پیر، 5 دسمبر، 2022

مسواک کے فائدے اور آداب

 

🌹 سبق آموز تحریر 🌹

*✨ مسواک  کے فائدے اور آداب۔*


```مِسواک  اللہ کے پیارے حبیب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی بہت  پیاری  سنّت  ہے۔ اچّھی اچّھی نیّت کے ساتھ مِسواک   کی   سنّت  پر  عمل   کرنا  نہ صرف اجر و ثواب کے حصول کا ذریعہ ہے    بلکہ    اس کی   بَدولت دنیا  کے متعدّد فائدے بھی حاصل ہوتے ہیں۔

آئیے!  مسواک کے چند فوائد و آداب پڑھئے  اور  فوائد پانے  اور آداب پر عمل  کی  نیّت   فرمائیے۔ دو فرامینِ مصطفےٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم:

1) دو  رَکْعَت  مِسواک کر کے پڑھنا بِغیر مِسواک  کی  70 رَکْعتوں  سے اَفضل  ہے۔
(الترغیب والترھیب ،ج1، ص102، حدیث: 18)

2) مِسواک کا اِستعمال اپنے لئے لازِم کر لو  کیونکہ یہ منہ کی صفائی اور ربّ  کی رِضا   کا  سبب  ہے۔
(مسندِ امام احمد ،ج2، ص438، حدیث: 5849

✨ حضرتِ سیِّدُنا ابنِ عبّاس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ مِسواک میں  دس (10) خوبیاں ہیں:

منہ         صاف     کرتی ،  مَسُوڑھے کو مضبوط بناتی ہے، بینائی بڑھاتی، بلغم  دُور کرتی ہے،  منہ کی بدبو ختم کرتی، سنّت کے مُوافِق ہے، فرشتے خوش ہوتے ہیں، ربّ راضی ہوتا ہے، نیکی بڑھاتی اور معدہ   دُرُست  کرتی ہے۔
(جمع الجوامع، ج5، ص249، حدیث: 14867)

✨ حضرت  سیِّدُنا   امام   شافِعی رحمۃ اللہ علیہ          فرماتے ہیں:

چار چیزیں عَقْل بڑھاتی ہیں: فُضُول باتوں  سے  پرہیز ، مِسواک  کا استِعمال، نیک لوگوں کی صحبت  اور   اپنے علم پر عمل کرنا۔
(حیاۃ الحیوان ، ج2، ص166)

✨ مِسواک سے متعلق  چند  آداب:

ہو سکے تو  اپنے کُرتے میں سینے پر دائیں بائیں دو جیب بنوایئے اور دل کی جانب   (یعنی left Side والی) جیب کے برابر  میں مسواک رکھنے  کیلئے    ایک     چھوٹی سی جیب  بنوا لیجئے۔ یوں پیارے آقا  صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم    کی پیاری پیاری  سنّت  مسواک شریف گویا  سینہ  اور دل سے لگی رہے گی۔

مسواک کو کھڑا کرکے رکھنا سنّت ہے۔
(مراٰۃ المناجیح،ج 1،ص372ماخوذاً)

اگر اسے کھڑا نہیں کرتے یونہی نیچے گِرادیتے ہیں تو ایسا کرنے والے کے لئے جنون (یعنی پاگل پن) کا خطرہ ہے۔

✨ تابعی بزرگ حضرت سیّدنا سعید بن جُبَیر  رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا:

جو  مسواک   کو   زمین   پر رکھے  اور  مجنون  (یعنی پاگل) ہوجائے  تو   اپنے علاوہ    کسی کو ملامت  نہ  کرے۔
(مسواک کے فضائل،ص30)

جس طرح دینی کتاب کو  زمین پر رکھنا  ادب کے خلاف ہے اسی طرح مسواک کو بھی زمین  پر  نہ   رکھا جائے۔

مسواک کو اونچی جگہ جہاں مٹّی کچرا وغیرہ نہ ہو لِٹا کر رکھنے میں حرج نہیں۔

مستعمَل  (یعنی استعمال شدہ، Used) مِسواک کے رَیشے نیز جب مِسواک ناقابلِ اِستعمال ہوجائے تو اسے پھینک مت دیجئے کہ یہ آلۂ ادائے سنّت ہے، کسی جگہ اِحتیاط سے رکھ دیجئے یا دَفْن کردیجئے یا پتھر وغیرہ  کسی بھاری چیز   کے ساتھ  باندھ کر  سمندر  میں   ڈبو دیجئے۔

 ایک حل یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مسواک کے ریشے یا مستعمَل مسواک اس طرح کے کسی ڈبہ  وغیرہ  میں ڈال دی جائے۔

اللہ کریم ہمیں ادائے سنّت  کی نیّت سے مسواک کو اپنانے اور دوسروں کو اس کی ترغیب دلانے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم```

از :- احمد اللہ سعیدی عارفی

جمعہ، 2 دسمبر، 2022

-:निकाह:-

 *✍🏼 निकाह* के नाम पर शादी तुम करो और दो तीन सौ बरातियों के खाने का ख़र्चा लडकी के माँ- बाप उठाऐ ।

यह कौन सी *सुन्नत* है 

कौन सा *इस्लाम* है ?


✅ मेहर तुम देते नहीं, 

उधार रखकर माफ़ करवा कर हक़ मारना यह कौन सी *सुन्नत* है 

कौन सा *इस्लाम* है ?


✅ शुरुआती सात महीने तक बीवी से पूरे खानदान की नौकरी करवा कर उसे खिदमत का नाम देकर जब डिलिवरी का वक़्त करीब आए तो उसे फिर "मायके" छोड़ आना कौन सी *सुन्नत* है 

कौन सा *इस्लाम* है ?


✅ ज़्यादातर डिलिवरी सिजेरियन ऑपरेशन से हो रही हैं, पैदा होने वाला बच्चा तुम्हारा और उसका ख़र्चा लड़की के माँ-बाप उठाये यह कौन सी *सुन्नत* है 

कौन सा *इस्लाम* है ?


👉🏼 *लोगों* यह डाकुओं और लुटेरों वाली आदतें अपने आप में से निकालो और सुधर जाओ,

और क़ौम के हर तबक़े और हर मां बाप को चाहिए कि वह बारातियों को खाना खिलाने का रिवाज बंद करें और लड़के वालों को भी चाहिए कि वो लड़की के वालिदैन से बकवास फ़रमाइशें बंद करें !!


✅ मेहर लड़की का हक़ है जिसे लड़की खुद तय करे या फिर वो बाप भाई में से जिसे जिम्मेदारी दे वो तय करे, 

जहां तक हो सके मेहर को नकद तै करे


 ✅ लड़के वालों को भी चाहिए कि वो भी कोशिश करें कि मेहर हाथों हाथ लड़की को दे दें, 

मेहर पर सिर्फ ओर सिर्फ लड़की का हक़ होता है वो जो चाहे वो करे जिसे चाहे उसे दे !!


✅ मेहर अदा करने के बाद मेहर की रकम पर लड़के का या लड़के के घर वालों का कोई हक नहीं !!


*आइये हम अहद करें, कि हम अपने बेगैरती के लिबास पर ग़ैरत की चादर डाल कर शादियों के नाम पर होने वाले तमाम फ़ुज़ूल के कामों को रोक कर निकाह को आसान और ज़िंदगी को ख़ुश गवार बनाएंगे और यह भी तय करें कि हमारी वजह से कोई लड़की किसी बाप पर बोझ न बने* !! 

जरुर ग़ौर करें।

अहमदुल्लाह सइदी 

#ahmadullahsaeedi




جمعرات، 1 دسمبر، 2022

-:ضلع کشن گنج:-

 🌷 ضلع  کشن گنج  🌷



ریاست بہار  کے  سیمانچل منطقہ کے  ضلع  کشن گنج  کا  قیام 14/جنوری 1990ء میں عمل میں آیا ____  ضلع کے  ہیڈکواٹر  کا  نام  بھی  کشن گنج  ہے.

ضلع کا رقبہ  1880  اسکوائر    کیلو میٹر ہے.  جو  سات تحصیل (Block) اور   731   گاؤں   (villages)     پر مشتمل ہے.

2011 کی مردم شماری   (census) کے  مطابق  ضلع   کی      جملہ آبادی  1690948  ہے  _______  ضلع   کی مسلم آبادی   1149095  ہے     جو کل آبادی   کا  % 68  ہے ____     یہ ریاست کا  واحد مسلم اکثریتی ضلع ہے. شرح خواندگی (literacy rate) 

صرف  % 57  ہے _    ضلع    کا  ایک لوک سبھا حلقہ    اور    چھ اسمبلی حلقے ہیں، جو  پارلیمنٹ اور  ریاستی اسمبلی میں   مسلم نمائندگی     کو  یقینی  بناتے ہیں.

ضلع کشن گنج  کے مغرب میں  ضلع ارریہ  اور  ضلع کے جنوب مغرب میں ضلع  پورنیہ  ہے   __ اس کے   مغرب میں  ریاست مغربی بنگال  کا   ضلع اتردیناجپور   اور  اس کے شمال میں ضلع دارجلنگ اور پڑوسی ملک نیپال واقع ہے.

ضلع   کے     اہم      دریا    (rivers) مہانندا                 (Mahananda) کن کئی                         (Kankai) میچھی (Mechi) رتوا     (Ratua) ڈونک (Donk) رمضان (Ramzan) ہیں. _____

ضلع  میں خوب  بارش  (Yağmur) ہوتی ہے __ مئی (May) کے    مہینہ سے  بارش  شروع ہو جاتی ہے _ جو اکتوبر  کے ختم  تک  جاری  رہتی ہے ___ ویسے زیادہ بارش جون تا ستمبر میں ہوتی ہے __ ہر سال خوب بارش ہوتی ہے _ جس کی وجہ سے پینے کے پانی اور  آبپاشی  (irrigation)   کا مسلہ نہیں  ہے __  مگر   سیلاب   کا مسلہ  ضرور  ہے، جو  چھوٹے     اور میڈیم سائز کے  ڈیم (Dam) بنا کر حل کیا جا سکتا ہے. اس سے سیلاب کا  مسلہ حل ہوگا_______ ساتھ ہی آبپاشی کے لئے مزید پانی حاصل ہوگا __ ان مسائل کے حل کے لئے مضبوط قوت ارادی    اور      سیاسی طاقت ضروری ہے.


ریاست بہار کے واحد مسلم اکثریتی ضلع کشن گنج کے ہر مسلمان کو  یہ جاننا اور ماننا ضروری ہے کہ اس کی مادری زبان    (mother  tongue) صرف   اور    صرف     اردو    ہے __ 2021ء  کی  عنقریب       آنے  والی مردم شماری (census) کے موقع پر مادری زبان  (mother  tongue)کے کالم  میں  صرف  اور  صرف     اردو لکھانا   بہت  ضروری  ہے.

اردو   مادری زبان  لکھانے    والے ہی  اردو آبادی    (urdu  population) میں شمار ہوتے ہیں __ اور اسی بنیاد پر    دستوری    اور   قانونی   حقوق حاصل ہوتے ہیں. __ ضلع  میں  اردو کو  دوسری  سرکاری  زبان کا  درجہ حاصل ہے، جو کہ  سراسر  ناانصافی ہے __

اردو والوں  کے لئے لازم  ہے کہ پہلے اپنی مادری زبان اردو  لکھا کر ثابت کریں کہ   ضلع   کی    غالب اکثریت  اردو آبادی (urdu  people) کی ہے. جس کی بنیاد پر اردو ضلع کی  پہلی سرکاری زبان   بن  سکتی ہے __   یا  کم از کم   ضلع  کو   دو لسانی  ضلع  قرار  دیا  جا سکتا ہے  ___  جس کی رو سے ضلع کا سارا سرکاری کام کاج  ہندی  کے  علاوہ  اردو زبان  میں  ہو سکتا ہے __ اس کے علاوہ  اردو زبان روزگار  سے جڑے گی __ ضلع کے آٹھ سو گاؤں  میں سرکاری   اردو میڈیم اسکولس  کھل سکتے ہیں__     جو  اردو آبادی کو  روزگار  کی فراہمی کا ذریعہ  بن  سکتے ہیں ___

اس کے علاوہ  اردو میڈیم  اسکولس  نئی نسل  کو   اردو زبان   اور   اردو تہذیب  سے  جوڑنے کا  کام کریں گے.


اس میں کوئی شک نہیں کہ  مسلمان اصلی مقامی باشندے (indigenous people) ہونے کی وجہ سے  مقامی زبان  میتھلی     (Maithili)       اور  سورجاپوری  (Surjapuri)     زبانیں بھی جانتے ہیں __ مگر  ان زبانوں کو  اپنی مادری زبان  لکھانے  سے    اردو زبان کا  شدید نقصان ہوتا ہے __ اور اردو زبان دستوری اور قانونی حقوق سے  محروم  ہو جاتی ہے.

بہتر تو  یہی ہے کہ ہر مسلمان  اپنی مادری زبان کے کالم میں  صرف اردو لکھائیں __  دوسری اور تیسری زبان کے طور پر  جو  مناسب    سمجھیں، لکھا سکتے ہیں. __ اس سلسلے میں ابھی سے  آنے والی مردم شماری  کے لئے  شعور بیدار  کریں.

********************

اتوار، 27 نومبر، 2022

امر ،اکبر اور انتھونی

 -:امر، اکبر... او نتھونی ​​ایس ایس ایس!!!!!!!!!!:-



 تو بائیں اور دائیں اکبر اور امر ہیں، درمیان میں ہمارا انتھونی گونسالویس ہے۔ وہ دنیا میں اکیلا ہے اس کا دل بھی خالی ہے اس کا گھر بھی خالی ہے اور اس کے دل میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!!!۔


 اوہ!!! موضوع سے ہٹ گئے۔

 ،

 تو درمیان والا اپنے پردادا کی طرح کشمیری پنڈت ہے، یا اپنے دادا کی طرح پارسی، (یا بھکت سماج کے مطابق، دادا مسلمان ہیں)۔


 یا وہ اپنی ماں کی طرح ایک عیسائی ہے، یا اپنے الفاظ کے مطابق شیو کا عقیدت مند ہے؟

 بہت الجھن ہے۔


 اس کے باوجود واٹس ایپ یونیورسٹی میں اس کے مذہب کے حوالے سے متعدد طویل مقالے لکھے گیے ہیں ۔ انہیں مقالوں کو پڑھ کر اور بار بار شیر کر کے پی ایچ ڈی کرنے والے لاکھوں "سبجیکٹ ایکسپرٹ" بے روزگار گھوم رہے ہیں...


 یہ سوال اب بھی برسوں پر محیط ہے۔

 یہ تنگ ہے، بڑا ہے، عقیدت مند اسے اندر لے کر گھوم رہے ہیں۔

 ،

 میرا ماننا ہے کہ راہل کا تعلق کسی مذہب سے نہیں ہیں.. ان کا خون ہندوستان کی طرح رنگین ہے۔ہمارے دل کی مانند ان کا دل بھی ہندوستانی ثقافت کی طرح ایک پگھلنے والا برتن ہے۔


 میرے خیال میں راہل کی رگوں میں حقیقی ہندوستان بہتا ہے۔

 اسی لیے حقیقی ہندوستان کا دل راہل کے لیے دھڑکتا ہے۔


نوٹ:- اخیر میں واضح کر دوں کہ میں فی الحال کانگریسی نہیں بلکہ ترنمول کانگریس کا سپورٹر ہوں۔


از:- احمد اللہ سعیدی عارفی

اتوار، 20 نومبر، 2022

وقت اور تربیت میں فرق۔۔

 




آج کے والدین کے عام الفاظ۔۔۔(چھوڑو ابھی 18 سال ہی کا تو ہے۔۔۔۔ بچہ ہے ۔۔۔۔لائف کو انجوائے کرنے دو۔۔ ابھی تو اسکے کھیلنے کھودنے کے دن ہیں، آدھی رات کو گھر سے غائب،،،،، ، فارغ ہے گھر میں بور ہوجاتا ہے۔۔۔۔غیرہ و غیرہ


آئیے تاریخ کی نظر سے دیکھتے ہیں،،،،،،،،،،،،،،،، بچوں نے کتنی عمر میں کیا کارنامے سر انجام دیئے،،،، تا کہ ہم اس دھوکے سے نکل جائیں ۔۔۔!


اندلس (اسپین )کا فاتح عبدالرحمن الداخل رحمہ اللہ عمر 21 سال۔۔۔


قسطنطنیہ کا فاتح محمد الفاتح رحمہ اللہ عمر 22 سال ۔


مسلمانوں کی اس لشکر کا سپاہ سالار جس میں ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہما جیسی شخصیات موجود تھے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ عمر 18 سال ۔۔۔


سندھ کا فاتح محمد بن قاسم رحمہ اللہ عمر 17 سال۔۔۔


جس نے اسلام مین پہلا تیر چلایا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ عمر 17 سال ۔۔۔


جس نے اپنے گھر کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ سلم کیلئے مکہ معظمہ میں وقف کیا الارقم بن الارقم عمر 16 سال۔۔۔


اسلام میں سب سے زیادہ اکرم شخصیت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ عمر 16 سال۔۔۔۔


حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے حواری جنہوں نے سب سے پہلے اسلام میں تلوار چلائی صاحبی زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ عمر 15 سال۔۔۔۔


اس امت کے فرعون کو واصل جہنم کرنے والے معاذ بن الجموح عمر 13 سال اور معوذ بن عفراء عمر 14 سال۔۔۔رضی اللہ عنہما ۔۔۔


وحی کو لکھنے والے اور جس نے 17 دن میں یہود کی زبان کو سیکھ لیا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ عمر 13 سال ۔۔۔


جس کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کا والی بنا کر غزوہ کیلئے تشریف لےگئے عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ عمر 18 سال۔۔۔



*اور ہمارے بچے شادی تک بچے ہی رہتے ہیں...*


    از:- احمد اللہ سعیدی عارفی۔                      

جمعہ، 4 نومبر، 2022

 *♥️جو لوگ مفتیان کرام سے بلاضرورت خیالی و فرضی سوالات پوچھتے رہتے ہیں،ان پر علماءِ سلف  کے کچھ دلچسپ جوابات:😆😉*


ایک شخص نے امام شعبی سے داڑھی پر مسح کرنے کا مسئلہ پوچھا.

انہوں نے کہا : انگلیوں سے داڑھی کا خلال کر ل

و.

وہ شخص بولا : مجھے اندیشہ ہے کہ داڑھی اس طرح بھیگے گی نہیں 

امام شعبی نے جواب دیا : پھر ایک کام کرو، رات کو ہی داڑھی  پانی میں بھگو دو.😂

📜 المراح فی المزاح:ص 39


امام شعبی سے ہی ایک شخص نے پوچھا : کیا حالت احرام میں انسان اپنے بدن کو کھجلا سکتا ہے؟ انہوں نے کہا : ہاں. وہ شخص بولا : کتنا کھجلا سکتا ہے؟ انہوں نے جواب دیا : جب تک ہڈی نظر نہ آنے لگے.😜


📜المراح فی المزاح


ایک شخص نے عمر بن قیس سے پوچھا : اگر انسان کے کپڑے، جوتے اور پیشانی وغیرہ میں مسجد کی کچھ کنکریاں لگ جائیں تو وہ ان کا کیا کرے؟ انہوں نے جواب دیا :  پھینک دے. وہ شخص بولا : لوگ کہتے ہیں وہ کنکریاں جب تک دوبارہ مسجد میں نہ پہنچائی جائیں وہ چیختی رہتی ہیں.

وہ بولے : تو پھر انہیں اس وقت تک چیخنے دو جب تک ان کا حلق پھٹ نہ جائے.

وہ شخص بولا : سبحان اللہ! بھلا کنکریوں کا بھی کہیں حلق ہوتا ہے؟

انہوں نے جواب دیا : پھر بھلا وہ چیختی کہاں سے ہیں؟😬


📜العقد الفرید 92/2


اعمش کہتے ہیں ایک شخص امام شعبی کے پاس آیا اور پوچھا: ابلیس کی بیوی کا کیا نام  ہے؟ انہوں نے جواب دیا : میں اس کی شادی میں شریک نہیں ہوا تھا.🤣


📜سیر اعلام النبلاء 312/4


ایک آدمی امام ابو حنیفہ رحمۃاللہ علیہ کے پاس آیا اور پوچھا جب میں اپنے کپڑے اتار کر ندی میں غسل کرنے کے لیے جاؤں تو اپنا چہرہ قبلہ کی طرف رکھوں یا کسی اور طرف؟

انہوں نے جواب دیا : بہتر ہے کہ تم اپنا چہرہ کپڑے کی طرف رکھو تاکہ کوئی انہیں چرا نہ لے .😆😝


📜المراح فی المزاح : ص 43


 عربی سے ترجمہ




*🤲🏻 احمد اللہ سعیدی عارفی

#احمد_اللہ_سعیدی_عارفی

#ahmadullahsaeedi

ہفتہ، 29 اکتوبر، 2022

مذہب اسلام میں مساجد کا مقام

 مذہب اسلام میں مساجد کی حیثیت دیگر مذاہب کی عبادت گاہوں کی طرح محض عبادت کی ادائیگی کےلیے مختص کی گئی ایک عمارت کی نہیں بلکہ مساجد اسلامی معاشرہ کی دینی ، سیاسی ، معاشرتی ، اخلاقی، رفاہی قیادت کا مرکز ہیں۔ دنیا کی ظلمتوں میں اسلام ہدایت کا نور ہے اور مساجد وہ چراغ ہیں جہاں سے یہ نور اپنی کرنوں سے معاشرہ کے گوشہ گوشہ کو منوّر کرتا ہے ۔ مساجد کی حیثیت اسلامی معاشرہ میں دل کی ہے جہاں سے علم و ہدایت کا خون معاشرہ کی رگوں میں پہنچتا ہے ۔ مسجد ایک معاشرہ میں اسلام کے زندہ ہونے کی علامت ہے ۔ اسلام کا اعلیٰ ترین شعار ہے ۔

بندے کا اللہ سے رابطہ دو حوالوں سے ہے ۔ ایک بندے کی طرف سے عبادت کا دوسرا اللہ کی طرف سے ہدایت کا ہے ۔ مسجد رابطہ کے ان دونوں حوالوں کا مرکز ہے ۔ مسجد کی ایک جہت مصلّیٰ کی ہے ۔ نماز جو اللہ کے سامنے بندگی کے اظہار کا اعلیٰ ترین وسیلہ ہے نماز اس عبادت کی اجتماعی ادائیگی کا مقام ہے ۔مساجد کی دوسری جہت منبر کی ہے ۔ منبر اللہ کی طرف سے اتاری گئی ہدایت کی اشاعت کا مرکز ہے ۔ منبر تعمیر کردار اور افراد سازی کا سب سے بڑا مرکز ہے ۔ مسجد دعوت و اصلاح اور سماجی رابطہ ( social connectivity) کا ایسا زبردست نظام ہے جس کو اگر اُس کی صحیح بنیادوں پر استوار کرلیا جائے تو امّت کو کسی اور نظام کے ایجاد یا امپورٹ کرنے کی ضرورت ہی باقی نہیں رہ جاتی ۔

مساجد کی اِس اہمیت ہی کے پیش نظر مساجدکی تعمیر پر خصوصی فضیلتوں اور انعامات کے وعدے کیے گئے ہیں ۔ اگر اسلامی ریاستیں موجود ہیں تو مساجد کی تعمیراور انتظام کی ہر ذمہ داری ریاست کی ہوگی ۔ اسلامی ریاست کی غیر موجودگی میں یہ ذمہ داری علاقہ کے مسلم افراد کی ہے کہ وہ مسجد کی تعمیر کا انتظام کریں اور اس کو مطلوبہ بنیادوں پر قائم رکھنے کی کوشش کریں۔

الحمد للہ دین سے دوری کے اس دور میں بھی مساجد کے معاملہ میں اہل اسلام کی حساسیت قائم ہے ۔ وطن عزیز میں پھیلی لا تعداد مساجد اس بات کی گواہ ہیں ۔ دنیا پرستی کے اس دور میں بھی مسلمان اپنی گاڑھی کمائی سے مساجد کی تعمیرکرتے ہیں اور ان کے رکھ رکھاؤ کاسارا خرچ بھی برداشت کرتے ہیں ۔ وہ مخلصین یقینا مبارکبادی کے مستحق ہیں جو مساجد کی تعمیر اور اس کے انتظام میں اپنا قیمتی مال اور وقت صرف کرتے ہیں ۔ اُن کو اُن کی محنتوں کا حقیقی صلہ یقینا اللہ دینے والا ہے ۔ذیل میں مساجد کے انتظام ، ائمہ کے حقوق اور دعوتی امور کی ترتیب کے حوالے سے موجودہ حالات کے پیش نظر مساجد کے ذمہ داران کی خدمت میں کچھ مشورے اور گذارشات عرض کیے جارہے ہیں ۔ یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ مسجد صرف عمارت نہیں ایک نظام کا نام ہے۔ مسلم معاشرہ کی اصلاح کا بہت کچھ انحصار نظام مساجد کی اصلاح پر ہے ۔ یہ مشورے اس نظام کی تعمیر اور اصلاح کے کی نیت سے دیے گئے ہیں ۔ اللہ ہم سب کو اصلاح کی توفیق نصیب فرمائے۔​


#احمد_اللہ_سعیدی_عارفی

#ahmadullah


saeedi

ہندوستانی مسلمانوں کے مسائل،قیادت کی خاموشی،اور مستقبل کے خدشات

آج ہندوستان میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے ساتھ جس طرزِ عمل کا مشاہدہ کیا جا رہا ہے، وہ نہایت تشویش ناک اور فکر انگیز ہے۔ متعدد مواقع پر ا...