پیر، 30 جون، 2025

مولانا محمد احمد رضا چشتی اشرفی: ایک ہمہ جہت علمی و دینی شخصیت

  مولانا محمد احمد رضا چشتی اشرفی: ایک ہمہ جہت علمی و دینی شخصیت








مولانا محمد احمد رضا چشتی اشرفی، جو احمداللہ سعیدی کے نام سے بھی معروف ہیں، موجودہ وقت میں ضلع اتر دیناجپور کے سورجاپور-دالکولہ خطے کی ایک مایہ ناز دینی، علمی اور فلاحی شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ وہ ایک معزز و معروف خانوادے "منشی خاندان" سملیا میں 30 جون 1996 کو پیدا ہوئے۔ ان کے علمی، تحریکی، تعلیمی اور فلاحی کارنامے نہ صرف ان کے گاؤں بلکہ وسیع تر علاقے میں قابل تحسین اور لائقِ تقلید ہیں۔




ابتدائی تعلیم اور علمی سفر




مولانا کی ابتدائی تعلیم گاؤں کے ہی ایک مقامی دینی ادارے میں ہوئی، لیکن ان کی علمی استعداد اور غیرمعمولی ذہانت کو بھانپتے ہوئے ان کے بڑے ابو، حضرت علامہ و مولانا عالمگیر رضا صاحب قبلہ نے انہیں محض پانچ سال کی عمر میں الہ آباد کے ایک اسکول میں داخل کرا دیا۔ وہاں انہوں نے اپنی ذہانت و فطانت سے ممتاز کامیابیاں حاصل کیں اور ہمیشہ نمایاں پوزیشن کے ساتھ تعلیمی مدارج طے کیے۔




اپنی والدہ محترمہ کی خواہش پر مولانا احمد رضا نے قرآن کریم حفظ کرنے کی سعادت حاصل کی۔ اس کے لیے انہیں مدرسہ فیضان العلوم داندوپور میں داخل کیا گیا، بعد ازاں، اعلیٰ دینی تعلیم کے لیے وہ معروف ادارہ جامعہ عارفیہ، سید سراواں میں داخل ہوئے جہاں انہوں نے عالمیت، فضیلت کے تمام مراحل انتہائی کامیابی سے مکمل کیے اور وہیں سے گریجویشن کی سند بھی حاصل کی۔




تدریسی، تحریری اور تخلیقی خدمات




مولانا احمد رضا ایک صاحبِ قلم عالمِ دین ہیں۔ ان کے مضامین وقتاً فوقتاً مختلف رسائل، اخبارات اور ویب سائٹس کی زینت بنتے رہتے ہیں۔ وہ جدید مسائل پر عالمانہ گفتگو اور دینی رہنمائی کے لیے جانے جاتے ہیں۔ ان کی تحریروں میں وقت کی نبض کو سمجھنے کا شعور، زبان و بیان پر عبور، اور مسئلہ فہمی کی گہرائی نمایاں طور پر محسوس ہوتی ہے۔




جامعہ عارفیہ میں اپنی تعلیم کے دوران انہوں نے یومِ جمہوریہ اور یومِ آزادی جیسے اہم قومی مواقع کو منانے کی پہل کی، جسے بعد میں ادارے کی انتظامیہ نے بھی قبول کیا۔ یوں انہوں نے دینی اور ملی شعور کو ہم آہنگ کرنے میں بھی ایک مثبت کردار ادا کیا۔




فلاحی خدمات اور سماجی قیادت




کورونا کی عالمی وبا کے بعد مولانا اپنے وطن واپس آئے اور اپنے ہی علاقے میں رہائش اختیار کی۔ واپسی کے بعد انہوں نے اپنے فکری، دینی اور فلاحی کردار سے گاؤں اور آس پاس کے علاقوں میں نمایاں تبدیلیاں پیدا کیں۔ ایک موقع پر کھاری بسول میں پیش آنے والے آتشزدگی کے سانحے میں، انہوں نے آل انڈیا علما و مشائخ بورڈ کے صدر حضرت محمد اشرف میاں صاحب قبلہ سے رابطہ کر کے متاثرین کے لیے 2.5 لاکھ روپے کی امداد دلائی۔ اس کے علاوہ ذاتی کوششوں سے مزید 2.5 لاکھ روپے گاؤں والوں سے جمع کر کے متاثرہ خاندانوں تک پہنچائے۔




ان کی قیادت میں جب بھی کوئی حادثہ پیش آیا، چاہے وہ موت و میراث کا مسئلہ ہو یا قدرتی آفت، مولانا نے بڑھ چڑھ کر عملی خدمات انجام دیں۔ خاص طور پر جب کوئی پردیسی انتقال کر جاتا ہے تو میت کو گاؤں لانے کا سارا خرچ بورڈ کی مقامی یونٹ برداشت کرتی ہے، جس میں مولانا احمد رضا کا مرکزی کردار ہوتا ہے۔




ادارہ جاتی کارنامے




سابق پردھان غلام سرور چودھری، مولانا رضوان ہاشم اور دیگر معززین کے تعاون سے انہوں نے اپنے گاؤں سملیا میں آل انڈیا علماء و مشائخ بورڈ کی یونٹ قائم کی۔ اس یونٹ کے تحت علاقے میں فلاحی و دینی کاموں کا جال بچھایا گیا، جن میں مولانا شہباز عالم چشتی کی معاونت بھی شامل رہی۔ مختلف فلاحی اسکیموں، تعلیمی سہولیات اور مذہبی خدمات کے سلسلے میں مولانا احمد رضا نے نمایاں کردار ادا کیا۔




مدنی کیمرج اسکول: تعلیم و تربیت کا مرکز




مولانا محمد احمد رضا نہ صرف ایک عالمِ دین اور مضمون نگار ہیں، بلکہ ایک باصلاحیت تعلیمی منتظم بھی ہیں۔ وہ سورجاپور کے معروف تعلیمی ادارے مدنی کیمرج اسکول کے پرنسپل ہیں، جہاں جدید عصری تعلیم کے ساتھ ساتھ دین و اخلاق کی تربیت کا بھی خاص نظم کیا گیا ہے۔ اسکول کی انفرادیت یہ ہے کہ وہاں انگلش میڈیم تعلیم کے ساتھ دینیات کا مکمل نصاب بھی شامل ہے، جس سے طلبہ کی ہمہ جہتی تربیت ممکن ہو پاتی ہے۔




عقائد و نسبت




فقہی لحاظ سے مولانا محمد احمد رضا حنفی ہیں، اور عقائد کے باب میں ماتریدی مکتب فکر سے وابستہ ہیں۔ ان کا روحانی مشرب چشتی ہے اور وہ سلسلہ چشتیہ کی تعلیمات و روحانیت سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ عقیدہ و عمل دونوں میں ان کی روشنی قابل رشک ہے، مگر اس کے باوجود بعض بدخواہ عناصر ان کے بارے میں شبہات پھیلانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ مگر ان کی زندگی اور ان کا کردار اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ وہ ہمیشہ دین و سنیت پر ثابت قدم رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اہلِ سنت کے کئی جید علما سے ان کے گہرے تعلقات قائم ہیں۔






اختتامیہ




مولانا محمد احمد رضا چشتی اشرفی ایک ہمہ جہت، متوازن، اور فعال شخصیت ہیں۔ ان کی زندگی علم، عمل، خدمت، اخلاص، اور قیادت کا حسین امتزاج ہے۔ ان کی تحریری و تقریری صلاحیتیں، تنظیمی فہم، تعلیمی بصیرت اور فلاحی سرگرمیاں انہیں نئی نسل کے لیے ایک رول ماڈل بناتی ہیں۔ ایسے علماء کی موجودگی قوم و ملت کے لیے باعثِ رحمت اور وجہِ فخر ہے۔




#ahmadullahsaeedi #احمداللہ_سعیدی

پیر، 23 جون، 2025

ہمارے گاؤں سملیا میں ایک جدید ہسپتال کی اشد ضرورت



ہمارے گاؤں میں ایک جدید ہسپتال کی ضرورت — ایک اجتماعی فلاحی خواب


( تحریر:- محمد احمد رضا چشتی اشرفی رکن آل انڈیا علماء و مشائخ بورڈ یونٹ سملیا)

اللہ رب العزت کا بے پایاں شکر و احسان ہے کہ ہمارے گاؤں سملیا میں متعدد افراد ایسے ہیں جو مخیرین کی حیثیت سے ہمیشہ سماجی و فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ اسی طرح کئی حضرات وہ بھی ہیں جو دینی اور دنیاوی فلاح و بہبود کے لیے ہر وقت  مصروف رہتے ہیں۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف قابلِ تحسین ہے بلکہ ہمارے معاشرے کا ایک روشن اور مثبت پہلو بھی ہے۔

اگر ہم ترقی یافتہ ممالک کی طرف نگاہ دوڑائیں، تو ہمیں نظر آتا ہے کہ یورپ و امریکہ کے بیشتر گاؤں جدید سہولیات سے آراستہ ہیں۔ ہر گاؤں میں کھانے پینے کے لیے وسیع و عریض ریسٹورنٹ، علاج معالجے کے لیے جدید ہسپتال، شادی بیاہ کے لیے میرج ہال، تعلیم کے لیے معیاری کالج، اور کھیل و تفریح کے لیے اسٹیڈیم یا کھیل کے میدان موجود ہوتے ہیں۔ ان سہولیات کی دستیابی نے وہاں کے دیہی علاقوں کو بھی شہری ترقی کا ہم پلہ بنا دیا ہے۔

یہ منظرنامہ اگرچہ ہمارے گاؤں یا خطے کے دیہی علاقوں کے لیے بظاہر ایک خواب سا لگتا ہے، لیکن تاریخ شاہد ہے کہ مسلسل کوشش، عزم اور اخلاص کے ساتھ اگر کوئی قوم کسی خواب کو حقیقت میں بدلنے کی کوشش کرے تو اللہ تعالیٰ ضرور اس میں کامیابی عطا فرماتا ہے۔ البتہ یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ ہمارے گاؤں دیہات کو اس منزل تک پہنچنے کے لیے ابھی طویل سفر طے کرنا ہوگا، شاید کئی دہائیاں درکار ہوں۔

اس کے باوجود، امید کی کرنیں موجود ہیں۔ ہندوستان میں کئی دیہی علاقے، خصوصاً تمل ناڈو اور کیرالا جیسے ریاستوں کے گاؤں، ایسے ہیں جہاں آج بھی جدید طبی سہولیات میسر ہیں۔ وہاں ایسے ہسپتال قائم ہیں جہاں ہر طرح کے علاج حتیٰ کہ پیچیدہ آپریشن بھی بآسانی ممکن ہیں، اور مقامی لوگوں کو بڑے شہروں کا رخ نہیں کرنا پڑتا۔

اسی طرز پر اگر ہم اپنے گاؤں سملیا میں دستیاب مقامی وسائل، ڈاکٹروں، اور سماجی شخصیات کے تعاون سے ایک معیاری ہسپتال قائم کرنے کی سنجیدہ کوشش کریں، تو یہ ایک انقلابی قدم ہوگا۔ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ کسی مریض کو فوری علاج کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن پورنیہ یا کشن گنج جیسے شہروں تک لے جانے میں تاخیر کی وجہ سے قیمتی جانیں ضائع ہو جاتی ہیں۔ کبھی یہ تاخیر مالی تنگی کی وجہ سے، تو کبھی غفلت اور لاپروائی کے سبب ہوتی ہے۔

لہٰذا آج وقت کی اہم ترین ضرورت ہے کہ گاؤں میں ایک ایسا ہسپتال قائم کیا جائے جہاں کم از کم بنیادی طبی سہولیات، زچگی (ڈلیوری)، اور ابتدائی نوعیت کے آپریشنز ممکن ہو سکیں۔ اگر ہم اس ہدف میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یقیناً سملیا ایک مثالی گاؤں بن کر ابھرے گا اور ترقی کی نئی بلندیوں کو چھوئے گا۔

ہم اپنے گاؤں کے تمام اکابرین، اہل خیر، صاحبِ ثروت اور باشعور افراد سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس خواب کو شرمندۂ تعبیر بنانے کے لیے سنجیدگی سے غور کریں۔ اگر وہ اس کارِ خیر میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں، تو یہ نہ صرف موجودہ نسل کے لیے ایک بیش قیمت تحفہ ہوگا بلکہ آنے والی نسلیں بھی ان کو دعاؤں میں یاد رکھیں گی۔ اور قیامت تک ان کے اس عمل کی گونج گاؤں کے گلی کوچوں میں سنائی دیتی رہے گی۔


-: दज्जाल विरोधी प्रदर्शन की लहर :-

 -: दज्जाल विरोधी प्रदर्शन की लहर :- इज़राइली नौसेना की ओर से ग़ज़ा के लिए रवाना होने वाले "असतूल अल-समूद" को रोकने और उसकी कई नौक...