❁◐••┈┉•••۞═۞═۞═۞═◐•••┉┈••◐❁
🔹 *خوفِ الٰہی بھی معرفت کا نتیجہ ہے* 🔹
امام جلال الدین رومی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ ایک آدمی سفر پر نکلا ، جنگل میں چلتا رہا ، جنگل میں بہت دور چلنے کے بعد اُسے تھکان ہوئی اور تھکان کی وجہ سے نیند غالب ہوگئی ، اس نے سوچا کہ کہیں آرام کرلوں ؛ لیکن آرام کرنے کی اس لئے ہمت نہیں ہوئی کہ جنگل کا راستہ ہے جنگل کے راستے میں کیسے آرام کروں ؟ سوچتا رہا کہ کوئی چیز مجھے ایسی مل جائے ؛ جس کی وجہ سے مجھے کچھ سہارا مل جائے ، تو میں آرام کرلوں ، بہت آگے جانے کے بعد دیکھا کہ ایک جانور سویا ہوا ہے ، اس نے کہا کہ بہت اچھا ، یہ کوئی جانور سو رہاہے ، میں بھی اس کے بازو سو جاؤں ۔
چنانچہ جانورکے بازو ، وہ بھی جاکر لیٹ گیا ، نیند کا اتنا غلبہ تھا ، تھکان ایسی تھی کہ زمین پر پڑتے ہی نیند لگ گئی ، کچھ دیر بعد اسی راستے سے ایک دو آدمی آرہے تھے ، پیچھے سے آتے آتے جب وہ وہاں پہنچے ، تو ایک عجیب منظر انھوں نے دیکھا کہ ایک انسان سویا ہوا ہے اور اس کے بازو جو جانور سویا ہوا ہے ، وہ حقیقت میں شیر ہے ، یہ لوگ بہت پریشان ہوئے کہ کہیں یہ شیر جاگ نہ جاۓ اور اس بے چارے کو کھا نہ جائے ۔ انھوں نے آہستہ سے سونے والے کو آواز دی اور جگایا ، جب وہ جاگا تو ان لوگوں نے اس سے کہا کہ کہاں سوئے ہو ؟ وہ تمھارے بازو شیر ہے شیر ! ! بس جناب اتنا سنتے ہی وہ گھبرایا پریشان ہوا اور ڈر کے مارے اس کی جان نکل گئی اور مرگیا ۔
اس سے معلوم ہوا کہ خوف بھی معرفت و پہچان کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے ، اگر معرفت و پہچان نہ ہو ؛ تو خوف نہیں آسکتا ، جب پہچان ہوگی ؛ تو خوف آجائے گا ۔
دیکھیے ! جب تک اسے شیر کی معرفت و پہچان نہیں تھی ، تو اس پر شیر کا خوف بھی پیدا نہیں ہوا ، جیسے ہی شیر کی معرفت حاصل ہوئی ، تو اس کا خوف بھی پیدا ہوا اور وہ مرگیا ۔ اسی طرح جب اللہ کی پہچان انسان کو ہوجاتی ہے کہ اللہ کتنا بڑا اور زبردست ہے ، کتنی بڑی طاقت والا ہے ؟ وہ کیا سے کیا کرسکتا ہے ؟ جب یہ پہچان اللہ کی انسان کو ہوگی ، تو ایسا نہیں ہوسکتا کہ اس کے دل کے اندر کوئی ہلچل نہ مچے اور اس کی وجہ سے اس کے دل میں اللہ کا خوف پیدا نہ ہو ۔
➖➖➖➖➖➖➖➖➖

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں