villages)     پر مشتمل ہے.

2011 کی مردم شماری   (census) کے  مطابق  ضلع   کی      جملہ آبادی  1690948  ہے  _______  ضلع   کی مسلم آبادی   1149095  ہے     جو کل آبادی   کا  % 68  ہے ____     یہ ریاست کا  واحد مسلم اکثریتی ضلع ہے. شرح خواندگی (literacy rate) 

صرف  % 57  ہے _    ضلع    کا  ایک لوک سبھا حلقہ    اور    چھ اسمبلی حلقے ہیں، جو  پارلیمنٹ اور  ریاستی اسمبلی میں   مسلم نمائندگی     کو  یقینی  بناتے ہیں.

ضلع کشن گنج  کے مغرب میں  ضلع ارریہ  اور  ضلع کے جنوب مغرب میں ضلع  پورنیہ  ہے   __ اس کے   مغرب میں  ریاست مغربی بنگال  کا   ضلع اتردیناجپور   اور  اس کے شمال میں ضلع دارجلنگ اور پڑوسی ملک نیپال واقع ہے.

ضلع   کے     اہم      دریا    (rivers) مہانندا                 (Mahananda) کن کئی                         (Kankai) میچھی (Mechi) رتوا     (Ratua) ڈونک (Donk) رمضان (Ramzan) ہیں. _____

ضلع  میں خوب  بارش  (Yağmur) ہوتی ہے __ مئی (May) کے    مہینہ سے  بارش  شروع ہو جاتی ہے _ جو اکتوبر  کے ختم  تک  جاری  رہتی ہے ___ ویسے زیادہ بارش جون تا ستمبر میں ہوتی ہے __ ہر سال خوب بارش ہوتی ہے _ جس کی وجہ سے پینے کے پانی اور  آبپاشی  (irrigation)   کا مسلہ نہیں  ہے __  مگر   سیلاب   کا مسلہ  ضرور  ہے، جو  چھوٹے     اور میڈیم سائز کے  ڈیم (Dam) بنا کر حل کیا جا سکتا ہے. اس سے سیلاب کا  مسلہ حل ہوگا_______ ساتھ ہی آبپاشی کے لئے مزید پانی حاصل ہوگا __ ان مسائل کے حل کے لئے مضبوط قوت ارادی    اور      سیاسی طاقت ضروری ہے.


ریاست بہار کے واحد مسلم اکثریتی ضلع کشن گنج کے ہر مسلمان کو  یہ جاننا اور ماننا ضروری ہے کہ اس کی مادری زبان    (mother  tongue) صرف   اور    صرف     اردو    ہے __ 2021ء  کی  عنقریب       آنے  والی مردم شماری (census) کے موقع پر مادری زبان  (mother  tongue)کے کالم  میں  صرف  اور  صرف     اردو لکھانا   بہت  ضروری  ہے.

اردو   مادری زبان  لکھانے    والے ہی  اردو آبادی    (urdu  population) میں شمار ہوتے ہیں __ اور اسی بنیاد پر    دستوری    اور   قانونی   حقوق حاصل ہوتے ہیں. __ ضلع  میں  اردو کو  دوسری  سرکاری  زبان کا  درجہ حاصل ہے، جو کہ  سراسر  ناانصافی ہے __

اردو والوں  کے لئے لازم  ہے کہ پہلے اپنی مادری زبان اردو  لکھا کر ثابت کریں کہ   ضلع   کی    غالب اکثریت  اردو آبادی (urdu  people) کی ہے. جس کی بنیاد پر اردو ضلع کی  پہلی سرکاری زبان   بن  سکتی ہے __   یا  کم از کم   ضلع  کو   دو لسانی  ضلع  قرار  دیا  جا سکتا ہے  ___  جس کی رو سے ضلع کا سارا سرکاری کام کاج  ہندی  کے  علاوہ  اردو زبان  میں  ہو سکتا ہے __ اس کے علاوہ  اردو زبان روزگار  سے جڑے گی __ ضلع کے آٹھ سو گاؤں  میں سرکاری   اردو میڈیم اسکولس  کھل سکتے ہیں__     جو  اردو آبادی کو  روزگار  کی فراہمی کا ذریعہ  بن  سکتے ہیں ___

اس کے علاوہ  اردو میڈیم  اسکولس  نئی نسل  کو   اردو زبان   اور   اردو تہذیب  سے  جوڑنے کا  کام کریں گے.


اس میں کوئی شک نہیں کہ  مسلمان اصلی مقامی باشندے (indigenous people) ہونے کی وجہ سے  مقامی زبان  میتھلی     (Maithili)       اور  سورجاپوری  (Surjapuri)     زبانیں بھی جانتے ہیں __ مگر  ان زبانوں کو  اپنی مادری زبان  لکھانے  سے    اردو زبان کا  شدید نقصان ہوتا ہے __ اور اردو زبان دستوری اور قانونی حقوق سے  محروم  ہو جاتی ہے.

بہتر تو  یہی ہے کہ ہر مسلمان  اپنی مادری زبان کے کالم میں  صرف اردو لکھائیں __  دوسری اور تیسری زبان کے طور پر  جو  مناسب    سمجھیں، لکھا سکتے ہیں. __ اس سلسلے میں ابھی سے  آنے والی مردم شماری  کے لئے  شعور بیدار  کریں.

********************

-: दज्जाल विरोधी प्रदर्शन की लहर :-

 -: दज्जाल विरोधी प्रदर्शन की लहर :- इज़राइली नौसेना की ओर से ग़ज़ा के लिए रवाना होने वाले "असतूल अल-समूद" को रोकने और उसकी कई नौक...