بدھ، 16 اگست، 2023

الفاظ



"الفاظ"


"الفاظ" کی اپنی ہی ایک دنیا ہوتی ہے۔ ہر "لفظ" اپنی ذمہ داری نبھاتا ہے، 

کچھ لفظ "حکومت" کرتے ہیں


کچھ "غلامی"


کچھ لفظ "حفاظت" کرتے ہیں


اور کچھ "وار"۔


ہر لفظ کا اپنا ایک مکمّل وجود ہوتا ہے ۔ جب سے میں نے لفظوں کو پڑھنے کے ساتھ ساتھ سمجھنا شروع کیا،


تو سمجھ آیا ۔۔۔۔!!


لفظ صرف معنی نہیں رکھتے،


یہ تو دانت رکھتے ہیں۔ ۔ ۔ جو کاٹ لیتے ہیں


یہ تو ہاتھ رکھتے ہیں، 

جو "گریبان" کو پھاڑ دیتے ہیں


یہ تو پاؤں رکھتے ہیں،

جو"ٹھوکر" لگا دیتے ہیں


اور ان لفظوں کے ہاتھوں میں "لہجے" کا اسلحہ تھما دیا جائے،

تو یہ وجود کو "چھلنی" کرنے پر بھی قدرت رکھتے ہیں۔ ۔ ۔


اپنے لفظوں کے بارے میں "محتاط" ہو جاؤ، 

انہیں ادا کرنے سے پہلے سوچ لو کہ یہ کسی کے "وجود' کو سمیٹیں گے

یا کرچی کرچی بکھیر دیں گے


کیونکہ


یہ تمہاری "ادائیگی" کے غلام ہیں اور تم ان کے بادشاہ


اور "بادشاہ" اپنی رعایا کا ذمہ دار ہوتا ہے 

اور اپنے سے "بڑے بادشاہ" کو جواب دہ بھی ...


❤️خوش رہیں اور خوشی بانٹتے رہیں ❤️


 

ہفتہ، 5 اگست، 2023

جنگ یمامہ

 #جنگ_یمامہ


مسیلمہ کذاب کے دعویٰ نبوت کے نتیجے میں لڑی گئی جہاں 1200 صحابہ کرامؓ کی شہادت ہوئی

اور اس فتنے کو مکمل مٹا ڈالا۔

خلیفہ اول سیدنا ابوبکر صدیقؓ خطبہ دے رہے تھے: لوگو! مدینہ میں کوئی مرد نہ رہے،اہل بدر ہوں

یا اہل احد سب یمامہ کا رخ کرو"

بھیگتی آنکھوں سے وہ دوبارہ بولے:

مدینہ میں کوئی نہ رہے حتٰی کہ جنگل کے

درندے آئیں اور ابوبکرؓ کو گھسیٹ کر لے جائیں"

صحابہ کرامؓ کہتے ہیں کہ اگر علی المرتضیؓ

سیدنا صدیق اکبرؓ کو نہ روکتے تو وہ

خود تلوار اٹھا کر یمامہ کا رخ کرتے۔


13 ہزار کے مقابل بنوحنفیہ کے 70000 جنگجو

اسلحہ سے لیس کھڑے تھے۔

یہ وہی جنگ تھی جس کے متعلق اہل مدینہ کہتے تھے: "بخدا ہم نے ایسی جنگ نہ کبھی پہلے لڑی

نہ کبھی بعد میں لڑی"

اس سے پہلے جتنی جنگیں ہوئیں بدر احد

خندق خیبر موتہ وغیرہ صرف 259 

صحابہ کرام شہید ھویے تھے۔ ختم نبوت ﷺ کے دفاع میں 1200صحابہؓ کٹے جسموں کے

ساتھ مقتل میں پڑے تھے۔


اے قوم! تمہیں پھر بھی ختم_نبوتﷺ کی

اہمیت معلوم نہ ہوئی۔

انصار کا وہ سردار ثابت بن قیس ہاں وہی

جس کی بہادری کے قصے عرب و عجم 

میں مشہور تھے

اس کی زبان سے جملہ ادا ہوا:

اےالله ! جس کی یہ عبادت کرتے ہیں میں

اس سے برأت کا اظہار کرتا ہوں"


چشم فلک نے وہ منظر بھی دیکھا جب

وہ اکیلا ہزاروں کے لشکر میں گھس گیا اور اس وقت تک لڑتا رہا جب تک اس کے جسم

پر کوئی ایسی جگہ نہ بچی جہاں شمشیر

و سناں کا زخم نہ لگا ہو۔

عمربن خطاب رضی اللہ عنہ کا لاڈلا بھائی۔۔۔۔ ہاں وہی زید بن خطابؓ جو اسلام لانے میں صف اول میں شامل تھے انہوں نے مسلمانوںبمیں آخری خطبہ دیا:


والله ! میں آج کے دن اس وقت تک کسی سے

بات نہ کرونگا جب تک کہ انہیں شکست

نہ دے دوں یا شہید نہ کر دیا جاؤں"

اے قوم! تمہیں پھر بھی ختم نبوتﷺ کی

اہمیت معلوم نہ ہوئی۔


وہ بنو حنفیہ کا باغ "حدیقۃ الرحمان" تھا جس میں اتنا خون بہا کہ اسے "حدیقۃ الموت" کہا جانے لگا۔ وہ ایسا باغ تھا جس کی

دیواریں مثل قلعہ کے تھیں

کیا عقل یہ سوچ سکتی ہے کہ ہزاروں کا

لشکر ہو اور براء بن مالکؓ کہے:

*"لوگو! اب ایک ہی راستہ ہے تم مجھے

اٹھا کر اس قلعے میں پھینک دو میں

تمہارے لئے دروازہ کھولونگا"


اس نے قلعہ کی دیوار پر کھڑے ہو کر

منکرین ختم نبوت کے اس لشکر جرار

کو دیکھا اور پھر تن تنہا اس قلعے میں

چھلانگ لگا دی

قیامت تک جو بھی بہادری کا دعوی کرے گا

یہاں وہ بھی سر پکڑ لے گا!!!


ایک اکیلا شخص ہزاروں سے لڑ رہا تھا 

ہاں اس نے دروازہ بھی کھول دیا اور

پھر مسلمانوں نے منکرین ختم نبوتؐ 

کو کاٹ کر رکھ دیا

*اے قوم! کاش کہ تم جان لیتے کہ 

تمہارے اسلاف نے اپنی جانیں دے کر

رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی

ختم نبوت کا دفاع کیا ہے۔۔۔۔

کاش تمہیں یا رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم

کہتے ان صحابہؓ کے جذبوں کا علم ہوتا جو ایک

مٹھی بھر جماعت کے ساتھ حد نگاہ تک

پھیلے لشکر سے ٹکرا گئے۔۔۔۔


قادیانیت ایک بہت بڑے فتنے کی صورت میں نمودار ہے

پس ہر صاحب ایمان کے ذمے ہے کہ وہ

اس کے سدباب کی کوششوں میں شریک ہو. 


اے مسلمانوں، تحفظ ختم نبوتؓ کے جہاد میں اپنا اپنا کردار ادا کرو تا کہ قیامت کے دن خاتم النبیین صلى الله عليه وسلم کی شفاعت نصیب ہو

🤲 آخر میں میری آپ تمام دوستوں سے التماس ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی اس داستان عشق وقربانی کو تمام مسلمانوں کے سامنے رکھنے کی غرض سے اس


تحریر کو

آگے منتقل کرنے کےلئے اپنا کردار ادا کیجئے۔


#جنگ_یمامہ #ختم_نبوت

#احمد_اللہ_سعیدی_عارفی

ساون اور سانپ

 #ساون کی دو تاریخ ہے __ ساون اور بھادوں دو ماہ سانپوں کے ملاپ کے اور مستی کے ہوتے ہیں لہذا احتیاط کریں ساون اور بھادوں دونوں ماہ ہر رنگ و نسل کے سانپ ملاپ کرتے ہیں اور جب ناگ اور ناگن ملاپ کرتے ہیں تو پھر یہ اپنے ملاپ میں کسی کی مداخلت پسند نہیں کرتے ۔۔

سانپوں کے ملاپ کے اوقات نوٹ کیجئیے ۔۔۔سانپ عصر کے بعد سے لیکر پوری رات اور صبح طلوع آفتاب کے وقت تک ساتھ رہتے ہیں پھر محدود فاصلے پہ دور ہو جاتے ہیں پھر دوبارہ عصر کے وقت ملاپ کرتے ہیں __ 

دیہاتی ، پہاڑی ، جنگلی علاقہ جات کے لوگ ساون بھادوں میں یہ دو ماہ ساون بھادوں تک عصر کے بعد سے لیکر مکمل رات اور طلوع آفتاب تک نہایت احتیاط کریں ۔۔۔رات کو ہر صورت ٹارچ لیکر باہر نکلیں اور نظریں نیچے زمین پہ رکھیں __ بچوں کو رات کے وقت ہرگز ہرگز گھر سے باہر مت نکلنے دیں بلکہ گھر میں اگر پودے درخت یا گھاس وغیرہ ہے تو انکے پاس بھی مت جانے دیں ۔۔

رات کے وقت کھیتوں و فصلوں میں نہ جائیں اگر مجبورا" جانا پڑ جائے تو بہت زیادہ احتیاط کریں ، 

سانپوں کی اکثریت پانی کے ندی نالوں کے پاس ہوتی ہے 

کالے ناگ سانپ کی جوڑی بہتے پانی کے پاس ہوتی ہے ۔۔۔

اچھیا دھاری ناگ کی جوڑی ریگستانی علاقے میں ہوتی ہے ۔۔۔

کھپرا سانپ کی جوڑی ٹھنڈی جگہ جہاں پہ نمی ہو وہاں ہوتی ہے ۔۔

تیر سانپ کی جوڑی کسی بھی پھل دار درخت کے پاس ہوتی ہے ۔۔

دو موئی سانپ کی جوڑی اکثر پرانے کھنڈرات یا ویران کنوئیں کی جھاڑیوں میں ہوتی ہے ۔۔

اکثر سانپ رات کے وقت ڈستے ہیں جب انکی دم پہ پاوں رکھ دیا جائے تب __

کالا ناگ صرف اپنے دفاع میں ڈستا ہے ورنہ پہلے حملہ نہیں کرتا ۔۔۔

کھپرا سانپ نے اپنے مرشد گوگا پیر کو بھی ڈس لیا تھا لہذا یہ کھپرا بے مرشدا سانپ ہوتا ہے یہ قابل بھروسہ نہیں ہوتا اسے جب بھی موقع ملے یہ کاٹ لیتا ہے ۔۔۔

کھپرا سانپ اتنی جلدی اپنی جگہ نہیں بدلتا.

احمد اللہ سعیدی عارفی



جمعہ، 4 اگست، 2023

منفی بات جذب نہ کریں

 *منفی بات جذب نہ کریں!*


🚫منفی بات جذب نہیں کرنی۔

یہ اہم اصول بنا لیں اور بچوں کو اس کی مشق بچپن سے ہی کرائیں۔ 

🍀 بچوں کو پابند بنائیں کہ کوئی بھی منفی بات، رویہ یا منظر اپنی ذات میں جذب کرنے سے پہلے آپ (والدین) سے رجوع ضرور کریں۔ 

✅اب آپ کو تیار رہنا ہے کہ منفی بات، رویہ یا منظر جب آپ کو بتایا جائے تو اس کو بچوں کی عمر کے لحاظ سے مثبت بات میں بدل دیں، اس کی نفی کر دیں یا بچوں کا دھیان ہٹا دیں۔   


🍀مثلا” کسی رشتہ دار نے کہا کہ فلاں رشتہ دار اچھا انسان نہیں۔ اوّل تو بچوں کو سکھائیں کہ ایسی کسی گفتگو کا حصہ نہ بنیں، لیکن اگر انھوں نے سن لیا ہے تو بچوں کی عادت بنائیں کہ منفی بات جذب نہ کریں۔ بلکہ آپ کو بتائیں۔ اب آپ کہ سکتے ہیں کہ بتانےوالے کو غلط فہمی ہو گئی ہو گی، یا مذکورہ شخص سے غلطی ہو گئی ہو گی اور کسی کو بھی کسی ایک غلطی کی بنا پہ بُرا انسان نہیں گردانا جا سکتا۔ 

🍀اسی طرح کوئی بچوں کو بتائے کہ فلاں دوست یا شخص آپ کے متعلق نامناسب بات بتا رہا تھا تو بچے کو بتائیں کہ سُنی سنائی بات پر کبھی یقین نہ کریں اور نہ ہی دھیان دیں۔ اگر کسی کو آپ سے مسئلہ ہوگا تو وہ خود آپ سے بات کرے گا نہ کہ کوئی تیسرا آپ کو بتائے گا۔ 

کان بھرنے والوں کی وجہ سے بہت سے افراد آپس میں تنازعات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس چھوٹی سی مشق سے ہم کان بھرنے والوں کو شکست دے سکتے ہیں۔ اور بچوں کو منفی سوچ اور رویے کو جذب کرنے سے بچانے میں مدد دے سکتے ہیں۔

⛔️بچپن سے ہی والدین یا رشتہ داروں کی منفی باتیں سُن سُن کر بچے بھی منفی سوچنے لگتے ہیں۔ اور یہی منفی سوچ ان کی شخصیت پہ حاوی ہو جاتی ہے۔


✅بچوں کے صاف شفاف، معصوم اور ناپختہ ذہنوں کو منفی رویے/سوچ/منظر کی نفی کرنا سکھائیں۔ صرف مثبت سوچنا اور ہر رویے سے مثبت پہلو کو تلاش کرنا سکھائیں۔ بات تو چھوٹی سی ہے مگر بچوں کی زندگی, سوچ، گفتگو، عمل، آپس کے تعلقات، روزمرہ معاملات، جسمانی و ذہنی صحت، پر اس کا مثبت اثر ہو گا۔ 



منگل، 11 جولائی، 2023

اسباب زوال امت

 *اسباب زوال امت*



⬅️ امت سے خلافت یا منصفانہ اسلامی نظام حكومت کا ختم ہوجانا


⬅️ امت سے مرکزی نظام یا اجتماعی سسٹم کا خاتمہ ہوجانا اورہر سو لامرکزیت اور طوائف الملوکی کا عام ہوجانا


⬅️ ایمان بالآخرت اور تعلق مع اللہ کا کمزور ہوجانا اور دنیاوی مال ومتاع بٹورنے کی دھن میں فانی زندگی کی محبت اور موت کا خوف ہمہ وقت ذہن پر سوار ہوجانا


⬅️ ذکر اللہ اور دینی عبادات میں خشوع وخضوع کا افسوسناک حد تک کم ہوجانا 


⬅️ اجتہادی صلاحیت رکھنے والے اہل علم کا فقدان یا ان کی تعداد میں افسوسناک کمی


⬅️ اقربا پروری کا امت میں عام ہوجانا اور تنظیمی اور ادارہ جاتی لیول پر اس وبا کا قانون کی شکل اختیار کرلینا


⬅️ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر جیسے عظیم شعبوں کا تقریبا کالعدم ہوجانا


⬅️ حق گوئی اور بے باکی کی جگہ تملق، مکاری اور روباہی کا عام ہوجانا


⬅️ طاقتور اور اہل ثروت کے سامنے جھک جانا اور کمزوروں پر ظلم کرنا


⬅️ علماء دنیا اور فقہاء دولت کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوجانا


⬅️ علماء سوء کی کثرت اور مختلف جگہوں پر ان کا غلبہ اور بول بالاہونا


⬅️ نسل پرستی، قبائلیت، ذات پات اور خاندانی عصبیت کا عام ہوجانا


⬅️ فروعی مسائل میں اپنی انرجی تباہ کرنا اور اصولی مسائل سے بے خبر رہنا یا دانستہ اورنا دانستہ اعراض کرنا


⬅️ بے جا وغیر ضروری مباحثات ومناقشات وجدل ومناظرہ میں دوسروں کے ساتھ الجھ کر اپنا قیمتی وقت ضائع کرنا 


⬅️ ایک ہی مسلک سے منسلک مختلف ضمنی گروہوں کی باہم رسہ کشی اور ایک دوسرے کے ساتھ برسرپیکار رہنا


⬅️ بڑی بڑی تنظیموں اور اداروں میں باہمی اختلافات اور نزاعات کا ظاہر ہونا اور کئی حصوں اور دھڑوں میں بٹ جانا اور اپنی توانائی فریق مخالف کے عیوب ونقائص کی تشہیر اور اس کے خلاف ریشہ دوانیوں میں صرف کرنا


⬅️ دینی مدارس اور اسلامی مراکز میں اعلی تعلیمی اور تربیتی معیار کا افسوسناک حد تک گرجانا


⬅️ اسلام کی تابندہ تاریخ اور عظمت اور روح اسلام سے سرشار نہ ہونا اور دینی حمیت وغیرت سے خالی ہونا


⬅️ تحقیق وریسرچ اور نت نئی ابداعات اور اختراعات کے میدان میں قیادت کی پوزیشن سے ہٹ جانا


⬅️ حساس اور اہم ترین مناصب پر نا اہلوں کا تسلط اور قحط الرجال کے دور میں قتل الرجال کا ارتکاب کرنا


⬅️ اسلام کے اخلاقی اور سماجی نظام کو اپنی زندگیوں کے تمام شعبوں میں کلی طور پر یا بڑی حد تک نافذ کرنے میں ناکام ہوجانا


⬅️ خطبات ومواعظ کو ذاتی اصلاح اور عبرت کے بجائے کانوں کی لذت کے لیے سننا


⬅️ خطباء وواعظین کے قول وعمل میں تضاد ہونا


⬅️ ہر دور اور زمانے کے تقاضوں کے مطابق جنگی، تعلیمی، سائنسی، طبی اور دیگر سماجی علوم اور رفاہی خدمات میں اپنی کارکردگی کے ذریعہ انسانی سماج کے لیے اپنی نافعیت کوثابت کرنے میں ناکام ہوجانا


⬅️ اپنی ناکامی، شکست اور کمزوریوں کو دشمن کی سازش کہہ کر مطمئن ہوجانا اور ہر چیز میں سازش کا پہلو متعین کرلینا اور اپنے آپ کو ہر لیول پر طاقتور بنانے کی ذمہ داری سے غافل رہنا


⬅️ سوشل میڈیا کے اس دور میں زمینی لیول پر سنجیدہ کام کرنے سے زیادہ سوشل میڈیا پراپنی توانائی صرف کرنا اوراپنے چھوٹے بڑے، جھوٹے سچے کارناموں کو خوب اجاگر کرنا، یا حقیقت سے زیادہ بڑھا چڑھاکر بیان کرنا، اور بسا اوقات دجل وتدلیس سے کام لینا


⬅️ اسباب زوال وغیرہ کا تجزیہ کرنا؛ لیکن ان کے حل کے لیے ٹھوس عملی اقدامات کرنے میں ناکام رہنا


پیر، 10 جولائی، 2023

آپ کی زندگی میں تین قسم کے لوگ آئیں گے۔



  *آپ کی زندگی میں تین قسم کے لوگ آئیں گے۔*


 1⃣ درخت کے


پتوں جیسے لوگ 2⃣شاخوں اور ٹہنیوں جیسے لوگ 3⃣درخت کے جڑوں جیسے لوگ   


1⃣ پتوں جیسے لوگ: یہ وہ لوگ ہیں جو آپ کی زندگی میں صرف ایک موسم کے لیے آتے ہیں۔ آپ ان پر انحصار نہیں کر سکتے کیونکہ وہ کمزور ہیں۔ وہ صرف جو چاہتے ہیں لینے آتے ہیں، لیکن ہوا آئی تو چلے جائیں گے۔ آپ کو ان لوگوں سے محتاط رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ جب حالات ٹھیک ہوتے ہیں تو یہ آپ سے پیار کرتے ہیں لیکن جب ہوا آئے گی تو وہ آپ کو چھوڑ دیں گے ۔  

2⃣ شاخوں اور ٹہنیوں جیسے لوگ: یہ لوگ مضبوط ہیں، لیکن آپ کو ان کے ساتھ بھی محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ جب زندگی مشکل ہوجاتی ہے اور وہ بہت زیادہ وزن نہیں سنبھال پاتے ہیں تو وہ الگ ہوجاتے ہیں۔ وہ کچھ موسموں میں آپ کے ساتھ رہ سکتے ہیں، لیکن جب یہ مشکل ہو جائے گا تو چلے جائیں گے۔  

3⃣ جڑوں جیسےلوگ: یہ لوگ بہت اہم ہیں کیونکہ یہ دکھاوا نہیں کرتے ۔ یہ آپ کا ساتھ دل سے دیتے ہیں یہاں تک کہ اگر آپ کسی مشکل وقت سے گزر رہے ہوں تو آپ کی ہر طرح مدد کریں گے اور وہ آپ کی پوزیشن سے متاثر نہیں ہوتے ہیں وہ آپ سے اسی طرح پیار کرتے ہیں




منگل، 27 جون، 2023

افسوس صد افسوس

 دوستوں۔۔۔۔۔!!!!! محافل و مجالس کا انعقاد باعث ثواب ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے ہی  دعوت و تبلیغ ، وعظ و نصیحت یا قوم مسلم تک کوئی اہم پیغام پہنچانے کے لیے  اس کا اہتمام ہوتا رہا ہے۔


      ماضی قریب بہ بعید  تک یہی نہج قائم رہا لیکن انتہائی افسوس کی بات ہے کہ دور حاضر کے محفلوں اور مجلسوں میں مذکورہ بالا مقاصد کا فقدان ہے۔

ماضی میں علماء کی اکثریت بے لوث دین کی دعوت و تبلیغ اور ترویج و اشاعت میں مصروف رہتی تھی چاہے وہ علاقائی سطح کے ہوں،ملکی سطح کے یا پھر عالمی سطح کے، حتی الوسع اکثر علماء دین کے لیے اپنی توانائی صرف کرتے تھے۔قوم مسلم کو نیا نظریہ دیتے تھے۔ ہر آن  ان کی ایک نئی شان ہوتی تھی ۔  لیکن افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ آج کے علماء میں وہ بات نہ رہی۔ (الا ما شاء اللہ)

موجودہ دور کے علماء و پیران عظام سے اسلاف کا اگر تقابلی جائزہ لیں تو یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ ماضی کے علمائے کرام اور بزرگان دین نے مذہب  اسلام کی دعوت و تبلیغ اور ترویج و اشاعت کے ساتھ ساتھ اپنے روزینہ کا انتظام بقدر ضرورت خود کیا یا پھر اسلامی حکومت انہیں بقدر ضرورت ہی وظیفہ دیا کرتی  تھی ۔

تاریخ کے کسی بھی کتاب میں ایسا کوئی واقعہ درج نہیں ہے کہ قوم مسلم کو دین سمجھانے،کوئی نیا نظریہ دینے،یا وعظ و نصیحت کے لیے خلفائے راشدین،ائمہ اربعہ ، فقہائے کرام و محدثین عظام ، حضرت ابوسعید ابوالخیر قدس سرہ ،حضور غوث پاک رضی اللہ تعالی عنہ ، حضرت امام غزالی قدس سرہ ،حضرت خواجہ معین الدین چشتی سنجری قدس سرہ ،حضرت خواجہ نظام الدین قدس سرہ ، حضرت مخدوم جہانگیر سمنانی قدس سرہ، حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہ الرحمہ، مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ ، حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ وغیرہ اور ان ادوار کے دیگر علمائے کرام و بزرگان دین نے اسلامی حکومت کی جانب سے طے شدہ وظیفے کے علاوہ یا پھر انہیں جو تحائف پیش کیے جائیں اس کے علاوہ کسی رقم کی مانگ کی ہو ۔

لیکن انتہائی افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ آج معاملہ اس کے برخلاف ہے۔ گنے چنے پیران عظام اور علمائے کرام ہی آپ کو ایسے ملیں گے کہ وہ آج بھی دین کا کام اپنے اسلاف کی روش پر قائم رہتے ہوئے بے لوث انجام دے رہے ہیں ۔

ایک تو آج کے علماء میں دین کے تفقہ کا فقدان ہے۔ اوپر سے ان کے نخرے اور مطالبات ۔ اللہ خیر کرے ۔ ایسے کیسے مسلمانوں میں دینی بیداری آئے گی؟؟؟؟

مسلمانوں کے مابین دعوت و تبلیغ اور دین کا کوئی اہم پیغام پہنچانے کا  یا پھر انہیں دین سکھانے کا بہترین اور مؤثر ذریعہ جمعہ کے  دن خطاب اور گاؤں میں منعقد ہونے والی میلاد کی محفلیں یا کوئی بھی پروگرام ہیں۔ لیکن انتہائی خیبت و خسرانی والی بات یہ ہے کہ ایسے اہم موقع  پر وہاں کے امام صاحب یا پھر علاقائی علماء عوام کی امیدوں پر کھڑا نہیں اترتے۔ (الا ما شاء اللہ)

ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ" بات اگرچہ بہت عمدہ ہو لیکن بار بار اس کے تذکرے سے سامع کے نزدیک اس کی اہمیت کم ہوتی چلی جاتی ہے" ۔ ہمارے علاقائی علماء کی حالت کچھ ایسی ہے کہ مطالعہ کی کمی کی بنا پر اپنی تقریروں میں وہ واقعات کی تکرار کرتے ہیں۔ قران و حدیث سے براہ راست دلیل نہ دے کر ادھر ادھر کی غیر مؤثر باتیں کرتے ہیں۔ جس کی وجہ سے عوام ذہنی خلجان کا شکار ہو جاتی ہیں اور پھر وہ خطیب کی جانب سے توجہ کہیں اور مبذول کر لیتا ہے ۔

آج  گاؤں میں ایک جگہ میلاد کی محفل  منعقد تھی ۔ ہمارے گاؤں کے ایک عالم دین کو خطاب کے لیے مدعو کیا گیا ۔ موصوف ادھا گھنٹہ تقریر کیے جس میں انہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا خواب،حضرت ہاجرہ رضی اللہ تعالی عنہا کا صفا و مروہ کے مابین چکر لگانا،حضرت اسماعیل علیہ السلام کا اپنے والد حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے تابع وہ فرمانبردار ہونا بتایا۔  علاوہ ازیں  اسی سے متعلق دو چار باتیں انہوں نے مزید کیں۔  بلا شبہ مذکورہ بالا سبھی باتیں اہمیت کی متحمل ہیں۔ غور طلب یہ ہے کہ یہ باتیں اکثر لوگ تقریبا 20 سال سے سنتے آ رہے ہیں۔ یہ ہم معلومات تو آپ نے انہیں بارہا دیا ہے ۔ تو کیا آپ اپنی پوری زندگی بھر ، جب کبھی بھی آپ کو ذی الحجہ کے مہینے میں خطاب کرنے کا موقع دیا جائے گا تو کیا آپ صرف انہی واقعات کو بیان کیجئے گا؟؟؟؟؟  کیا اس مہینے میں عوام الناس کے لیے کچھ اور نہیں ہے اپ کے پاس؟

انہی وجوہات کی بنا پر آج قوم مسلم دین سے بیزار ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ قوم پیاسی ہے لیکن علماء کے پاس قوم مسلم کی پیاس بجھانے کے لیے مواد نہیں۔

راقم :- احمد اللہ سعیدی عارفی

ہندوستانی مسلمانوں کے مسائل،قیادت کی خاموشی،اور مستقبل کے خدشات

آج ہندوستان میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے ساتھ جس طرزِ عمل کا مشاہدہ کیا جا رہا ہے، وہ نہایت تشویش ناک اور فکر انگیز ہے۔ متعدد مواقع پر ا...