منگل، 14 مارچ، 2023

ایک کتا جس کی وجہ سے چالیس ہزار لوگوں نے اسلام قبول کیا۔


 ایک کتا جس کی وجہ سے 40 ہزار لوگوں

     

        نے اسلام قبول کیا  .............................. 


 علامہ ابن حجر رحمہ اللہ اپنی کتاب درر کامنہ میں لکھتے ہیں کہ جب منگولوں نے پوری مسلم دنیا پر قبضہ کر لیا تو وہ دن بڑے دردناک دن تھے، ایسے عالم میں ایک منگول سردار عیسائی ہو گیا، اس خوشی میں ایک بہت بڑا جلسہ کیا گیا جس میں عیسائی پادری بھی شامل ہوئے.......... علامہ ابن حجر لکھتے ہیں کہ اس جلسہ میں ایک بدبخت عیسائی پادری نے دریدہ دہنی کرتے ہوئے حضور اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی کی تو پاس بندھا ہوا ایک کتا جوش میں آگیا اور زور زور سے بھونکنے لگا.......... جلسہ میں موجود لوگوں نے پادری سے کہا کہ تو چونکہ مسلمانوں کے نبی کے خلاف بولا ہے اس لیے یہ کتا غیرت میں زور زور سے بول رہا ہے۔

پادری نے جواب دیا کہ نہیں نہیں! یہ ویسے ہی بڑا غیرت مند ہے، چونکہ میں نے ہاتھ سے اسکی طرف اشارہ کیا تو یہ سمجھا کہ مجھے مارنے لگا ہے، اس وجہ سے یہ غیرت میں آیا اور بھونکا.......... یہ کہنے کے بعد پادری نے اپنا بھاشن شروع کیا اور پھر وہی غلیظ حرکت کی اور دوبارہ حضور اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی کرنا شروع کر دی.......... علامہ ابن حجر لکھتے ہیں کہ اس بار کتا ایک دم رسہ توڑ کر پادری پر جھپٹا اور شیر کی طرح اس پر حملہ آور ہوا اور اپنے دانت پادری کی گردن میں گاڑھ دیے اور تب تک گاڑے رکھے جب تک پادری مر نہ گیا.......... علامہ ابن حجر لکھتے ہیں کہ اس واقعہ کو دیکھ کر تقریبا چالیس ہزار منگولوں نے اسلام قبول کرلیا۔


عربی جاننے والے اس واقعہ کو حوالہ سمیت عربی میں بھی پڑھ سکتے ہیں: 


قال الإمام: ابن حجر العسقلاني في كتابه (الدرر الكامنة)


كان النصارى ينشرون دعاتهم بين قبائل المغول طمعاً في تنصيرهم وقد مهد لهم الطاغية هولاكو سبيل الدعوة بسبب زوجته الصليبية ظفر خاتون، وذات مرة توجه جماعة من كبار النصارى لحضور حفل مغولي كبير عقد بسبب تنصر أحد أمراء المغول، فأخذ واحد من دعاة النصارى في شتم النبي صلى الله عليه وسلم، وكان هناك كلب صيد مربوط، فلما بدأ هذا الصليبي الحاقد في سب النبي صلى الله عليه وسلم زمجر الكلب وهاج ثم وثب على الصليبي وخمشه بشدة، فخلصوه منه بعد جهد ..


فقال بعض الحاضرين: هذا بكلامك في حق محمد عليه الصلاة والسلام،


فقال الصليبي: كلا بل هذا الكلب عزيز النفس رآني أشير بيدي فظن أني أريد ضربه، ثم عاد لسب النبي وأقذع في السب، عندها قطع الكلب رباطه ووثب على عنق الصليبيي وقلع زوره في الحال فمات الصليبي من فوره، فعندها أسلم نحو أربعين ألفاً من المغول.

الدرر الكامنة جزء 3 صفحة 2

احمد اللہ سعیدی عارفی

9935586400

ہفتہ، 4 مارچ، 2023

ماں کا اثر اولاد پر

 



۔ماں کا اثر اولاد پر ۔۔۔!!!!!

عربی مقولہ ہے   اَلاُمُّ تَصنَعُ الاُمَّۃَ ؛
یعنی ایک ماں پوری اُمَّت کی بنیاد رکھتی ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ جب سے ماں کے پیٹ میں بچہ حرکت کرنے لگتا ہے وہ ماں کی ہر اچھی بری بات کا اثر قبول کرنے لگتا ہے جب تک وہ خود سمجھدار نہ ہو جائے ماں کا اثر زیادہ قبول کرتا ہے۔
بلکہ عورت کی پاکیزگی کا اثر اُس کے شوہر کی زندگی پر اُس کی عبادت پر اُس کے دین پر بھی پڑتا ہے ۔
اِسی وجہ تو کہا گیا کہ عورت مرد کے نصف دین کی محافظ ہے۔
ایک بزرگ اپنی بیوی سے کہنے لگے کہ میں تہجد پڑھتا ہوں جبکہ تم صرف فجر کی نماز پڑھتی ہو
دوسرے دن بابا جی کی آنکھ فجر میں جا کھلی
بیوی کو کہنے لگے معلوم نہیں کیا ہوا پہلے تو آسانی سے تہجد میں بیدار ہوجاتا تھا آج فجر مشکل سے پڑھ پایا
بیوی صاحبہ کہنے لگیں کہ پہلے میں روز آٹا گوندھنا اور کھانا بنانا با وضو کیا کرتی تھی۔
مگر کل جان بوجھ کر نہیں کیا بس اُسی کی وجہ سے آپ کی آنکھ نہیں کھلی کیونکہ آپ کی تہجد میں میرے با وضو کھانا بنانے کا عمل دخل زیادہ تھا۔
عورت کی دینداری اور علمِ دین بچوں میں خوب رنگ جماتا ہے ۔
ماں دیندار ہو تو بچہ با کمال بنتا ہے
امام شافعی کی پرورش ماں نے کی
امام احمد کی پرورش ماں نے کی
امام بخاری کی پرورش ماں نے کی
عفراء بنت عبید وہ خوش نصیب صحابیہ ہیں جن کے سات بیٹوں نے اسلام کی پہلی جنگ میں شرکت کی
اُسی پاک ماں کے وہ دو بہادر بیٹے معاذ ومعوذ تھے جنہوں نے ابوجہل کو قتل کیا تھا۔
جب ماؤں نے بچوں کو دین کی گُھٹی پلائی تب بچے مجاہدین پیدا ہوئے تب بچے علماء پیدا ہوئے۔
اب ماؤں نے دنیا پلا دی تو بچے اداکار و فنکار و گلوکار پیدا ہوتے ہیں۔ آجکل بچوں کو دین پڑھانے سے اہم بچیوں کو دین پڑھانا ہے۔۔

#احمد_اللہ_سعیدی_عارفی

جمعرات، 2 مارچ، 2023

بر وقت نکاح کے تعلق سے چند اقوال

 ۔:_۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔✍🏼

*بروقت نکاح کے تعلق سے چند اقوال*  


........................ *نکاح* .........................

اگر بارہ تیرہ سال میں بچے بچیاں بالغ ہورہے ہیں اور 25، 30 سال تک نکاح نہیں ہورہا تو یہ جنسی مریض بھی بنیں گے اور گناہ بھی کریں گے ۔

............... ............ *نکاح*..........................

 وقت پہ نکاح اولاد کا حق ہے۔ اس میں تاخیر والدین کو گناہ گار کرتی ہے

............................. *نکاح*...........................

ہر غیر شادی شدہ جوان لڑکا اور لڑکی ایک دوسرے کی طلب رکھتے ہیں اور یہ ایک فطری ضرورت ہے لہذا اپنے بالغ بچے بچیوں کے نکاح کا بندوبست کریں۔۔

.......................... *نکاح*..........................

بھوک پیاس کے بعد بالغ انسان کی تیسری اہم ضرورت جنسی تسکین ہے. اور جب جائز ذریعہ نہ ہو تو بچہ / بچی گناہ اور ذہنی بیماریوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔

............................ *نکاح*...........................

بدقسمتی کی انتہا، اسکول، یونیورسٹیز میں بڑی بڑی لڑکیاں لڑکے بغیر نکاح علم حاصل کر رہے ہیں، اور والدین کو نکاح کی پرواہ ہی نہیں۔

............................ *نکاح*..........................

انسان کی جنسی ضرورت کا واحد باعزت حل نکاح ہے۔ اور  اگر نکاح نہیں تو زنا عام ہوگا یہ عام فہم نتیجہ ہے۔

........................... *نکاح* ...........................

 اپنی بچیوں کے سروں پہ دوپٹہ ڈالنے کا مقصد تب پورا ہوگا جب ان کا نکاح وقت پہ ہوگا۔

.......................... *نکاح*..........................

اللہ تعالی نے معاشرتی اعمال میں سے نکاح کو سب سے آسان رکھا ہے۔

. 

.......................... *نکاح* ......................

نکاح انسانوں کا طریقہ ہے۔ جانور بغیر نکاح کے رہتے ہیں اور رہ سکتے ہیں۔


........................ *نکاح*...........................

والدین اپنی اولاد پہ رحم کریں اور وقت پہ نکاح کا بندوبست کریں


*یہ کوئی فحش پوسٹ نہیں ہے ایک درس ہے جو ہر والدین کی ضرورت ہے بےحیائی کو روکنے کا گناہوں سے اپنے بچوں کی حفاظت کرنے کا ذریعہ ہے*

#احمد_اللہ_سعیدی_عارفی


جمعہ، 24 فروری، 2023

نکاح و شادی کا مذاق اڑانا اور اس پر کوئی لطیفے سنانا

 *نکاح و شادی کا مزاق اڑانا اور اس پہ لطیفے سنانا*


*دشمنان اسلام کی ایک سازش*



وہ تحریریں/پوسٹیں/میسجز وغیرہ جن میں شادی یا میاں بیوی کے متعلق لطیفے ہوتے ہیں اور شادی کامذاق اڑایا گیا ہوتا ہے یا مزاحیہ انداز میں شادی سے دور رہنے کےمشورے ہوتے ہیں یہ سب دشمنانِ اسلام کی جانب سے شروع ہوئے اور پھر اپنے نادانوں نے جانے انجانے میں اس برے طریقہ کو اپنا لیا۔۔


دشمن چاہتا ہے کہ اہل اسلام کے دلوں سے نکاح/شادی کی اہمیت کم کی جائے،ان کی نظروں میں شادی کو عذاب و اذیت بنا کر پیش کیا جائے،شادی والی زندگی کو مشکل دکھایا جائے اور ان کو زنا وبدکاری کی طرف راغب کیا جائے اور اہل اسلام/اہل مشرق کا خاندانی نظام تباہ کردیا جائے۔


حالانکہ نکاح کا حکم اللہ کریم نے دیا، شادی کی ترغیب/تشویق/تحریص حضور تاجدارانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے قول وفعل سے دلائی اور یہ تو اتنی مقدس و عظیم چیز ہے کہ جنت میں بھی ہوگی۔


نکاح سے کاروان حیات رواں دواں ہے،نکاح ایمان کی حفاظت ہے، نکاح تونگری کی ضمانت ہے، نکاح جسم وروح کی پاکیزگی ہے، نکاح عزتوں کی پہرداری ہے، نکاح شرم وحیاء کا تقاضا ہے اور نکاح غیرت مندوں کی نشانی ہے۔


اے اہل ایمان! غیروں کی ان عالمی سازشوں سے ہوشیار رہو۔۔دعا ہے کہ اللہ پاک شادی شدہ لوگوں کو شاد وآباد رکھے اور خواہشمندوں کو نیک پاکیزہ رشتے عطا فرمائے اور ان کے لیے اسباب بنائے۔ امین بجاہ طٰہٰ ویٰسین صلی اللہ علیہ وسلم 

احمد اللہ سعیدی عارفی 

ائمہ کا نذرانہ

 شادی ہال 

، نکاح اور ولیمہ کی تقریب کے لیے رینٹ پہ لیے جاتے ہیں.

 اور نکاح ایک شرعی حکم ہے مگر شادی ہال کا مالک پھر بھی پیسے مانگتا ہے.

          حج اور عمرہ ایک عبادت اور شرعی حکم ہے مگر ایئر لائن کمپنیز اور ٹریول ایجنٹس پھر بھی پیسے مانگتے ہیں.

          ختنے کروانے ایک فطری و شرعی حکم ہے مگر ڈاکٹرز پھر بھی پیسے مانگتے ہیں.

          قربانی ایک شرعی فریضہ ہے مگر قصائی پھر بھی پیسے مانگتا ہے. 

          تعلیم ایک شرعی حکم ہے مگر ٹیچرز پھر بھی پیسے مانگتے ہیں. 

          مسجد بنانا نیکی کا کام ہے مگر مستری و مزدور پھر بھی پیسے مانگتے ہیں. 

          قرآن و حدیث کی اشاعت ایک اہم فریضہ ہے مگر پبلشرز پھر بھی قیمت مانگتے ہیں. 

           نہ تو کسی کو ان کے تقوے پر شک ہوتا ہے اور نہ کوئی انہیں دنیا دار لالچی کہتا ہے نہ وہ دین فروش بنتے ہیں۔

           نہ ہی ریٹ فکس کرنے کو حرام کہا جاتا ہے۔ 

          *اور نماز پڑھنا*

*خطبہ جمعہ*

 *عیدین*

*تراویح*

*درس و تقریر* 

*یہ سب بھی شرعی احکام ہیں*

مگر

جب امام،

 خطیب،

 مدرس،

 یا مقرر ہر طرف سےمجبور ہو کر، اپنے دل و ضمیر پر پتھر رکھتے ہوئے اپنی تنخواہ میں اضافے کا مطالبہ کردے یا تنخواہ طے کر لے یا تنخواہ لیٹ ہونے پہ اظہارِ ناراضگی کردے 

تو بس پھر 

وہ دنیا دار بن جاتا ہے

دین فروش کہلواتا ہے 

لالچی ہوتا ہے

تقوی سے خالی ہوتا ہے

*صرف علماء کرام اور ائمہ مساجد کے ساتھ ہی ہمارا دوہرا معیار کیوں ہے؟*

حالانکہ مسجد خوبصورت ہو، مزین ہو، ہر سہولت اس میں ہو، مگر امام و خطیب نہ ہو 

تو جانتے ہیں آپ!

وہ مسجد اصلاح کا مرکز نہیں بن سکتی

وہ تربیت گاہ نہیں کہلا سکتی

لوگ اس سے دین نہیں سیکھ سکتے 

امام کے بغیر مسجد میں بھی پڑھی ہوئی نماز ایک ہی شمار کی جائے گی

مگر مسجد کچی ہو یا کجھور کے پتوں سے بنی ہو مگر امام وخطیب موجود ہو تو 

امام کے ساتھ پڑھی ہوئی ایک نماز، 27 نمازوں کے برابر اجر دلواتی ہے

وہ تربیت گاہ بھی بن جاتی ہے 

دین کا مرکز بھی کہلواتی ہے

اور اسلامی تعلیمات کا سر چشمہ ہوتی ہے

لیکن پھر بھی کچھ لوگوں کا نظریہ ہے مسجد میں ٹائل لگوانا اے سی لگوانا ایسا صدقہ جاریہ ہے جو مسجد کے امام و خطیب پر خرچ کرنے افضل ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ 

تو جناب عالی یہی سوچ ہے جس نے آج اسلام کا نام بدنام کر رکھا ہے اس لیے اپنے علماء کرام اور ائمہ مساجد کی قدر کریں

انکی ضروریات کا پورا پورا خیال رکھیں .


احمد اللہ سعیدی عارفی 

                                                          9935586400



ہفتہ، 18 فروری، 2023

جہنم کا تعارف

 جہنم  کا  تعارف

***************************


*1 - جہنم میں گرایا گیا  پتھر  70 سال  بعد جہنم   کی  تہ  میں  پہنچتا ہے- (مسلم)


2/ جہنم  کے  ایک  احاطہ کی  دو دیواروں   کے   درمیان 40 سال  کی مسافت کا فاصلہ ہے- (ابو یعلی)


3/ جہنم کو میدان حشر میں لانے کے لے 4 ارب 90 کروڑ فرشتے مقرر ہوں گے-  (مسلم)


4/ جہنم کا سب سے ہلکا  عذاب آگ کے  دو  جوتے پہننے کا ہوگا جس سے جہنمی کا  دماغ  کھولنے  لگے گا-  (مسلم)

نوٹ : یہ عذاب  ابوطالب کے لئے ہے. 


5/ جہنمی کی ایک داڑھ (بڑا دانت) احد پہاڑ سے بھی بڑی ہوگی- (مسلم)

6/ جہنمی کے جسم  کی کھال 42 ہاتھ (63 فٹ) موٹی ہوگی- ( ترمذی)


7/ جہنمی  کے  دونوں کندھوں  کے درمیان  تیزرو  سوار کی 3 دن   کی مسافت  کا  فاصلہ  ہوگا-     (مسلم)


8/ دنیا  میں تکبر کرنے والوں کو چیونٹیوں کے  برابر جسم  دیا جائے گا-(ترمذی)


9/ جہنمی  اس قدر آنسو بہائيں گے کہ ان میں کشتیاں  چلائی جاسکیں گی-  (مستدرک حاکم)


* 10-  جہنمیوں   کو  دیے جانے والے کھانے    (تھوہر)  کا    ایک        ٹکڑا دنیا  میں گرا دیا جائے تو ساری دنیا     کے جانداروں کے اسباب معیشیت  برباد کردے- (احمد، نسائی، ترمذی، ابن ماجہ)


11/ جہنمیوں کو  پلائے جانے والے مشروب کا ایک ڈول (چند لٹر) دنیا میں ڈال دیا جائے تو ساری دنیا  کی مخلوق  کو  بدبو  میں مبتلا کردے- (ابو یعلی)


12/ جہنمیوں کے سر  پر اس قدر کھولتا ہوا گرم پانی ڈالا جائے گا کہ وہ  سر میں چھید کرکے پیٹ میں پہنچ جائے گا اور پیٹ میں جو کچھ ہوکا  اسے کاٹ ڈالے گا   اور  یہ سب کچھ (پیٹھ سے نکل کر) قدموں میں آگرے گا- (احمد)


13/ کافر  کو جہنم میں اس قدر سختی سے ٹھونسا جائے گا جس قدر نیزے کی انی دستے میں سختی سے  گاڑی  جاتی ہے-(شرح اسنہ)


*14- جہنم  کی  آگ شدید سیاہ  رنگ  کی ہے- (جس میں ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہ دے گا) ( (مالک)


15/ جہنمیوں کو آگ  کے  پہاڑ "صعود"  پر چڑھنے  میں  70 سال لگيں گے اترے گا تو پھر اسے چڑھنے کا  حکم  دیا جائے گا-  (ابو یعلی)


16/  جہنمیوں  کو   مارنے   کے لیے لوہے  کے گرز اتنے وزنی ہوں گے کہ انسان  اور  جن  مل کر بھی  اسے اٹھانا چاہیں تو نہیں اٹھا سکتے-   (ابو یعلی)


17/ جہنم کے سانپ  قد  میں اونٹوں کے  برابر ہونگے اور ان کے  ایک دفعہ  ڈسنے  سے    کافر 40 سال تک اس کے زہر کی جلن محسوس  کرتا رہے گا- (حاکم)


18/ جہنم کے بچھو قد میں خچر  کے برابر ہوں گے ان کے ڈسنے  کا اثر  کافر   40  سال     تک محسوس کرتا رہے گا- (حاکم)


19/ جہنمیوں کو جہنم میں منہ کے بل چلایا جائے گا- (مسلم)


اَللھُمّ اَجِرنِی مِن النّار


اللہ تعالیٰ ہم سب  کے صغیر و کبیرہ  گناہ  معاف فرمائے     اور آخرت کی تیاری کرنے کی توفیق عطا فرمائیں آمین یارب العالمین


ترتیب:-  احمد اللہ سعیدی عارفی 


جمعہ، 3 فروری، 2023

روح کا وزن اور ہماری اوقات

 🔹 *روح کا وزن اور ہماری اوقات* 🔹


از:- احمد اللہ سعیدی عارفی

  لاس اینجلس کے ڈاکٹر ابراہام نے انسانی روح کا وزن معلوم کرنے کے لئے نزع کے شکار لوگوں پر پانچ سال میں بارہ سو تجربے کیے.اس سلسلے میں اس نے شیشے کے باکس کا ایک انتہائی حساس ترازو بنایا، وہ مریض کو اس ترازو پر لٹاتا، مریض کی پھیپھڑوں کی آکسیجن کا وزن کرتا، ان کے جسم کا وزن کرتا ہے اور اس کے مرنے کا انتظار کرتا ہے مرنے کے فوراً بعد اس کا وزن نوٹ کرتا ہے۔
ڈاکٹر ابراہام نے سینکڑوں تجربات کے بعد اعلان کیا کہ "انسانی روح کا وزن 21 گرام ہے"

ابراہام کا کہنا تھا کہ انسانی روح اس 21 گرام آکسیجن کا نام ہے جو پھیپھڑوں کے کونوں، کھدروں، درزوں اور لکیروں میں چھپی رہتی ہے، موت ہچکی کی صورت میں انسانی جسم پر وار کرتی ہے اور پھیپھڑوں کی تہوں میں چھپی اس 21 گرام آکسیجن کو باہر دھکیل دیتی ہے اس کے بعد انسانی جسم کے سارے سیل مر جاتے ہیں اور انسان فوت ہوجاتا ہے ۔۔۔!!
ہم نے کبھی سوچا ہے کہ یہ 21 گرام کتنے ہوتے ہیں۔۔؟؟
21 گرام لوہے کے 14چھوٹے سے دانے ہوتے ہیں ، ایک ٹماٹر ،پیاز کی ایک پرت، ریت کی چھہ چٹکیاں اور پانج ٹشو پیپر ہوتے ہیں۔۔

یہ ہے ہماری اور آپ کی اوقات

لیکن...

ہم بھی کیا لوگ ہیں ہم 21 گرام کے انسان خود کو کھربوں ٹن وزنی کائنات کا خدا سمجھتے ہیں.

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر روح کا وزن 21 گرام ہے تو ان 21 گراموں میں ہماری خواہشوں کا وزن کتنا ہے؟؟؟

اس میں ہماری نفرتیں، لالچ، ہیراپھیری، چالاکی، سازشیں، ہماری گردن کی اکڑ، ہمارے لہجے کے غرور کا وزن کتنا ہے...؟؟؟

ہم 21 گرام کے انسان جوخود کو 21 گرام کے کروڑوں انسانوں کا حکمران سمجھتے ہیں ہم وقت کو اپنا غلام اور زمانے کو اپنا ملازم سمجھتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں بس ذرا سی تپش، بس ذرا سی ایک ہچکی ہمارے اختیار ہمارے اقتدار ہماری اکڑ، غرور اور چالاکی کی موم کو پگھلا دے گی اور جب یہ 21 گرام ہوا ہمارے جسم سے باہر نکل جائے گی تو ہم تاریخ کی سلوں تلےدفن ہوجائیں گے اور 21 گرام کا کوئی دوسرا انسان ہماری جگہ لے لے گا.

انسان مڑ کر اپنی ہی کمر کا تل نہیں دیکھ سکتا.
یہ ہے ہماری اوقات۔۔۔۔۔۔۔۔


احمد اللہ سعیدی عارفی
                                        9935586400

ہندوستانی مسلمانوں کے مسائل،قیادت کی خاموشی،اور مستقبل کے خدشات

آج ہندوستان میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے ساتھ جس طرزِ عمل کا مشاہدہ کیا جا رہا ہے، وہ نہایت تشویش ناک اور فکر انگیز ہے۔ متعدد مواقع پر ا...