منگل، 27 جون، 2023

افسوس صد افسوس

 دوستوں۔۔۔۔۔!!!!! محافل و مجالس کا انعقاد باعث ثواب ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے ہی  دعوت و تبلیغ ، وعظ و نصیحت یا قوم مسلم تک کوئی اہم پیغام پہنچانے کے لیے  اس کا اہتمام ہوتا رہا ہے۔


      ماضی قریب بہ بعید  تک یہی نہج قائم رہا لیکن انتہائی افسوس کی بات ہے کہ دور حاضر کے محفلوں اور مجلسوں میں مذکورہ بالا مقاصد کا فقدان ہے۔

ماضی میں علماء کی اکثریت بے لوث دین کی دعوت و تبلیغ اور ترویج و اشاعت میں مصروف رہتی تھی چاہے وہ علاقائی سطح کے ہوں،ملکی سطح کے یا پھر عالمی سطح کے، حتی الوسع اکثر علماء دین کے لیے اپنی توانائی صرف کرتے تھے۔قوم مسلم کو نیا نظریہ دیتے تھے۔ ہر آن  ان کی ایک نئی شان ہوتی تھی ۔  لیکن افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ آج کے علماء میں وہ بات نہ رہی۔ (الا ما شاء اللہ)

موجودہ دور کے علماء و پیران عظام سے اسلاف کا اگر تقابلی جائزہ لیں تو یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ ماضی کے علمائے کرام اور بزرگان دین نے مذہب  اسلام کی دعوت و تبلیغ اور ترویج و اشاعت کے ساتھ ساتھ اپنے روزینہ کا انتظام بقدر ضرورت خود کیا یا پھر اسلامی حکومت انہیں بقدر ضرورت ہی وظیفہ دیا کرتی  تھی ۔

تاریخ کے کسی بھی کتاب میں ایسا کوئی واقعہ درج نہیں ہے کہ قوم مسلم کو دین سمجھانے،کوئی نیا نظریہ دینے،یا وعظ و نصیحت کے لیے خلفائے راشدین،ائمہ اربعہ ، فقہائے کرام و محدثین عظام ، حضرت ابوسعید ابوالخیر قدس سرہ ،حضور غوث پاک رضی اللہ تعالی عنہ ، حضرت امام غزالی قدس سرہ ،حضرت خواجہ معین الدین چشتی سنجری قدس سرہ ،حضرت خواجہ نظام الدین قدس سرہ ، حضرت مخدوم جہانگیر سمنانی قدس سرہ، حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی علیہ الرحمہ، مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ ، حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ وغیرہ اور ان ادوار کے دیگر علمائے کرام و بزرگان دین نے اسلامی حکومت کی جانب سے طے شدہ وظیفے کے علاوہ یا پھر انہیں جو تحائف پیش کیے جائیں اس کے علاوہ کسی رقم کی مانگ کی ہو ۔

لیکن انتہائی افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ آج معاملہ اس کے برخلاف ہے۔ گنے چنے پیران عظام اور علمائے کرام ہی آپ کو ایسے ملیں گے کہ وہ آج بھی دین کا کام اپنے اسلاف کی روش پر قائم رہتے ہوئے بے لوث انجام دے رہے ہیں ۔

ایک تو آج کے علماء میں دین کے تفقہ کا فقدان ہے۔ اوپر سے ان کے نخرے اور مطالبات ۔ اللہ خیر کرے ۔ ایسے کیسے مسلمانوں میں دینی بیداری آئے گی؟؟؟؟

مسلمانوں کے مابین دعوت و تبلیغ اور دین کا کوئی اہم پیغام پہنچانے کا  یا پھر انہیں دین سکھانے کا بہترین اور مؤثر ذریعہ جمعہ کے  دن خطاب اور گاؤں میں منعقد ہونے والی میلاد کی محفلیں یا کوئی بھی پروگرام ہیں۔ لیکن انتہائی خیبت و خسرانی والی بات یہ ہے کہ ایسے اہم موقع  پر وہاں کے امام صاحب یا پھر علاقائی علماء عوام کی امیدوں پر کھڑا نہیں اترتے۔ (الا ما شاء اللہ)

ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ" بات اگرچہ بہت عمدہ ہو لیکن بار بار اس کے تذکرے سے سامع کے نزدیک اس کی اہمیت کم ہوتی چلی جاتی ہے" ۔ ہمارے علاقائی علماء کی حالت کچھ ایسی ہے کہ مطالعہ کی کمی کی بنا پر اپنی تقریروں میں وہ واقعات کی تکرار کرتے ہیں۔ قران و حدیث سے براہ راست دلیل نہ دے کر ادھر ادھر کی غیر مؤثر باتیں کرتے ہیں۔ جس کی وجہ سے عوام ذہنی خلجان کا شکار ہو جاتی ہیں اور پھر وہ خطیب کی جانب سے توجہ کہیں اور مبذول کر لیتا ہے ۔

آج  گاؤں میں ایک جگہ میلاد کی محفل  منعقد تھی ۔ ہمارے گاؤں کے ایک عالم دین کو خطاب کے لیے مدعو کیا گیا ۔ موصوف ادھا گھنٹہ تقریر کیے جس میں انہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا خواب،حضرت ہاجرہ رضی اللہ تعالی عنہا کا صفا و مروہ کے مابین چکر لگانا،حضرت اسماعیل علیہ السلام کا اپنے والد حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے تابع وہ فرمانبردار ہونا بتایا۔  علاوہ ازیں  اسی سے متعلق دو چار باتیں انہوں نے مزید کیں۔  بلا شبہ مذکورہ بالا سبھی باتیں اہمیت کی متحمل ہیں۔ غور طلب یہ ہے کہ یہ باتیں اکثر لوگ تقریبا 20 سال سے سنتے آ رہے ہیں۔ یہ ہم معلومات تو آپ نے انہیں بارہا دیا ہے ۔ تو کیا آپ اپنی پوری زندگی بھر ، جب کبھی بھی آپ کو ذی الحجہ کے مہینے میں خطاب کرنے کا موقع دیا جائے گا تو کیا آپ صرف انہی واقعات کو بیان کیجئے گا؟؟؟؟؟  کیا اس مہینے میں عوام الناس کے لیے کچھ اور نہیں ہے اپ کے پاس؟

انہی وجوہات کی بنا پر آج قوم مسلم دین سے بیزار ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ قوم پیاسی ہے لیکن علماء کے پاس قوم مسلم کی پیاس بجھانے کے لیے مواد نہیں۔

راقم :- احمد اللہ سعیدی عارفی

اتوار، 28 مئی، 2023

عورت آخر چاہتی کیا ہے ؟؟؟

 *عورت آخر چاہتی کیا ہے؟؟*


ایک عالم کو پھانسی ہونے والی تھی۔

راجا نے کہا: تمہاری جان بخش دوں گا، اگر میرے ایک سوال کا صحیح جواب بتا دو گے۔

سوال تھا کہ عورت آخر چاہتی کیا ہے؟

عالم نے کہا: مہلت ملے تو پتا کرکے بتا سکتا ہوں.

راجا نے ایک سال کی مہلت دے دی.

عالم بہت گھوما بہت لوگوں سے ملا.

پر کہیں سے بھی کوئی تسلی بخش جواب نہ ملا۔

آخر میں کسی نے کہا دور جنگل میں ایک چڑیل رہتی ہے۔

وہ ضرور بتا دے گی تمھیں اس سوال کا جواب۔

عالم اُس چڑیل کے پاس پہنچا اور اپنا سوال اُسے بتایا۔

چڑیل نے کہا کہ میں ایک شرط پر بتاؤ گی۔

اگر تم مجھ سے شادی کر لو۔ اُس نے سوچا صحیح جواب نہ معلوم ہوا تو جان راجا کے ہاتھوں جانی ہی ہے۔

اسی لیے شادی کی رضامندی دے دی۔ شادی ہو جانے کے بعد چڑیل نے کہا: چونکہ تم نے میری بات مان لی ہے تو میں نے تمہیں خوش کرنے کے لیے فیصلہ کیا ہے۔  12 گھنٹے میں چڑیل اور 12 گھنٹے خوبصورت پری بن کے رہوں گی۔

اب تم یہ بتاؤ کہ دن میں چڑیل رہو یا رات کو؟

اُس نے سوچا اگر یہ دن میں چڑیل ہوئی تو دن نہیں گزرے گا اور رات میں ہوئی تو رات نہیں گزرے گی۔

آخر میں اُس عالم نے کہا: جب تمہارا دل کرے پری بن جانا، جب دل کریں چڑیل بن جانا۔

یہ بات سن کر چڑیل نے خوش ہوکر کہا چونکہ تم نے مجھے اپنی مرضی کی چھوٹ دے دی ہے، تو میں ہمیشہ ہی پری بن کے رہا کروں گی۔


آخر اسے اس سوال کا جواب مل گیا۔

*عورت ہمیشہ اپنی مرضی کا کام کرنا چاہتی ہے۔ اگر عورت کو اسکی مرضی کرنے دو گے تو وہ پری بن کر رہے گی۔❤️ اگر نہیں کرنے دو گے تو چڑیل بن کر رہے گی۔*

احمد اللہ سعیدی عارفی



جمعہ، 26 مئی، 2023

غیر مسلموں کے ساتھ احسان


 


غیر مسلموں کے ساتھ ” احسان“ 

                                                           

            ﷽ 

 💞 زیربحث آیت؟ اِنَّ اللّٰهَ يَأْمُرُبِالْعَدْلِ 💞           


☜📚 اسلام تمام انسانوں کے ساتھ ” احسان “ کی تعلیم دیتا ہے جن میں غیر مسلم بھی شامل ہیں، انسان ہونے کے ناطے ان کے ساتھ بھی اچھا برتاؤ کرنا اسلام کی تعلیمات میں داخل ہے؛ چنانچہ

◆☜ الف:—— اگر کوئی رشتہ دار غیر مسلم ہو تو اس کے ساتھ حسن سلوک اسی طرح کیا جائے گا جیسا کہ مسلمان رشتہ داروں کے ساتھ کیا جاتاہے۔ 

🌸 نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اپنے قبیلہ کو اسلام کی دعوت دی تو صاف طور پر یہ ارشاد فرمایا 🌸

📚 يَابَنِيْ كَعْبِ بْنِ لُؤَيٍّ انْقِذُوْا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ...... غَيْرَأَنَّ لَكُمْ رَحِمَاً سَأَبُلُّهَا بِبِلاَ لِهَا 📚

[ مسلم شریف ۱/ ۱۱۴ رقم ۲۰۴]

◆☜ اے کعب بن لؤی کے خاندان والو! تم خود اپنے کو جہنم سے بچانے کی فکر کرو (بعد ازاں آپ نے دیگر افرادِ خاندان کا نام لے کر یہی بات کہی، پھر فرمایا) مگر تم سے رشتہ داری کا تعلق ہے، تو اس کو میں ترو تازہ رکھوں گا۔

◆☜ اور صحیح روایات میں ہے کہ حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہ کی والدہ، قیلہ بنت عبدالعزیز، صلح حدیبیہ کے بعد مشرکہ ہونے کی حالت میں مدینہ منورہ آئیں، وہ کچھ مالی تعاون چاہتی تھیں، حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے اس بارے میں پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام سے مسئلہ پوچھا کہ: کیا میں اپنی والدہ کے ساتھ حسن سلوک کروں؟ تو پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ: ہاں! اپنی والدہ کے ساتھ صلہ رحمی کرو“۔

[ بخاری شریف ۱/ ۳۵۷ حدیث ۲۶۲۰]

◆☜ اور بخاری شریف میں  ” باب صلۃ الأخ المشرک “ قائم کر کے یہ روایت ذکر کی گئی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم  کا عطا کردہ ایک ریشمی جوڑا حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی منشاء کے مطابق اپنے رضاعی بھائی ”عثمان بن حکیم “ کومکہ بھیجا تھا، جو اس وقت تک اسلام نہ لائے تھے۔

[ بخاری شریف ۲/ ۸۸۴ حدیث ۵۹۸۱]

◆☜ اس سے معلوم ہواکہ رشتہ داری کے اعتبار سے حسن سلوک کا حکم عام ہے، مسلمانوں کے ساتھ خاص نہیں ہے۔

◆☜ ب:—— اسی طرح اگر پڑوسی غیر مسلم ہو تو پڑوسی ہونے کے اعتبار سے اس کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا ضروری ہوگا۔

◆☜ قرآن کریم میں فرمایا گیا:

📚 وَ الۡجَارِ الۡجُنُبِ 📚

[ سورۃ النساء ۳۶]

◆☜ یعنی اجنبی پڑوسی کے ساتھ احسان کرو جس میں غیر مسلم پڑوسی بھی شامل ہے۔

[ ابن کثیر مکمل ۳۲۳]

◆☜ اور روایات سے ثابت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اپنے غیر مسلم پڑوسیوں کا بھی خاص خیال رکھتے تھے۔

◆☜ ج:—— اگر کوئی غیرمسلم مظلوم ہو تو اس کا حق دلانے میں اس کی مدد کرنا، عین اسلامی تعلیم ہے، خواہ اس پر ظلم کرنے والا مسلمان ہو یا غیرمسلم۔ چنانچہ دور نبوت میں کئی ایسے ایسے واقعات پیش آئے کہ آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے مقدمات میں غیرمسلم کے حق میں فیصلے دئے۔

◆☜ خلاصہ یہ ہے کہ اسلام محض مذہب کی بنیاد پر خواہ مخواہ کسی انسان کو ستانے یا اذیت دینے کا قائل نہیں، اور غیرمسلموں کے ساتھ حسن سلوک سے مطلقاً منع نہیں کرتا، چنانچہ ارشاد خداوندی ہے

📚 لَا یَنۡہٰىکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیۡنَ لَمۡ یُقَاتِلُوۡکُمۡ فِی الدِّیۡنِ وَ لَمۡ یُخۡرِجُوۡکُمۡ مِّنۡ دِیَارِکُمۡ اَنۡ تَبَرُّوۡہُمۡ وَ تُقۡسِطُوۡۤا اِلَیۡہِمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الۡمُقۡسِطِیۡنَ 📚

[ سورة الممتحنة ۸]

◆☜ اللہ تعالٰی تم کو ان لوگوں کے ساتھ احسان اور انصاف کا برتاؤ کرنے سے منع نہیں کرتا جو تم سے دین کے بارے میں نہیں لڑے، اور تم کو تمہارے گھروں سے نہیں نکالا، اللہ تعالٰی انصاف کا برتاؤ کرنے والوں سے محبت رکھتے ہیں۔

◆☜ اس آیت کے مصداق وہ غیرمسلم ہیں جن کا مسلمانوں سے کوئی نزاع نہیں ہے، نہ وہ دین کے درمیان رکاوٹ بنتے ہیں اور نہ مسلمانوں کو ان سے کوئی خظرہ ہے، تو ایسے غیرمسلموں کے ساتھ انسانی ناطہ سے حسن سلوک کرنا اسلام کی بنیادی تعلیمات میں شامل ہے۔

◆☜ البتہ وہ غیرمسلم جو مسلمانوں سے بغض وعداوت رکھتے ہیں اور دین پر عمل کرنے میں رخنہ ڈالتے ہیں اور مسلمانوں کی اذیت رسانی میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھتے، تو ایسے دشمنوں کے ساتھ روابط کی اسلام واقعی اجازت نہیں دیتا، اس لئے کہ ان سے میل جول رکھنے میں قومی وملی نقصانات کا اندیشہ ہے۔ ارشاد خداوندی ہے:

📚 اِنَّمَا یَنۡہٰىکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیۡنَ قٰتَلُوۡکُمۡ فِی الدِّیۡنِ وَ اَخۡرَجُوۡکُمۡ مِّنۡ دِیَارِکُمۡ وَ ظٰہَرُوۡا عَلٰۤی اِخۡرَاجِکُمۡ اَنۡ تَوَلَّوۡہُمۡ ۚ وَ مَنۡ یَّتَوَلَّہُمۡ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ 📚

[ سورة الممتحنة ۹]

◆☜ صرف ان لوگوں کے ساتھ دوستی کرنے سے اللہ تعالٰی تم کو منع کرتاہے جو تم سے دین کے بارے میں لڑتے ہوں، اور تم کو تمہارے گھروں سے نکالاہو، اور تمہارے نکالنے میں مدد کی ہو، اور جو شخص ایسوں سے دوستی کرے گا سو وہ لوگ گنہگار ہوں گے۔

✧═════•❁❀❁•═════✧


پیر، 22 مئی، 2023

سورہ نحل کے بعض الفاظ میں عجب چاشنی

 سورت نحل کے کچھ الفاظ ایسے ہیں جنہیں پڑھ کر روح میں ایک خاص قسم کا لطف، مٹھاس، سکون، تازگی اور نشاط و سرور پیدا ہو جاتا ہے۔ یعنی ان الفاظ کا تلفظ ہی آپ کے باطن کو آسودگی دیتا ہے، دل و دماغ اور پورے وجود کو گرفت میں لے لیتا ہے۔ ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے سخت گرمی کے موسم میں اچانک سے گھنی چھاؤں اور ٹھنڈی ہواؤں میں آ گئے ہوں۔



 یہ خوبصورت الفاظ ہمارے باطن میں حسن وجمال کی قدر شناسی پیدا کرتے ہیں اور جمالیاتی حس کو بیدار کرتے ہیں کیونکہ یہ الفاظ اپنے اندر جمال کا ایک عالم بیکراں لیے ہوئے ہیں۔ ہر لفظ میں تازگی ہے، نیا پن ہے، پر اسرار اور دلفریب اجنبیت ہے۔ہر لفظ کے معنی کو سمجھ کر جب اس کی گہرائی میں اترتے ہیں تو اپنے وجود کو اس کے نور کی کرنوں سے شرابور پاتے ہیں۔ 


آئیں! صرف سورت نحل کے چند الفاظ دیکھتے ہیں۔


جمال:


 اس کا معنی ہے رونق ۔ یہ لفظ در اصل ہمارے باطن میں ایک رونق پیدا کر دیتا ہے۔ کوئی بھی اچھی چیز دیکھ کر دل کا مچلنا، کوئی بھی حسین منظر دیکھ کر دل کا کھنچے چلے جانا، کوئی بھی خوبصورت ذرہ دیکھ کر روح کی گہرائیوں میں ہل چل مچ جانا۔


ہر طرف جمال ہی جمال ہے۔ ہزاروں دل افروز اور دلفریب  مناظر ہیں جن کے جمال کو دیکھ کر نئی تازگی کا احساس ہوتا ہے۔


تُرِیْحُوْنَ:


یہ لفظ اِرَاحَة سے بنا ہے اور اراحۃ کا معنی ہوتا ہے راحت محسوس کرنا۔ اہل عرب جب اونٹوں اور چوپاؤں کو چرا کر واپس ان کے باڑے میں آرام کےلیے لاتے تھے تو اسے "اراح الابل۔۔۔۔۔"  کہا جاتا تھا۔ اور اس لفظ کی اصل "روح "بمعنی "جذبہ اور حوصلہ" ہے۔


جب اس لفظ تُرِیْحُوْنَ کو پوری روح کے ساتھ پڑھا جاتا ہے تو آپ کی روح میں ایک کشادگی، سکون، حوصلہ اور جذبہ پیدا کر دیتا ہے۔ اور آپ ایسے ہی اطمینان و لطف محسوس کرتے ہیں جیسے دن بھر پہاڑوں پر چرنے والا جانور تھک ہار کر شام کو سکون کا سانس لیتا ہے تو اسے مزہ آتا ہے۔ 


تَسْرَحُوْن : 


 یہ لفظ "سرح" سے بنا ہے اور سرح کے لفظوں میں سہولت، آسانی اور نرمی پائی جاتی ہے جیسے عربی میں کہتے ہیں:" افعل ذلک فی سراح " یعنی میں وہ کام آسانی سے کرتا ہوں۔ یہ لفظ بھی آپ کے اندر نرمی پیدا کرتا ہے اور آپ کو زندگی کے ہر کام کو آسانی سے ہینڈل کرنے میں مدد دیتا ہے۔


طَرِیًّا:


 یہ لفظ " طَرَاوَۃ " سے نکلا ہے جس کا معنی ہے تر وتازہ۔ یہ لفظ نہ صرف ہمارے باطن میں تروتازگی پیدا کرتا ہے بلکہ ہر چیز تروتازہ کھانے کی رغبت بھی ڈالتا ہے کیونکہ ہر چیز تازہ حالت ہی میں لذیذ اور مفید ہوتی ہے۔ باسی چیز ضرر رساں ہوسکتی ہے۔


یَتَفَیَّؤُ:


 یعنی درخت وغیرہ کا سایہ لینا ۔ تپتی دھوپ میں ٹھنڈی چھاؤں میں آنا۔ یہ لفظ مجھے ہمیشہ مادیت کی تپتی دھوپ میں روحانیت کی ٹھنڈی چھاؤں میں آنے کی دعوت دیتا ہے۔ 


خَالِصاً سَائِغاً:


 یعنی صاف ستھرا اور خوشگوار۔


خالص کا معنی ہوتا ہے جس میں کھوٹ نہ ہو،جس کا رنگ صاف ہو، اخلاص اس مکھن کو کہتے ہیں جو تلچھٹ سے جدا کر لیا جائے۔ جب کسی چیز پر سے کھوٹ اور آمیزش وگندگی وغیرہ صاف کر لی جائے تو اس کےلیے اخلص الشیئ کے الفاظ بولے جاتے ہیں۔ یہ لفظ در اصل ہمارے اندر کو کھوٹ، گندگی، نجاست اور بری چیزوں سے پاک صاف کرتا ہے۔


دوسری طرف اس کے ساتھ سائغا کا لفظ ہے جس کا معنی ہوتا ہے بآسانی حلق سے اترنے والا، یعنی ایسا زبردست کھانا جس کو آپ مزے لے لے کر کھائیں یا پیئیں اور وہ سہولت و نرمی کے ساتھ حلق سے نیچے اتر جائے۔ یہ لفظ ہمارے باطن کو خوشگواری  اور روح کو شیرینی و مٹھاس بخشتا ہے۔ سائغ قابل ہضم چیز کو بھی کہا جاتا ہے۔ ایسی چیزیں کھائیں جو ہضم ہوجاتی ہیں، تاکہ آپ کی صحت رہے۔


یہ دونوں لفظ مجھے دودھ کی طرح خالص اور مزیدار و خوش گوار بننے کی دعوت دیتے ہیں۔ جو لوگ میرے اخلاق کا پانی پیئیں، انہیں محسوس ہو کہ ہم ایک خالص اور صاف ستھرے دل والے شخص سے بات کر رہے ہیں۔


سَكَرًا:


 شراب یا کوئی نشہ آور چیز یعنی ایسی چیز پینا جس کے بعد آپ نشہ میں چلے جائیں۔شراب کا نشہ حرام ہے لیکن اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت کا نشہ ، قرآن پڑھنے کا نشہ مطلوب ہے۔ یہ لفظ آپ کو روحانی طور پر سکران یعنی محبت الہی کے نشے میں چور اور مدہوش بنا دیتا ہے۔


رِزْقًا حَسَنا:


 اس کا معنی ہے پاکیزہ رزق۔


 بے شک پاکیزہ رزق ہی آپ کے دل میں حب الہی کے جذبات پیدا کرتا ہے۔ جس کے خون میں رزق حسن اور رزق طیب کے ذرات شامل ہوتے ہیں، وہ اسی قدر اللہ کا دوست اور باطن میں حسین و طیب ہوتا ہے۔


رَغَدًا:


 یہ لفظ رغیدہ سے نکلا ہے یعنی (فرنی کی طرح) دودھ اور آٹے کا پتلا حلوہ۔مکھن کو بھی کہتے ہیں۔اور "عیشة رغد" ایسی زندگی کو کہا جاتا ہے جس میں فراخی، آسودگی اور آرام ہو یعنی کمفرٹیبل لائف۔


 یہ لفظ جنت والی زندگی کے آرام دہ ہونے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اور مجھے دعوت دیتا ہے کہ میں  اپنی زندگی کو خوشحال رکھوں۔ 


بہت دفعہ ہم نے خواہ مخواہ کی مصیبیتیں اور ٹینشنیں پالی ہوتی ہے۔ انہیں اپنی زندگی سے نکالنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم ایک "عیشة رغد" زندگی گزاریں۔


مُخْتَلِفًا اَلْوَانُہ:


 اس کا معنی ہے مختلف رنگوں والا یعنی جس میں تَنَوُّعْ ہے۔


اپنی طبیعت اور مزاج میں تنوع پیدا کریں۔ اپنے رہن سہن، بات چیت ، مزاج و خصلت ہر چیز میں تنوع پیدا کریں۔ آپ کے مختلف رنگ ہوں۔ اگر آپ شوہر ہیں تو اس کا رنگ صرف بیوی پر نظر آئے۔ اگر بھائی ہیں تو اس کا رنگ بہن پر نظر آئے۔ اگر پرنسپل یا کمپنی کے بوس ہیں تو اس کا رنگ انہی شعبوں سے متعلق لوگوں پر نظر آئے۔ اگر آپ گھر میں بھی اپنی بوسیت کا رنگ دکھائیں گے تو بیوی کی زندگی اجیرن ہو جائے گی۔ 


اپنی پڑھائی  اور سوچ میں تنوع پیدا کریں۔

اپنے دوستوں اور جان پہچان والوں میں تنوع لائیں۔

 اگر اللہ تعالی نے مال دیا ہے تو کپڑوں اور جوتوں میں مختلف رنگ دکھائیں لیکن اللہ کے شکر  کے ساتھ۔ ورنہ کئی مرتبہ ظاہری رنگ انسان کے باطن میں روحانیت کو ختم کر کے صرف ناجائز رنگینی ہی پیدا کر دیتا ہے۔

رنگینی اختیار کریں لیکن اللہ کی مقرر کردہ حدود میں رہ کر۔


سورت نحل کے یہ الفاظ لغوی معنی کے اعتبار سے جمالیات سے بھر پور ہیں۔ جب جب پڑھا، دل و دماغ اور روح و قلب نے سرور حاصل کیا۔ 

علامہ محمد اکبر صاحب کے ایک رسالہ سے اقتباس


احمد اللہ سعیدی عارفی 


اتوار، 21 مئی، 2023

غیر محسوس مگر تباہ کن سزائیں

 غیر محسوس مگر تباہ کن سزائیں


کسی شاگرد نے اپنے استاذ سے کہا : ہم رات دن اللّٰه تعالیٰ کی نافرمانی کرتے ہیں مگر اللّٰه تعالٰی ہمیں سزا نہیں دیتا.


استاذ محترم نے جواب دیا : ایسی بات نہيں بلکہ اللّٰه تعالی ہمیں کتنی سزائیں دیتا ہے مگر ہمیں اس کا احساس نہیں ہوتا.

اللّٰه تعالی کی سزائیں کیا ہوتی ہیں سنو...


1- مناجات الہی کی لذت سے محرومی: کیا رب سے مناجات کی لذت تم سے چھین نہیں لی گئی؟


2- قساوت قلبی : اس سے بڑی سزا کیا ہو سکتی ہے کہ انسان کا دل سخت ہو جائے؟


3 -نیکیوں کا توفیق نہ ملنا: ایک بڑی سزا یہ بھی ہے کہ تمہیں نیکیوں کی توفیق بہت کم ملے ۔


4- تلاوت قرآن سے غفلت : کیا ایسا نہیں ہوتا کہ دن کے دن گزر جاتے ہیں مگر تلاوت قرآن کی توفیق نہیں ملتی بلکہ بسا اوقات قرآن کی یہ آیت سنتے ہیں جس ميں اللّٰه تعالى نے فرمایا کہ اگر یہ قرآن پہاڑ پر نازل ہوتا تو اللّٰه کے خوف سے ریزہ ریزہ ہوجاتا ہم یہ آیت سنتے ہیں مگر ہمارے دلوں پر کوئی اثر نہیں ہوتا؟


5- نیکیوں کے موسم بہار کی ناقدری : نیکیوں کے موسم بہار آتے اور گزر جاتے ہیں جیسے رمضان کے روزے، شوال کے روزے اور ذوالحجہ کے مبارک ایام وغيرہ .... مگر ان موسم میں کما حقہ عبادت کرنے کی توفیق نہیں ملتی اس سے بڑی سزا اور کیا ہو سکتی ہے؟


6- عبادت کو بوجھ محسوس کرنا : کیا تم عبادت کو بوجھ نہیں محسوس کرتے؟


7- ذکر الہی سے لاپرواہی : کیا اللّٰه کے ذکر سے تمہاری زبان خاموش نہیں رہتی؟


8- نفسانی خواہشات کے سامنے شکست :کیا نفسانی خواہشات کے سامنے خود کو کمزور نہیں محسوس کرتے؟


9- دنيا کی محبت : کیا تم مال و دولت اور منصب و شہرت کی بے جا حرص و لالچ ميں مبتلا نہیں ہو؟ اس سے بڑی سزا اور کیا ہو سکتی ہے؟


10- کبیرہ گناھوں کو معمولی سمجھنا: کیا ایسا نہیں کہ تم بڑے بڑے گناہوں کو معمولی اور حقیر سمجھتے ہو جیسے جهوٹ غیبت چغلی؟


11- فضول کاموں میں مشغولیت :کیا بیشتر اوقات تم فضول اور لا یعنی چیزوں ميں مشغول نہیں رہتے؟


12- آخرت سے غفلت: کیا تم نے آخرت کو بھلا کر دنیا کو اپنا سب سے بڑا مقصد نہیں بنا لیا ہے؟


یہ ساری محرومیاں اور بے توفیقی بھی اللّٰه کی طرف سے عذاب اور سزائیں ہیں مگر تمہیں اس کا احساس نہیں ہوتا.


یاد رکھو!!! اللّٰه تعالی کا یہ بہت معمولی عذاب ہے جسے ہم اپنے مال و اولاد اور صحت میں محسوس کرتے ہیں اور حقیقی عذاب اور سب سے خطرناک سزا وہ ہے جو دل کو ملتی ہے.


اس لئے اللّٰه تعالیٰ سے عافیت کی دعاء مانگو اور اپنے گناہوں کی معافی طلب کرو کیونکہ گناہ کے سبب بندہ عبادت کی توفیق سے محروم کر دیا جاتا ہے.


اللَّهُم أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ، وحُسنِ عِبَادتِك.

ترجمہ ۔۔۔۔۔۔اے اللہ ! آپ مجھے اپنا ذکر کرنے، شکر کرنے اور بہترین طریقہ پر عبادت کرنے کی توفیق عطا فرمائیں

آمین

احمد اللہ سعیدی عارفی



منگل، 16 مئی، 2023

لکڑیاں سونا کیسے بنیں؟؟؟

 لکڑیاں سونا کیسے بنیں...... ؟؟ 


 حضرت داؤد بن رشید علیہ الرحمہ فرماتے ہیں : ملک شام میں دو حسین وجمیل عبادت گزار نوجوان رہتے تھے - کثرت عبادت اور تقویٰ وپرہیز گاری کی وجہ سے انھیں ، صبیح اور ملیح ، کے نام سے پکارا جاتا ہے - 

انھوں نے اپنا ایک واقعہ کچھ یوں بیان کیا : ایک مرتبہ ہمیں بھوک نے بہت زیادہ تنگ کیا - میں نے اپنے رفیق سے کہا : آؤ ، فلاں صحرا میں چل کر کسی شخص کو دین متین کے کچھ اَحکام سکھا کر اپنی آخرت کی بہتری کے لیے کچھ اِقدام کریں ؛ چنانچہ ہم دونوں صحرا کی جانب چل پڑے ، وہاں ہمیں ایک سیاہ فام شخص ملا جس کے سر پر لکڑیوں کا گٹھا تھا - ہم نے اس سے کہا : بتاؤ ! تمہارا رب کون ہے ؟ -

یہ سن کر اس نے لکڑیوں کا گٹھا زمین پر پھینکا اور اس پر بیٹھ کر کہا : مجھ سے یہ نہ پوچھو کہ تیرا رب کون ہے ؟ بلکہ یہ پوچھو : ایمان تیرے دل کے کس گوشے میں ہے ؟ - اس دیہاتی کا عارفانہ کلام سن کر ہم دونوں حیرت سے ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے - وہ پھر مخاطب ہوا : تم خاموش کیوں ہوگئے ، مجھ سے پوچھو ، سوال کرو ، بے شک طالب علم سوال کرنے سے باز نہیں رہتا - 

ہم اس کی باتوں کا کچھ جوان نہ دے سکے اور خاموش رہے - جب اس نے ہماری خاموشی دیکھی تو بارگاہ خداوندی میں اس طرح عرض گزار ہوا : 

اے میرے پاک پروردگار ! تو خوب جانتا ہے کہ تیرے کچھ ایسے بندے بھی ہیں کہ جب وہ تجھ سے سوال کرتے ہیں تو تو انھیں ضرور عطا فرماتا ہے - میرے مولا ! میری ان لکڑیوں کو سونا بنا دے -

ابھی اس نے یہ الفاظ اَداہی کیے تھے کہ ساری لکڑیاں چمک دار سونا بن گئیں - اس نے پھر دعا کی : اے میرے پروردگار ! بے شک تو اپنے اُن بندوں کو زیادہ پسند فرماتا ہے جو شہرت کے طالب نہیں ہوتے - میرے مولا ! اس سونے کو دوبارہ لکڑیاں بنادے - اس کا کلام ختم ہوتے ہی وہ سارا سونا دوبارہ لکڑیوں میں تبدیل ہوگیا - اس نے لکڑیوں کا گٹھا اپنے سر پر رکھا اور ایک جانب روانہ ہوگیا -

ہم اپنی جگہ ساکت وجامد کھڑے رہے اور کسی کو اس کے پیچھے جانے کی جرأت نہ ہوئی۔ ﷲ سبحانہ وتعالیٰ کے اس نیک بندے کا ظاہری رنگ اگرچہ سیاہ تھا، لیکن اس کا باطن نورِ معرفت وایمان سے منور و روشن تھا 


عیون الحکایات ابن الجوزی مترجم : 246/2 تا 24

#احمداللہ_سعیدی_عارفی


پیر، 15 مئی، 2023

ہندوستانی ایک عمدہ قوم ہے!!!!!

 ہندوستانی ایک عمدہ قوم ہے۔!!

اگست آئے تو سچے ہندوستانی🇮🇳

رمضان آئے تو پکے مسلمان۔🤲

جنگ لگے تو سب فوجی۔👷 

کھیل کا میدان لگے تو سب کھلاڑی۔🏃  

الیکشن ہوں تو سب سیاستدان۔😎 

احتساب شروع ہو تو سب نیب۔😂

بجٹ آٸے تو سب اکانومسٹ۔😁

خبر آٸے تو سب تجزیہ نگار۔😆

کسی بیمار کو ملیں تو سب ڈاکٹر۔🤔

ڈاکٹر کو ملیں تو سب مریض بن جاتے ہیں۔😂

کوئی شرعی مسئلہ پیش آئے تو سب مفتی۔ 🤗 

کوئی متنازعہ مسئلہ پیش آئے تو سب وکیل۔😅 

شادی اور پروگرام کے موقع پر سب فنکار۔😁 فضول رسم و رواج کےموقع پر سب مالدار۔😉

اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام آئے تو سب زکاة کے مستحق بن جاتے ہیں۔🤣


اس قوم کی صلاحیت پانی جیسی ہے جس برتن میں ڈالو اسی کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔🤣

امام کی تنخواہ بڑھانے کا نمبر آئے تو سب

غریب 🙉🙉🙉🙉🙉

الغرض لامحدود تجربات سے لبریز قوم۔😊❤️

از:- احمد اللہ سعیدی عارفی

#احمداللہ_سعیدی_عارفی


ہندوستانی مسلمانوں کے مسائل،قیادت کی خاموشی،اور مستقبل کے خدشات

آج ہندوستان میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے ساتھ جس طرزِ عمل کا مشاہدہ کیا جا رہا ہے، وہ نہایت تشویش ناک اور فکر انگیز ہے۔ متعدد مواقع پر ا...