-:ترکی نے اسرائیل کو فتح کرنے کا خفیہ اعلان کر دیا:-
دوستوں۔۔۔۔۔۔۔!!!! 86 سال بعد آیا صوفیہ میں نماز جمعہ کی ادائیگی ،امام ترک وزیر مذہبی امور پروفیسر ڈاکٹر علی ایرباس نے عہد خلافت عثمانیہ میں فتح کی علامت یعنی تلوار تھام کر کل خطبہ جمعہ پڑھی۔دیکھنے والوں پر جلال طاری ہوگیا۔اس موقع پر ترک صدر نے ای
سا بیان جاری کیا جس نے اسرائیل اور امریکہ کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی جس کے بعد اسرائیلی میڈیا نے نیا پروپیگنڈہ شروع کر دیا ہےاور کہا جا رہا ہے کہ آیا صوفیہ کے معاملے پر اسرائیل اور عیسائی طبقہ ترکی کے خلاف بڑے محاذ کھولنے کی تیاریاں کر رہا ہے۔آیاصوفیہ کو دوبارہ مسجد بنانا کیا ترقی کیلئے لیے مشکلات کھڑی کر دے گا؟کیا آپ ترکی کو بھی ایران کے مثل معاشی اور اقتصادی جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا؟آئیے زمینی حقائق جاننے کی کوشش کرتے ہیں اور آیاصوفیہ کی تاریخی حیثیت پر بھی روشنی ڈالتے ہیں۔دوستوں۔۔۔۔۔۔۔!!!! 86 سال بعد آیا صوفیہ میں نماز جمعہ کی ادائیگی ،امام ترک وزیر مذہبی امور پروفیسر ڈاکٹر علی ایرباس نے عہد خلافت عثمانیہ میں فتح کی علامت یعنی تلوار تھام کر کل خطبہ جمعہ پڑھی۔دیکھنے والوں پر جلال طاری ہوگیا۔اس موقع پر ترک صدر نے ای
دوستوں۔۔۔۔۔۔!چند روز قبل آنے والے ایک تاریخی فیصلے پر عمل درآمد کروا دیا گیا ہے۔استنبول میں واقع آیا صوفیہ میں کئی دہائیوں بعد پہلی مرتبہ نماز جمعہ ادا کی گئی ہے جس کی تیاریاں حکومتی سطح پر کی گئی تھی۔آیا صوفیہ میں نماز جمعہ کی تیاریوں کا جائزہ لینے کے لئے صدر رجب طیب اردگان صاحب اپنے وزراء کی معیت میں وہاں پہنچے تھے ۔جناب اردگان صاحب نے اس تقریب کے دوران آیا صوفیہ کے اندر لی جانے والی تصاویر کو اپنے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ پر شیئر بھی کیا ہے۔ترکی کے شہر استنبول کی تاریخی جامع مسجد آیا صوفیہ کے منبر اور محرابوں میں 86 سال بعد آذان کی صدائیں بلند ہوئیں تو ملک بھر سے ہزاروں فرزندان توحید کھنچے چلے آئے۔ نماز سے قبل ترک صدر نے تلاوت قرآن پاک کی سعادت حاصل کی جبکہ ترکی کے وزیر مذہبی امور پروفیسر ڈاکٹر علی ایرباس نے جمعہ کا خطبہ دیا ۔تلوار کو سیڑھیوں پر ٹیکتے ہوئے جس وقت وہ ممبر پر چڑھے تو دیکھنے والوں پر جلال طاری ہو گیا انہوں نے تلوار تھا مے خطبہ دیا جو کہ دور خلافت عثمانیہ کی ایک روایت ہے اور فتح کی علامت سمجھی جاتی ہے۔انہوں نے الٹے ہاتھ میں تلوار پکڑی تھی جو ایک طرف تو دشمنوں کے دلوں میں ہیبت طاری کرنے اور دوسری طرف اتحادیوں کو تقویت اور اعتماد کا پیغام دیتی ہے۔
دوستوں۔۔۔۔۔۔۔۔! آیا صوفیہ میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے روح پرور مناظر کو دنیا بھر کے میڈیا چینلز پر دکھایا گیا ۔اس حوالے سے رجب طیب اردگان صاحب نے پوری مسلم امت اور یہودی لابی کو اہم پیغام دیا۔ ترک صدر رجب طیب اردگان صاحب نے کہا کہ آیاصوفیہ مسجد کے بعد اب ہماری اگلی منزل مسجد اقصیٰ ہے۔اب ہم مسجد اقصی کو آزاد کروائیں گے ۔اسرائیلی میڈیا نے ترکی اور ایران کے لیے مسجد اقصی کو آزاد کروانا پہلی ترجیح قرار دیا ہے۔ترکی میں آیا صوفیہ کو دوبارہ مسجد میں تبدیل کرنے اور نماز جمعہ کی ادائیگی پر اسرائیل بوکھلاہٹ میں مبتلا ہوگیا ہے۔اسرائیلی میڈیا مذہبی رنگ دیتے ہوئے پروپیگنڈا کر رہا ہے کہ ترک صدر کے بیان کو مذہبی حلقے عوام میں پھیلا رہے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ اس کام کے لیے تمام عالم اسلام کو متحد ہونا ہوگا اسی طرح ترکی کے حماس کے ساتھ بھی قریبی تعلقات کے اطلاعات ہیں جبکہ ایران پہلے سے ہی حماس کی حمایت کرتا ہے۔دونوں ممالک کی خارجہ پالیسی میں بھی مسجد اقصیٰ کو آزاد کروانا پہلی ترجیح ہے۔اسرائیل اس خوف میں مبتلا ہے کہ ایران اور ترکی مل کر اسرائیل کا خاتمہ ہی نہ کردیں کیونکہ پچھلے چند ماہ کے دوران ترکی اور ایران کے تعلقات میں بہتری آ رہی ہے ۔دونوں ممالک ہی جارحانہ رویہ رکھتے ہیں اور ان کا مقصد اسرائیل کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی قوم خوف میں مبتلا ہے ۔
آیاصوفیہ کے تاریخی فیصلے نے دیگر اسلامی ممالک کے حکمرانوں کو بڑا سبق دیا ہے جس کے بعد اسلام کی سربلندی کے لئے اقدامات کیے جا رہے ہیں اور اس نوعیت کے بیشتر قدیم اسلامی مقامات جنہیں فسطائی طاقتوں کی مدد سے مندر یا کلیساؤں میں تبدیل کر دیا گیا تھا اب ان کی اصل حیثیت بحال کی جانے لگی ہے۔متحدہ عرب امارات اور دیگر عرب ریاستوں سے یہ خبر آ رہی ہے کہ یہاں پائی جانے والی متعدد مندر اور گرجا گھر قدیم زمانے میں مساجد ہوا کرتی تھیں۔اب انہیں پھر سے مساجد میں تبدیل کرنے کے لیے کوششیں تیز کردی گئی ہیں ۔
دوستوں۔۔۔۔۔۔۔! گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی ایک خفیہ میٹنگ میں کہا کہ "دنیا کے تین حکمران انتہائی طاقتور اور شاطر ہیں ۔ جن میں ترک صدر رجب طیب اردگان،روسی صدر ولادیمیر پوتین اور چینی صدر شی جن پنگ شامل ہیں۔ اگر میں دوبارہ امریکہ کا صدر نہیں بن سکا تو یہ تینوں صدور امریکہ کی بینڈ بجا دیں گے کیونکہ joy bidden اس قابل نہیں ہیں کہ ان تینوں کا مقابلہ کر سکیں"۔ ٹرمپ کے اس خفیہ پیغام پر امریکی طاقتور شخصیات اور پینٹاگون کے اعلی افسران نے سنجیدگی سے غور کرنا شروع کر دیا ہے ۔یہ بھی اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ ٹرمپ کو دوبارہ صدارت کی کرسی پر سونپنا کیسا ہوگا ؟دراصل ٹرمپ نے ترکی کے صدر رجب طیب اردگان کا نام اس لیے لیا ہے کیونکہ وہ مسلمانوں میں اتحاد پیدا کرنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔ ترک صدر اپنے فیصلوں کی مدد سے اس عمل میں کامیاب بھی ہو رہے ہیں ۔ آیا صوفیہ کے معاملے پر بیشتر اسلامی ممالک نے مثبت ردعمل ظاہر کیا ہے سوائے سعودی عرب اور چند عرب ممالک کے جو اپنے نکمے پن کی وجہ سے بادشاہت چلے جانے کے خوف کو لے کر ہراساں ہیں۔
اطلاعات کے مطابق اکثر عرب ریاستیں اس وقت سعودی عرب کے فیصلے کے خلاف ہو چکی ہیں اور ان کے مابین ترک صدر کے اقدامات کو سراہا جا رہا ہے۔انہی وجوہات کی بنا پر امریکہ اور اسرائیل کو تشویش ہے ۔ 86 برس بعد آیاصوفیہ میں نماز جمعہ ادا کیا جانا مسلمانوں کی تاریخی فتح ہے اور اس فتح میں جو کردار رجب طیب اردگان صاحب نے نبھایا وہ قابل ستائش اور لایٔق مبارکباد ہے۔
دوستو۔۔۔۔۔۔۔! یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ فلسطین، برما شام اور وطن عزیز کے اندر مسلمانوں کی نسل کشی کے پیچھے اسلام دشمن عناصر ہیں ۔وہ قوتیں جو اسلام کو اپنے وجود کے لیے خطرہ سمجھتی ہیں انہوں نے خفیہ طور پر مسلمانوں کے خلاف آپس میں اتحاد کر لیا ہے ۔دنیا میں آئے روز مساجد اور مسلمانوں پر حملے ہوتے ہیں لیکن مغربی ممالک آواز نہیں اٹھاتے ۔وطن عزیز کے انتہا پسندوں کے ہاتھوں بابری مسجد کی شہادت اور بعد ازاں وہاں مندر بنانے کے فیصلے پر دنیا کے مقتدر قوتوں سمیت کسی مہذب ملک کا احتجاج منظر عام پر نہیں آیا اور نہ ہی دنیا میں کوئی خاطر خواہ بحث ہوئی کسی عالمی نیوز ادارے میں لیکن برادر، اسلامی جمہوریہ ترکی کے منتخب صدر رجب طیب اردگان صاحب کی طرف سے آیاصوفیہ کی بحیثیت مسجد بحالی کے اعلان پر پوری دنیا بالخصوص مسیحی ملکوں میں صف ماتم بچھ گئی، ہر چھوٹے بڑے نیوز ایجنسیوں نے اور عالمی وہ ملکی سطح پر غیر مسلم مشہور شخصیات اور چند نام نہاد مذہب بیزار افراد نے ترکی کے صدر رجب طیب اردگان صاحب حب کے اس فیصلے کی مذمت میں میگوئیاں شروع کی تو دوسری جانب عالم اسلام میں جشن کا سماں تھا ۔وہاں حالیہ نماز جمعہ ادا کرنے والے ترک مسلمانوں کا جوش و جذبہ قابل دید اور قابل رشک تھا ۔ترک صدر رجب طیب اردگان کا طرز سیاست ،ترکی ریاست کی آزادی ،خود مختاری اور خود ارادی کا غماز ہے۔
آیاصوفیہ فتح ہونے تک مشرقی رومن سلطنت جسے بازنطینی سلطنت کا نہ صرف سب سے بڑا مذہبی مرکز سمجھا جاتا تھا بلکہ بازنطینی سلطنت کے تمام اہم امور اسی عمارت سے سر انجام دیے جاتے تھے ۔اگر ارطغرل غازی ڈرامے میں کلیساؤں کے کردار پر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے خلاف جنگوں میں یہ کلیسا جاسوسی اور مشاورتی مراکز کے ساتھ ساتھ فوج کے لئے نرسنگ کا کردار ادا کرتے تھے اور جنگوں کے لیے مالی معاونت کے اہم ذریعہ تھے۔
آیاصوفیہ فتح ہونے تک مشرقی رومن سلطنت جسے بازنطینی سلطنت کا نہ صرف سب سے بڑا مذہبی مرکز سمجھا جاتا تھا بلکہ بازنطینی سلطنت کے تمام اہم امور اسی عمارت سے سر انجام دیے جاتے تھے ۔اگر ارطغرل غازی ڈرامے میں کلیساؤں کے کردار پر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے خلاف جنگوں میں یہ کلیسا جاسوسی اور مشاورتی مراکز کے ساتھ ساتھ فوج کے لئے نرسنگ کا کردار ادا کرتے تھے اور جنگوں کے لیے مالی معاونت کے اہم ذریعہ تھے۔
"آیاصوفیہ " یونانی زبان کے الفاظ ہیں جس کے معنی ہیں" holy wisdom" ۔
اس کے تاریخی پس منظر پر نگاہ ڈالنے سے معلوم ہوا کہ اسے 360 ء میں قسطنطین نے لکڑی سے بنوایا تھا جو کہ چھٹی صدی عیسوی اوایل میں جل گیا تھا ۔ بعد ازاں قیصر جسٹینین اول نے 523 عیسوی میں آیا صوفیہ کو پختہ اور عالی شان عمارت بنانا شروع کیا جس کی تکمیل میں چھ سال لگے ۔ترک روایات میں ملتا ہے کہ تکمیل کے بعد جسٹینین اول جب پہلی بار اس عالی شان اور بازنطینی سلطنت کی سب سے عظیم شاہکار میں داخل ہوا تو اس نے تکبرانا اور گستاخانہ جملہ کہا کہ "سلیمان میں تم پر سبقت لے گیا"۔اس کے بعد تقریبا ہزار برس تک یہ عمارت آرتھوڈوکس عیسائیت کا مرکز بنی رہی۔ اور آخری بار 28 مئی 1453 عیسوی کو مسیحیوں نے اس میں مذہبی رسومات ادا کی۔ مغربی میڈیا مسجد آیاصوفیہ کے مسئلہ کو متنازع بنا رہا ہے جسے روس نے فیصلے سے پہلے ہی ترکی کا داخلی مسئلہ قرار دیا تھا لیکن مغربی میڈیا غیر ضروری طور پر اسے اسلامی اور مغربی ،یعنی عیسائیت کی تہذیب کا مسئلہ بنا کر پیش کر رہا ہے جس پر روسی آرتھوڈوکس پیٹریارک نے اسے تمام مسیحی تہذیب کے لیے خطرہ قرار دیا ہے اور پوپ نے اس فیصلے پر گہرے رنج کا اظہار کیا ہے ۔اس کے علاوہ تمام دنیائے عیسائیت میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے ۔
اس کے تاریخی پس منظر پر نگاہ ڈالنے سے معلوم ہوا کہ اسے 360 ء میں قسطنطین نے لکڑی سے بنوایا تھا جو کہ چھٹی صدی عیسوی اوایل میں جل گیا تھا ۔ بعد ازاں قیصر جسٹینین اول نے 523 عیسوی میں آیا صوفیہ کو پختہ اور عالی شان عمارت بنانا شروع کیا جس کی تکمیل میں چھ سال لگے ۔ترک روایات میں ملتا ہے کہ تکمیل کے بعد جسٹینین اول جب پہلی بار اس عالی شان اور بازنطینی سلطنت کی سب سے عظیم شاہکار میں داخل ہوا تو اس نے تکبرانا اور گستاخانہ جملہ کہا کہ "سلیمان میں تم پر سبقت لے گیا"۔اس کے بعد تقریبا ہزار برس تک یہ عمارت آرتھوڈوکس عیسائیت کا مرکز بنی رہی۔ اور آخری بار 28 مئی 1453 عیسوی کو مسیحیوں نے اس میں مذہبی رسومات ادا کی۔ مغربی میڈیا مسجد آیاصوفیہ کے مسئلہ کو متنازع بنا رہا ہے جسے روس نے فیصلے سے پہلے ہی ترکی کا داخلی مسئلہ قرار دیا تھا لیکن مغربی میڈیا غیر ضروری طور پر اسے اسلامی اور مغربی ،یعنی عیسائیت کی تہذیب کا مسئلہ بنا کر پیش کر رہا ہے جس پر روسی آرتھوڈوکس پیٹریارک نے اسے تمام مسیحی تہذیب کے لیے خطرہ قرار دیا ہے اور پوپ نے اس فیصلے پر گہرے رنج کا اظہار کیا ہے ۔اس کے علاوہ تمام دنیائے عیسائیت میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے ۔
آیاصوفیہ کی بطور مسجد بحالی ببانگ دہل اعلان ہے کہ ترکوں نے کمال اتاترک کے فلسفے کو دفن کرکے ایک بار پھر عثمانی سلطنت کو بحال کر دیا ہے۔برصغیر کے بعض دانشوران اسے ترکی صدر کے سیاسی پوائنٹ اسکورنگ قرار دے رہے ہیں جو یقینا ترکی کے زمینی حقائق سے ناواقف ہیں۔ کمال اتاترک کے سیکولر ایجنڈے کے مسلط ہونے کے باوجود ترکوں کے دل سے مذہبی جذبات اور سلطنت عثمانیہ سے والہانہ وابستگی کبھی ختم نہ ہوئی ۔ اللہ اپنے حبیب کے صدقےاس طرح قوم کے ذریعے امت مسلمہ کی سر بلندی و سرخروئی عطا فرمائے ۔ آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔
#احمداللہ-سعیدی عارفی۔
متعلم:- جامعہ عارفیہ سید سراواں کوشامبی الہ آباد یوپی (9935586400)
#احمداللہ-سعیدی عارفی۔
متعلم:- جامعہ عارفیہ سید سراواں کوشامبی الہ آباد یوپی (9935586400)

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں