🌷 ضلع کشن گنج 🌷
ریاست بہار کے سیمانچل منطقہ کے ضلع کشن گنج کا قیام 14/جنوری 1990ء میں عمل میں آیا ____ ضلع کے ہیڈکواٹر کا نام بھی کشن گنج ہے.
ضلع کا رقبہ 1880 اسکوائر کیلو میٹر ہے. جو سات تحصیل (Block) اور 731 گاؤں (villages) پر مشتمل ہے.
2011 کی مردم شماری (census) کے مطابق ضلع کی جملہ آبادی 1690948 ہے _______ ضلع کی مسلم آبادی 1149095 ہے جو کل آبادی کا % 68 ہے ____ یہ ریاست کا واحد مسلم اکثریتی ضلع ہے. شرح خواندگی (literacy rate)
صرف % 57 ہے _ ضلع کا ایک لوک سبھا حلقہ اور چھ اسمبلی حلقے ہیں، جو پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلی میں مسلم نمائندگی کو یقینی بناتے ہیں.
ضلع کشن گنج کے مغرب میں ضلع ارریہ اور ضلع کے جنوب مغرب میں ضلع پورنیہ ہے __ اس کے مغرب میں ریاست مغربی بنگال کا ضلع اتردیناجپور اور اس کے شمال میں ضلع دارجلنگ اور پڑوسی ملک نیپال واقع ہے.
ضلع کے اہم دریا (rivers) مہانندا (Mahananda) کن کئی (Kankai) میچھی (Mechi) رتوا (Ratua) ڈونک (Donk) رمضان (Ramzan) ہیں. _____
ضلع میں خوب بارش (Yağmur) ہوتی ہے __ مئی (May) کے مہینہ سے بارش شروع ہو جاتی ہے _ جو اکتوبر کے ختم تک جاری رہتی ہے ___ ویسے زیادہ بارش جون تا ستمبر میں ہوتی ہے __ ہر سال خوب بارش ہوتی ہے _ جس کی وجہ سے پینے کے پانی اور آبپاشی (irrigation) کا مسلہ نہیں ہے __ مگر سیلاب کا مسلہ ضرور ہے، جو چھوٹے اور میڈیم سائز کے ڈیم (Dam) بنا کر حل کیا جا سکتا ہے. اس سے سیلاب کا مسلہ حل ہوگا_______ ساتھ ہی آبپاشی کے لئے مزید پانی حاصل ہوگا __ ان مسائل کے حل کے لئے مضبوط قوت ارادی اور سیاسی طاقت ضروری ہے.
ریاست بہار کے واحد مسلم اکثریتی ضلع کشن گنج کے ہر مسلمان کو یہ جاننا اور ماننا ضروری ہے کہ اس کی مادری زبان (mother tongue) صرف اور صرف اردو ہے __ 2021ء کی عنقریب آنے والی مردم شماری (census) کے موقع پر مادری زبان (mother tongue)کے کالم میں صرف اور صرف اردو لکھانا بہت ضروری ہے.
اردو مادری زبان لکھانے والے ہی اردو آبادی (urdu population) میں شمار ہوتے ہیں __ اور اسی بنیاد پر دستوری اور قانونی حقوق حاصل ہوتے ہیں. __ ضلع میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے، جو کہ سراسر ناانصافی ہے __
اردو والوں کے لئے لازم ہے کہ پہلے اپنی مادری زبان اردو لکھا کر ثابت کریں کہ ضلع کی غالب اکثریت اردو آبادی (urdu people) کی ہے. جس کی بنیاد پر اردو ضلع کی پہلی سرکاری زبان بن سکتی ہے __ یا کم از کم ضلع کو دو لسانی ضلع قرار دیا جا سکتا ہے ___ جس کی رو سے ضلع کا سارا سرکاری کام کاج ہندی کے علاوہ اردو زبان میں ہو سکتا ہے __ اس کے علاوہ اردو زبان روزگار سے جڑے گی __ ضلع کے آٹھ سو گاؤں میں سرکاری اردو میڈیم اسکولس کھل سکتے ہیں__ جو اردو آبادی کو روزگار کی فراہمی کا ذریعہ بن سکتے ہیں ___
اس کے علاوہ اردو میڈیم اسکولس نئی نسل کو اردو زبان اور اردو تہذیب سے جوڑنے کا کام کریں گے.
اس میں کوئی شک نہیں کہ مسلمان اصلی مقامی باشندے (indigenous people) ہونے کی وجہ سے مقامی زبان میتھلی (Maithili) اور سورجاپوری (Surjapuri) زبانیں بھی جانتے ہیں __ مگر ان زبانوں کو اپنی مادری زبان لکھانے سے اردو زبان کا شدید نقصان ہوتا ہے __ اور اردو زبان دستوری اور قانونی حقوق سے محروم ہو جاتی ہے.
بہتر تو یہی ہے کہ ہر مسلمان اپنی مادری زبان کے کالم میں صرف اردو لکھائیں __ دوسری اور تیسری زبان کے طور پر جو مناسب سمجھیں، لکھا سکتے ہیں. __ اس سلسلے میں ابھی سے آنے والی مردم شماری کے لئے شعور بیدار کریں.
********************

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں