اتوار، 21 مئی، 2023

غیر محسوس مگر تباہ کن سزائیں

 غیر محسوس مگر تباہ کن سزائیں


کسی شاگرد نے اپنے استاذ سے کہا : ہم رات دن اللّٰه تعالیٰ کی نافرمانی کرتے ہیں مگر اللّٰه تعالٰی ہمیں سزا نہیں دیتا.


استاذ محترم نے جواب دیا : ایسی بات نہيں بلکہ اللّٰه تعالی ہمیں کتنی سزائیں دیتا ہے مگر ہمیں اس کا احساس نہیں ہوتا.

اللّٰه تعالی کی سزائیں کیا ہوتی ہیں سنو...


1- مناجات الہی کی لذت سے محرومی: کیا رب سے مناجات کی لذت تم سے چھین نہیں لی گئی؟


2- قساوت قلبی : اس سے بڑی سزا کیا ہو سکتی ہے کہ انسان کا دل سخت ہو جائے؟


3 -نیکیوں کا توفیق نہ ملنا: ایک بڑی سزا یہ بھی ہے کہ تمہیں نیکیوں کی توفیق بہت کم ملے ۔


4- تلاوت قرآن سے غفلت : کیا ایسا نہیں ہوتا کہ دن کے دن گزر جاتے ہیں مگر تلاوت قرآن کی توفیق نہیں ملتی بلکہ بسا اوقات قرآن کی یہ آیت سنتے ہیں جس ميں اللّٰه تعالى نے فرمایا کہ اگر یہ قرآن پہاڑ پر نازل ہوتا تو اللّٰه کے خوف سے ریزہ ریزہ ہوجاتا ہم یہ آیت سنتے ہیں مگر ہمارے دلوں پر کوئی اثر نہیں ہوتا؟


5- نیکیوں کے موسم بہار کی ناقدری : نیکیوں کے موسم بہار آتے اور گزر جاتے ہیں جیسے رمضان کے روزے، شوال کے روزے اور ذوالحجہ کے مبارک ایام وغيرہ .... مگر ان موسم میں کما حقہ عبادت کرنے کی توفیق نہیں ملتی اس سے بڑی سزا اور کیا ہو سکتی ہے؟


6- عبادت کو بوجھ محسوس کرنا : کیا تم عبادت کو بوجھ نہیں محسوس کرتے؟


7- ذکر الہی سے لاپرواہی : کیا اللّٰه کے ذکر سے تمہاری زبان خاموش نہیں رہتی؟


8- نفسانی خواہشات کے سامنے شکست :کیا نفسانی خواہشات کے سامنے خود کو کمزور نہیں محسوس کرتے؟


9- دنيا کی محبت : کیا تم مال و دولت اور منصب و شہرت کی بے جا حرص و لالچ ميں مبتلا نہیں ہو؟ اس سے بڑی سزا اور کیا ہو سکتی ہے؟


10- کبیرہ گناھوں کو معمولی سمجھنا: کیا ایسا نہیں کہ تم بڑے بڑے گناہوں کو معمولی اور حقیر سمجھتے ہو جیسے جهوٹ غیبت چغلی؟


11- فضول کاموں میں مشغولیت :کیا بیشتر اوقات تم فضول اور لا یعنی چیزوں ميں مشغول نہیں رہتے؟


12- آخرت سے غفلت: کیا تم نے آخرت کو بھلا کر دنیا کو اپنا سب سے بڑا مقصد نہیں بنا لیا ہے؟


یہ ساری محرومیاں اور بے توفیقی بھی اللّٰه کی طرف سے عذاب اور سزائیں ہیں مگر تمہیں اس کا احساس نہیں ہوتا.


یاد رکھو!!! اللّٰه تعالی کا یہ بہت معمولی عذاب ہے جسے ہم اپنے مال و اولاد اور صحت میں محسوس کرتے ہیں اور حقیقی عذاب اور سب سے خطرناک سزا وہ ہے جو دل کو ملتی ہے.


اس لئے اللّٰه تعالیٰ سے عافیت کی دعاء مانگو اور اپنے گناہوں کی معافی طلب کرو کیونکہ گناہ کے سبب بندہ عبادت کی توفیق سے محروم کر دیا جاتا ہے.


اللَّهُم أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ، وحُسنِ عِبَادتِك.

ترجمہ ۔۔۔۔۔۔اے اللہ ! آپ مجھے اپنا ذکر کرنے، شکر کرنے اور بہترین طریقہ پر عبادت کرنے کی توفیق عطا فرمائیں

آمین

احمد اللہ سعیدی عارفی



منگل، 16 مئی، 2023

لکڑیاں سونا کیسے بنیں؟؟؟

 لکڑیاں سونا کیسے بنیں...... ؟؟ 


 حضرت داؤد بن رشید علیہ الرحمہ فرماتے ہیں : ملک شام میں دو حسین وجمیل عبادت گزار نوجوان رہتے تھے - کثرت عبادت اور تقویٰ وپرہیز گاری کی وجہ سے انھیں ، صبیح اور ملیح ، کے نام سے پکارا جاتا ہے - 

انھوں نے اپنا ایک واقعہ کچھ یوں بیان کیا : ایک مرتبہ ہمیں بھوک نے بہت زیادہ تنگ کیا - میں نے اپنے رفیق سے کہا : آؤ ، فلاں صحرا میں چل کر کسی شخص کو دین متین کے کچھ اَحکام سکھا کر اپنی آخرت کی بہتری کے لیے کچھ اِقدام کریں ؛ چنانچہ ہم دونوں صحرا کی جانب چل پڑے ، وہاں ہمیں ایک سیاہ فام شخص ملا جس کے سر پر لکڑیوں کا گٹھا تھا - ہم نے اس سے کہا : بتاؤ ! تمہارا رب کون ہے ؟ -

یہ سن کر اس نے لکڑیوں کا گٹھا زمین پر پھینکا اور اس پر بیٹھ کر کہا : مجھ سے یہ نہ پوچھو کہ تیرا رب کون ہے ؟ بلکہ یہ پوچھو : ایمان تیرے دل کے کس گوشے میں ہے ؟ - اس دیہاتی کا عارفانہ کلام سن کر ہم دونوں حیرت سے ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے - وہ پھر مخاطب ہوا : تم خاموش کیوں ہوگئے ، مجھ سے پوچھو ، سوال کرو ، بے شک طالب علم سوال کرنے سے باز نہیں رہتا - 

ہم اس کی باتوں کا کچھ جوان نہ دے سکے اور خاموش رہے - جب اس نے ہماری خاموشی دیکھی تو بارگاہ خداوندی میں اس طرح عرض گزار ہوا : 

اے میرے پاک پروردگار ! تو خوب جانتا ہے کہ تیرے کچھ ایسے بندے بھی ہیں کہ جب وہ تجھ سے سوال کرتے ہیں تو تو انھیں ضرور عطا فرماتا ہے - میرے مولا ! میری ان لکڑیوں کو سونا بنا دے -

ابھی اس نے یہ الفاظ اَداہی کیے تھے کہ ساری لکڑیاں چمک دار سونا بن گئیں - اس نے پھر دعا کی : اے میرے پروردگار ! بے شک تو اپنے اُن بندوں کو زیادہ پسند فرماتا ہے جو شہرت کے طالب نہیں ہوتے - میرے مولا ! اس سونے کو دوبارہ لکڑیاں بنادے - اس کا کلام ختم ہوتے ہی وہ سارا سونا دوبارہ لکڑیوں میں تبدیل ہوگیا - اس نے لکڑیوں کا گٹھا اپنے سر پر رکھا اور ایک جانب روانہ ہوگیا -

ہم اپنی جگہ ساکت وجامد کھڑے رہے اور کسی کو اس کے پیچھے جانے کی جرأت نہ ہوئی۔ ﷲ سبحانہ وتعالیٰ کے اس نیک بندے کا ظاہری رنگ اگرچہ سیاہ تھا، لیکن اس کا باطن نورِ معرفت وایمان سے منور و روشن تھا 


عیون الحکایات ابن الجوزی مترجم : 246/2 تا 24

#احمداللہ_سعیدی_عارفی


پیر، 15 مئی، 2023

ہندوستانی ایک عمدہ قوم ہے!!!!!

 ہندوستانی ایک عمدہ قوم ہے۔!!

اگست آئے تو سچے ہندوستانی🇮🇳

رمضان آئے تو پکے مسلمان۔🤲

جنگ لگے تو سب فوجی۔👷 

کھیل کا میدان لگے تو سب کھلاڑی۔🏃  

الیکشن ہوں تو سب سیاستدان۔😎 

احتساب شروع ہو تو سب نیب۔😂

بجٹ آٸے تو سب اکانومسٹ۔😁

خبر آٸے تو سب تجزیہ نگار۔😆

کسی بیمار کو ملیں تو سب ڈاکٹر۔🤔

ڈاکٹر کو ملیں تو سب مریض بن جاتے ہیں۔😂

کوئی شرعی مسئلہ پیش آئے تو سب مفتی۔ 🤗 

کوئی متنازعہ مسئلہ پیش آئے تو سب وکیل۔😅 

شادی اور پروگرام کے موقع پر سب فنکار۔😁 فضول رسم و رواج کےموقع پر سب مالدار۔😉

اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام آئے تو سب زکاة کے مستحق بن جاتے ہیں۔🤣


اس قوم کی صلاحیت پانی جیسی ہے جس برتن میں ڈالو اسی کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔🤣

امام کی تنخواہ بڑھانے کا نمبر آئے تو سب

غریب 🙉🙉🙉🙉🙉

الغرض لامحدود تجربات سے لبریز قوم۔😊❤️

از:- احمد اللہ سعیدی عارفی

#احمداللہ_سعیدی_عارفی


ترکی الیکشن میں کون جیتا کون ہارا؟

 ترکی الیکشن میں کون جیتا کون ہارا؟ 

     

       ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ وہ پچاس فیصد ووٹ نہ ملنے کی صورت میں قوم کے فیصلے کا احترام کریں گے اور دوسرے مرحلے کے لیے میدان میں اترنے کو تیار ہوں گے۔

ایردوان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ترکیہ میں قومی انتخابات میں گنتی کا عمل مکمل ہونے کو ہے، غیر سرکاری نتائج کے مطابق صدر طیب اردوان اور انکے حلیف کو ملنے والے ووٹوں کی شرح حکومت بنانے کے لیے مطلوب پچاس فیصد سے کم ہے جس کا مطلب ہے کہ ملک میں 28 مئی کو دوبارہ انتخابات کا امکان پیدا ہو گیا ہے.

انقرہ میں، جہاں رجب طیب اردگان گزشتہ بیس برسوں میں انتخابات جیتنے کے بعد فاتحانہ تقاریرکرتے آئے ہیں، اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے ترکیہ کے صدر نے کہا کہ غیر سرکاری نتائج ابھی تک واضح نہیں ہیں لیکن ان کے بقول وہ واضح برتری حاصل کیے ہوئے تھے۔

’’ اگر ہماری قوم نے دوسرے مرحلے میں جانے کا فیصلہ کیا ہے تو اس فیصلے کا بھی خیر مقدم ‘‘

ترکیہ کے سرکاری خبر رساں ادارے انادولو کے مطابق پچانوے فیصد بیلٹ باکسز کی گنتی مکمل ہو چکی ہے اور صدر طیب ایردوان کو ملنے والے ووٹوں کی شرح 49.6 فیصد ہے جبکہ ان کے حریف کیمال قیلاچیداروغلو کو 44.7 فیصد ووٹ حاصل ہوئے ہیں۔ جیسے جیسے ووٹوں کی گنتی آگے بڑھ رہی ہے، دونوں امیدواروں کے درمیان حاصل کردہ ووٹوں میں فرق کم ہو رہا ہے۔

واضح رہے کہ اگر کوئی بھی امیدوار پچاس فیصد ووٹ حاصل نہیں کرپاتا تو دونوں راہنماوں کے درمیان ایک مرتبہ پھر دو ہفتوں کے درمیان انتخابی معرکہ ہو گا۔

انتخابات کرانے والے ادارے سپریم الیکٹورل بورڈ نے کہا ہے کہ وہ انتخابات کی دوڑ میں شریک سیاسی جماعتوں کو بروقت اور ساتھ ساتھ گنتی کے نتائج سے آگاہ کر رہا ہے۔ لیکن اس وقت تک نتائج کا اعلان نہیں کیا جائے گا جب تک کہ گنتی کا عمل مکمل اور حتمی شکل اختیار نہیں کر لیتا۔

قابل ذکر ہے کہ اس برس ترکیہ میں عثمانی خلافت کے خاتمے اور جمہوری ملک بننے کو ایک صدی مکمل ہو رہی ہے۔ ایسے میں چھ کروڑ چالیس لاکھ کے لگ بھگ افراد ووٹ ڈال کر اپنا حق رائے دہی استعمال کر رہے ہیں

۔

از:- احمد اللہ سعیدی عارفی

#احمداللہ_سعیدی_عارفی


ادبِ اطفال کا دلچسپ پہلو

 ادبِ اطفال کا دلچسپ پہلو:


بچوں کے لیے لکھی تحریر کو زبردستی سبق آموز بنانے کے بجائے پوری توجہ اس تحریر کو دلکش اور دلچسپ بنانے میں لگانی چاہیے، کیونکہ آپ تحریر میں کوئی ایک بھی سبق پیش نہ کریں بس دلچسپی کو ملحوظ رکھیں تب بھی بچے کو 10 فوائد تو حاصل ہو ہی جائیں گے:

(1) اس کا یہ وقت لغویات میں لگنے سے محفوظ رہے گا۔

(2) اس میں مصنف کی خوبیاں منتقل ہونی شروع ہوجائیں گی کہ صحبتِ صالح ترا صالح کند ، قاری مصنف کی صحبت سے مستفید ہورہا ہوتا ہے۔

(3) اس میں آپ کی تحریر کے ذریعے اردو ادب کا ذوق منتقل ہوگا۔

(4) وہ آپ کی تحریر سے نئے الفاظ و تراکیب سیکھ جائے گا۔

(5) نئی چیزیں سیکھنے سے اس کی ذہنی و شعوری نشو و نما ہوگی۔

(6) تحریر میں جس خاص پہلو کی دلچسپی ہے وہ اسے سیکھنے کو ملے گی۔

(7) اس دلچسپ مطالعے کے نتیجے میں بچے کے اندر آئندہ مزید پڑھنے کا شوق پیدا ہوگا۔

(8) وہ بچہ اپنے دیگر بہن بھائیوں اور دوستوں کو اس تحریر کی طرف راغب کرے گا یوں اس میں داعیانہ اور خیر خواہانہ جذبہ پرورش پائے گا۔

(9) بچہ جس چیز سے متاثر ہوتا ہے اس کی نقل کرتا ہے ، یوں یہ بچہ لکھنے کی طرف مائل ہوجائے گا۔

(10) بچے میں اتنی ساری مثبت تبدیلیوں کے نتیجے میں اسے اپنے والدین ، اساتذہ اور ساتھیوں کی مثبت توجہ مزید حاصل ہوجائے گی۔

واللہ أعلم

از:- احمد اللہ سعیدی عارفی

#احمداللہ_سعیدی_عارفی


اتوار، 14 مئی، 2023

اصل کامیابی کا راز

                 🌷انمول باتیں🎋



🖌۔اصل کامیابیوں کا راز


بچوں کو بالغ ہوکر احساس ہوتا ہے کہ اصل کامیابی کھلونے جمع کرنا نہیں بلکہ تعلیمی میدان میں آگے بڑھنا ہے.


پھر *شادی ہونے پر* معلوم ہوتا ہے کہ بہترین شریکِ حیات کا ملنا اصل کامیابی ہے.


پھر *روزگار کے معاملات* سے دل میں یقین پیدا ہو جاتا ہے کہ اصل کامیابی کاروبار کے وسیع ہونے یا ملازمت میں پروموشن/ ترقی سے ہے.


*جوانی ڈھلنے* پر نقطہِ نظر تبدیل ہو جاتا ہے کہ اصل کامیابی تو باصلاحیت اولاد ، بڑے سے گھر اور بہترین گاڑی کے ہونے سے ہے. 


پھر *بڑھاپے* میں انسان کے نزدیک اصل کامیابی کا پیمانہ بیماریوں سے بچ کر جسمانی و دماغی تندرستی کا برقرار رہنا قرار پاتا ہے.


بالآخر جب موت کا فرشتہ انسان کو لینے آ جاتا ہے تو اصل بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ *کامیابی کے تمام تر دنیاوی تصوّرات درحقیقت بہت بڑا دھوکا تھے*، 


اصل کامیابی تو الله تعالیٰ کے احکامات اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک اعمال میں تھی،


جس کے لئے کبھی وقت ہی نہیں مل سکا تھا.

الله تعالیٰ سے دعاء هے کہ هم سب کو اخروی کامیابی کی بهی توفیق عطاء فرمائے، آمین یارب العالمین ..

از:- احمد اللہ سعیدی عارفی

#احمداللہ_سعیدی_عارفی


اتوار، 19 مارچ، 2023

بگڑے ہوئے معاشرے کی ایک خاص عادت

 بگڑے معاشرے کی ایک خاص عادت

     

     ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ ایک لومڑ کی دُم پہ پتھر آگرا ، دُم کٹ گئی ۔

ایک دوسرے لومڑ نے جب اسے دیکھا تو پوچھا۔۔۔!

یہ تم نے اپنی دُم کیوں کاٹ لی؟ 

دُم کٹا لومڑ بولا: اس سے بڑی خوشی وفرحت محسوس ہوتی ہے، ایسے لگتا ھے کہ جیسے ہواؤں میں اڑ رہا ہوں۔

واہ۔۔۔!! کیا تفریح ہے۔۔۔۔!

 

بالآخر گھیر گھار کر اس دوسرے لومڑ کو اس نے دُم کاٹنے پر راضی کرہی لیا۔ 

دوسرے لومڑ نے جب یہ دُم کٹائی کی مہم سر کرلی تو بجائے سکون کے شدید قسم کا درد محسوس ہونے لگا۔۔۔!! پوچھا میاں۔۔۔!! جھوٹ کیوں بولا مجھ سے؟

پہلا لومڑ پہلا کہنے لگا جو ہوا سو ہوا۔۔۔! 

اب اگر تم نے درد کی یہ داستان دوسرے لومڑوں کو سنائی تو انہوں نے دُمیں نہیں کٹوانی اور پھر ہم دو دُم کٹوں کا مذاق بنتا رہےگا۔۔۔!

بات سمجھ میں آئی تو یہ دونوں دُم کٹے پوری برادری کو یہ خوش کن تجربہ کرنے کا کہتے رہے ۔

نتیجہ یہ نکلا کہ لومڑوں کی اکثریت دُم کٹی ہوگئی۔

اب حالت یہ ہوگئی یہ جہاں کوئی دُم والا لومڑ دکھائی دیتا اسکا مذاق اُڑایا جاتا۔۔۔!

 

سبق: جب بھی فساد عام ہوکر پھیل جاتا ہے تو بدکار نیکوکاروں کو انکی نیکی پہ طعنے دینے لگ جاتے ہیں اور احمق لوگ انکا مذاق اڑاتے ہیں

حضرت کعب رضی اللّٰه تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ 

فرمایا:  لوگوں پہ ایسا زمانہ آئے گا کہ مومن کو اسکے ایمان پہ ایسے ہی عار دلائی جائے گی جیسے کہ آجکل بدکار کو اسکی بدکاری پہ عار دلائی جاتی ہے۔

یہاں تک کہ آدمی کو طنزاً کہا جائے گا کہ

واہ بھئی۔۔۔! تم تو بڑے ایمان دار فقیہ بندے ہو۔۔۔!! 

حضرت لوط علیہ السلام کی قوم نے کیا نہیں کہا تھا:  نکال دو لوط کو اور ان کے گھر والوں کو اپنی بستی سے۔۔۔!!یہ بہت نیک بنے پھرتے ہیں۔ 

بگڑا ہوا معاشرہ جب نیکوکاروں میں کوئی قابلِ اعتراض بات تلاش نہیں کرپاتا تو انکی بہترین خوبی پہ ہی انکو عار دلانے لگ جاتا ہے۔۔!


ہندوستانی مسلمانوں کے مسائل،قیادت کی خاموشی،اور مستقبل کے خدشات

آج ہندوستان میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے ساتھ جس طرزِ عمل کا مشاہدہ کیا جا رہا ہے، وہ نہایت تشویش ناک اور فکر انگیز ہے۔ متعدد مواقع پر ا...