🔹 *روح کا وزن اور ہماری اوقات* 🔹
از:- احمد اللہ سعیدی عارفی
لاس اینجلس کے ڈاکٹر ابراہام نے انسانی روح کا وزن معلوم کرنے کے لئے نزع کے شکار لوگوں پر پانچ سال میں بارہ سو تجربے کیے.اس سلسلے میں اس نے شیشے کے باکس کا ایک انتہائی حساس ترازو بنایا، وہ مریض کو اس ترازو پر لٹاتا، مریض کی پھیپھڑوں کی آکسیجن کا وزن کرتا، ان کے جسم کا وزن کرتا ہے اور اس کے مرنے کا انتظار کرتا ہے مرنے کے فوراً بعد اس کا وزن نوٹ کرتا ہے۔
ڈاکٹر ابراہام نے سینکڑوں تجربات کے بعد اعلان کیا کہ "انسانی روح کا وزن 21 گرام ہے"
ابراہام کا کہنا تھا کہ انسانی روح اس 21 گرام آکسیجن کا نام ہے جو پھیپھڑوں کے کونوں، کھدروں، درزوں اور لکیروں میں چھپی رہتی ہے، موت ہچکی کی صورت میں انسانی جسم پر وار کرتی ہے اور پھیپھڑوں کی تہوں میں چھپی اس 21 گرام آکسیجن کو باہر دھکیل دیتی ہے اس کے بعد انسانی جسم کے سارے سیل مر جاتے ہیں اور انسان فوت ہوجاتا ہے ۔۔۔!!
ہم نے کبھی سوچا ہے کہ یہ 21 گرام کتنے ہوتے ہیں۔۔؟؟
21 گرام لوہے کے 14چھوٹے سے دانے ہوتے ہیں ، ایک ٹماٹر ،پیاز کی ایک پرت، ریت کی چھہ چٹکیاں اور پانج ٹشو پیپر ہوتے ہیں۔۔
یہ ہے ہماری اور آپ کی اوقات
لیکن...
ہم بھی کیا لوگ ہیں ہم 21 گرام کے انسان خود کو کھربوں ٹن وزنی کائنات کا خدا سمجھتے ہیں.
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر روح کا وزن 21 گرام ہے تو ان 21 گراموں میں ہماری خواہشوں کا وزن کتنا ہے؟؟؟
اس میں ہماری نفرتیں، لالچ، ہیراپھیری، چالاکی، سازشیں، ہماری گردن کی اکڑ، ہمارے لہجے کے غرور کا وزن کتنا ہے...؟؟؟
ہم 21 گرام کے انسان جوخود کو 21 گرام کے کروڑوں انسانوں کا حکمران سمجھتے ہیں ہم وقت کو اپنا غلام اور زمانے کو اپنا ملازم سمجھتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں بس ذرا سی تپش، بس ذرا سی ایک ہچکی ہمارے اختیار ہمارے اقتدار ہماری اکڑ، غرور اور چالاکی کی موم کو پگھلا دے گی اور جب یہ 21 گرام ہوا ہمارے جسم سے باہر نکل جائے گی تو ہم تاریخ کی سلوں تلےدفن ہوجائیں گے اور 21 گرام کا کوئی دوسرا انسان ہماری جگہ لے لے گا.
انسان مڑ کر اپنی ہی کمر کا تل نہیں دیکھ سکتا.
یہ ہے ہماری اوقات۔۔۔۔۔۔۔۔
احمد اللہ سعیدی عارفی
9935586400

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں