پیر، 15 جون، 2020



-:اسلاموفوبیا:-                  
اسلاموفوبیا" کے معنی ہیں " ڈر جانا"۔(ویکیپیڈیا)
       اسلامو فوبیا سے خاص طور پر مغربی دنیا اور عام طور پر پوری دنیا میں ’ اسلامی تہذیب سے ڈرنا‘ اور ’ مسلم گروہوں سے ہراساں ہونا ‘ مراد لیا جاتا ہے۔  اسلام کے خلاف کرہ ارض کے دوسرے مذاہب کے پیروکاروں کی ذہن سازی کی جاتی ہے اور مسلمانوں کے تیٔین بیشتر مسائل میں انہیں مشتعل جاتا ہے ۔ جس کی وجہ سے ان کے اذہان و قلوب میں اسلام کا مختلف النوع رخ گھر کر جاتا ہے اسی کو "اسلاموفوبیا"  سے تعبیر کرتے ہیں۔
ذرائع سے معلوم ہوا کہ اس اصطلاح کاآغاز ۱۹۷۶ء میں ہوا لیکن بیسویں صدی کے ۸۰ اور ۹۰ کی ابتدائی دہائیوں میں یہ انتہائی  کم مستعمل رہا۔۱۱/ ستمبر  ۲۰۰۱ء کو اس وقت کی عالمی سطح پر سب سے بلند عمارت "ورلڈ ٹریڈ سینٹر "پر ڈرامائی حملوں کے بعد کثرت سے اس لفظ کا استعمال ہوا۔
  
اس حوالے سے ایک برطانوی مصنف "رونیمیڈ ٹروسٹ" کا نظریہ ویکیپیڈیا میں درج ہے ۔   رونیمیڈ ٹروسٹ نے " Islamophobia: A Challenge for Us All" کے عنوان سے اپنی رپورٹ میں اس لفظ کی تعریف بیان کی کہ اسلامو فوبیا یعنی اسلام سے بے پناہ خوف اور نتیجتا ایک ایسا ڈر جو لوگوں کے دلوں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت و عداوت کو جنم دیتا ہے اور فرانسیسی مصنفین کے نزدیک اس لفظ کا استعمال سب سے پہلے مالیہ ایمیلی نے "ثقافت اور وحشیت" کے عنوان پر مقالہ میں کیا جس کو 1994 ء میں فرانس کے ایک اخبار لیمنڈا نے شائع کیا۔ جس میں اس نے اسلامو فوبیا کی صنف رواں کے تعلق سے بیان کیا۔ اور 1998 ء میں صہیب بن الشیخ نے اپنی کتابMarianne et le Prophète(ص:171)میں اس لفظ کو ایک باب کے عنوان کے طور پر لیا۔ عالمی پیمانہ پر اس لفظ کا استعمال خوب ہوا خصوصا 11 ستمر کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملوں کے بعد روایت پسند اسلامی جماعتوں کی طرف سے رد عمل کے طور پر اس لفظ کو خوب فروغ دیا گیا۔
اس لفظ کو فروغ حاصل ہونے میں چند نام نہاد اسلامی جماعتوں کا بھی ہاتھ ہے جنہوں نے دنیا کو یہ باور کرانے کے لیے کہ اسلام دہشت گردی نہیں سکھاتا اس لفظ کو مزید استعمال کیا۔ نتیجتاً یہ لفظ پوری روئے زمین  پر استعمال ہونے لگا ۔
ما(اسلام ہراسی)  ’اسلام‘ اور یونانی لفظ ’’فوبیا‘‘  کا مرکب ہے۔ "فوبیا
میں نے اس حوالے سے جب برطانوی رائٹر رونیمیڈ ٹروسٹ کے موقف کا مکمل جائزہ لیا تو اس نتیجے پر پہنچا کہ ان کا موقف سراسر بے بنیاد ہے ۔ تاریخی پس منظر اور اسلامی روایات کے پیش نظر  ان کی شخصیت  پر ایک زور دار طمانچہ ہے۔ ان کے موقف کی مذمت بیشتر یورپی اور امریکی مصنفین نے بھی کیا ۔(طوالت کے پیش نظر میں نے ان کے موقف کو ضبط تحریر نہیں لایا۔ان کا مستقبل ایک مضمون ہے اس حوالے سے جو اردو میں بھی دستیاب ہیں اگر کوئی خواہا ہوں تو رابطہ کریں).
               اسلام، نیشن اسٹیٹ کے نظریے کے برعکس ایک کُل ارضی امت کا نام ہے جس سے مغربی تہذیب کو خطرہ ہے۔ مغرب اسلام کو اپنے سودی بینکاری نظام اور مادر پدر آزاد معاشرے کے لئے بھی خطرہ تصور کرتا ہے۔ لہذا یہ طاغوتی طاقتیں جہاں اسلامی نظام کو پنپتا دیکھتی ہیں، پوری قوت سے اس ملک پر حملہ آور ہو جاتی ہیں۔ اسلامی دنیا کا شاید ہی کوئی ملک ہو جو مغربی دہشت گردی کا نشانہ نہ بنا ہو۔ افغانستان پر حملے کا جواز گھڑنا اسی سلسلے میں تھا. اس کے بعد عراق اور پھر 2010ء میں افریقہ کے ملک مالی پر فرانس کے ذریعے حملہ کروانا اسی لئے تھا کہ %90 مسلمان آبادی والے اس ملک میں عوام نے اسلام کے نفاذ کی حمایت کر دی تھی۔
اسلاموفوبیا کی اصطلاح مسلمانوں کی بجائے خود غیر مسلموں کی دی ہوئی ہے۔ لیکن یہ بھی تسلیم شدہ بات ہے ہے کہ اس لفظ کی نشر و اشاعت میں میں چند نام نہاد مسلم جماعتوں کا بھی ہاتھ ہے
فوبیا ظاہری طور پر کسی بھی قسم کے ذہنی عارضے میں مبتلا شخص کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ لہذا اسلام کے خلاف ان لوگوں کی بڑھتی ہوئی نفرت کے سبب انھوں نے خود اسے یہ نام دیا۔
مغرب میں مسلمانوں کے ساتھ ناصرف نوکریوں میں امتیازی سلوک روا رکھا جاتا ہے بلکہ تعلیمی اور معاشی ترقی کے مواقع بھی انتہائی کم ہیں۔ نیز مسلمانوں پر مغرب میں اپنی ثقافتی اور شخصی اظہار کے حوالے سے مزید سے مزید قدغنیں لگائی گئیں۔(برسلز کانفرنس کے بعد اس میں قدرے کمی آئی ہے )مغرب نے کچھ ایسے لوگوں کو بھی اسلاموفوبیا کے لیے استعمال کیا جنھوں نے دینِ اسلام سے بغاوت کی.(سلمان رشدی،تسلیمہ نسرین،طارق فتح جیسے لوگ اس کی مثال ہیں) ان لوگوں نے جس طرح سے اسلام اور شعائرِ اسلام کو نشانہ بنایا، نعوذباللہ توہین آمیز خاکے بنائے اور قرآن کی توہین کی، اس سے بھی اسلاموفوبیا کو تقویت ملی۔
پچھلے کئی سالوں سے انٹرنیٹ پر بھی جس طرح اسلام، مسلمانوں کی توہین، قرآن اور صاحبِ قرآن ﷺ کی شان میں گستاخی کی جارہی ہے، مسلم میڈیا اس حوالے سے ایک خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اسلاموفوبیا کی خبریں صرف سوشل نیٹ ورکنگ کی ویب سائیٹس سے ملتی ہیں جن میں اسلاموفوبیا واچ، اسلاموفوبیا ڈے اور کونسل آف امریکن اسلامک ریلیشن قابلِ ذکر ہیں۔
مختصراً یہ کہ صلیبی اور صہیونی قوتوں کو اپنی مادر پدر آزاد بد تہذیبی کے مقابلے میں جس اسلامی تہذیب سے خطرہ ہے، اسے انہوں نے اسلاموفوبیا کے نام سے عوام الناس کے دماغوں میں بٹھا دیا ہے ۔اور اب یہ مغرب سے نکل کر افریقہ اور ایشیا کے بیشتر ملکو ں میں بھی دیکھنے کو مل رہا ہے۔ اسلاموفوبیا کا اثر ہمارے ملک میں بھی جا بجا دیکھنے کو ملا  جس  کی  وجہ سے آج کل ہمارے وطن عزیز میں بھی  ٹوئیٹر پر  اسلاموفوبیا کے خلاف ٹرینڈ چلایا جا رہا ہے ۔ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ وطن عزیز کے جن علاقوں میں مسلمان اکثریت میں ہیں اور علاقوں میں بھی محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں آر ایس ایس اور بجرنگ دل سے متاثر افراد  فیس بک اور ٹویٹر پر گستاخانہ جملے لکھتے ہوئے نظر آرہے ہیں جو کہ یہاں کی گنگا جمنی تہذیب کو پاش پاش کرنے کے لئے راہ ہموار کر رہے ہیں۔انتہائی شرم ناک بات یہ ہے  کہ ایسے افراد کی پشت پناہی ان علاقوں کے  ممبر آف پارلیمنٹس  اور دوسرے سیاسی رہنما کرتے کرتے ہیں ۔جو کہ وطن عزیز کی جمہوریت کے لیے بہت ہی خطرناک ہے۔اس کی تازہ مثال آپ ومل  راج نامی سورجاپوری ( اتر دیناجپور، متصل کشن گنج بہار) باشندے کے فیس بک پوسٹ کو سمجھ سکتے ہیں۔جس نے چند ماہ قبل اپنے فیس بک اکاؤنٹ سے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی شان مبارک میں  گستاخانہ پوسٹ کیا تھا ۔ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ ومل راج  جیسے اور بھی دوسرے افراد ہیں جو اسلام مخالف سرگرمیاں کیا انجام دیتے رہتے ہیں اور وقت بہ وقت اسلام اور مسلمانوں کے خلاف فیس بک اور ٹویٹر پر نفرت بھرے پوسٹ اور ٹوئٹ کرتے رہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو اتردیناجپور کے  رکن پارلیمنٹ دیو شری اور کشن گنج کے ڈاکٹر دلیپ جے سوال جیسے لوگوں کی پشت پناہی حاصل ہیں۔یہ دونوں سیاستدان بی جے پی کے ہیں۔
اسلاموفوبیا کا انسداد
۲۶ ستمبر ۲۰۱۸ء کو یورپی پارلیمان نے برسلز میں انسداد اسلاموفوبیا ٹول کٹ کا اجرا کیا اور مختلف حکومتوں، سماجی تنظیموں، میڈیا اور دیگر قانون بنانے والوں میں تقسیم کیا گیا۔ اس قدم کا مقصد اسلاموفوبیا سے لڑنا اور اسے بڑھتے اثرات کو ختم کرنا تھا۔

لیکن وطن عزیز کی برسر اقتدار جماعت نے اسلاموفوبیا  کا مکمل فائدہ اٹھایا اور ملک کی اکثریت کو یہاں کے اقلیت سے خوف دلاکر اور ہراساں کرکے یکے بعد دیگرے دو مرتبہ لوک سبھا انتخابات میں کامیابی حاصل کی اور آج بھی اپنی خامیاں عیاں ہونے کے خوف سے وطن عزیز کی  اکثریت کو اقلیت سے ڈرا کر نت نئے ہتھکنڈے اپناتی رہتی ہے

ایسی صورتحال میں ملک کی اقلیت کو کو ہونش کے ناخن لینے کی  اور متعین وقت سے قبل صحیح فیصلہ لینے کی ضرورت ہے۔

آج وطن عزیز کے بیشترعلاقوں میں  اسلام مخالف شر پسند عناصر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علم کی شان میں میں گستاخی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اسلام ،مسلمان   اور محسن انسانیت حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف شرانگیزی کرتے رہتے ہیں

مسلمانوں۔۔۔۔۔۔!!!!! اگر آج ان تمام تمام بدعنوانیوں پر قدغن لگانے کے لیے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا تو جان لیجیے کہ آنے والا وقت اس سے بھی خطرناک ہوگا۔ ہماری آنے والی نسلوں کے لیے یہ زمین مزید تنگ کر دی جائے گی۔
از:- احمد اللہ سعیدی عارفی (محمد احمد رضا) متعلم جامعہ عارفیہ سید سراواں اور کوشامبی الہ آباد بعد آباد


ہفتہ، 6 جون، 2020


دوستو..........!  مولانا نذر الاسلام صاحب سرجا پور علاقے کے ایک قابل عالم دین تصور کیے جاتے ہیں۔فضیلت تک تعلیم مکمل  کرنے کے  بعد موصوف نے چند سال ایک ادارے میں رہ کر  تدریسی خدمات انجام دی لیکن چند داخلی وجوہات کی بنا پر موصوف نے اپنے گاؤں ہی میں رہ کر درس و تدریس،دعوت و تبلیغ اور اپنے قبیلے کی اصلاح کو ترجیح دیا۔
ایک با صلاحیت عالم دین ہونے کے  ساتھ ہاتھ موصوف بہت ہی اچھے خطیب بھی ہیں۔ کل جمعہ کے دن اپنے خطاب میں موصوف نے فرمایا کہ آج کل اگر کوئی عالم دین  اپنی معاشی حالت بہتر بنانے کے لئے اپنے میدان  تجارت اترتا ہے یا کسی ہنر سے خود کو آراستہ کرنے کی سعی کرتا ہے  تو ہماری قوم کے ہی بیشتر افراد ان پر طعن و تشنیع کرتے ہیں اور  انگشت نمائی کرتے ہوئے زبان دراز ہوتے ہیں کہ دیکھیے عالم ہو کر تجارت کر رہا  ہے یا کوئی کام کاج کر رہا ہے۔  ایسے لوگوں کو چاہیے کہ علماء کی شان میں اس نوعیت کے نازیبا کلمات زبان زد کرنے سے قبل ایک لمحہ کے بھی توقف کیے بغیر ذرا تاریخ کے اوراق کو گردانیں اور اپنے اسلاف کی داستان سے رو شناس ہوں۔ان کے عادات واطوار ، حرکات و سکنات، اور شب و روز کے معمولات سے واقفیت حاصل کریں۔  آپ تاریخ کے اوراق کو اپنی آنکھوں کی زینت بنائیں گے تو معلوم ہوگا کہ امام قدوری علیہ الرحمہ (362 هـ - 428 هـ) جیسے لوگ اپنے وقت کے ایک عظیم فقیہ ہونے کے باوجود ایک  کمہار بھی تھے، لوگوں کے برتن درست فرما کر اپنے کبنہ کے لئے روزینہ اہتمام کرتے تھے۔ امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے استاد اور اپنے وقت کے عظیم فقیہ حضرت عبداللہ ابن مبارک کی مثال لے لیجئے ۔۔ آپ کی ساری زندگی حج، تجارت اور جہاد کیلئے سفر کرتے گزری۔آپ وہ پہلے شخص ہیں جس نےجہاد کے موضوع پر کتاب تصنیف فرمائی۔ 118ھ بمطابق736ء کو خراسان میں پیدا ہوئے اور رمضان المبارک 181ھ بمطابق 797ء کو روم کی جنگ سے واپسی پر دریائے فرات کے قریب مقام ہِیْت میں انتقال فرماگئے۔
(الاعلام للزرکلی،ج4،ص115،سیر اعلام النبلاء،ج7،ص602،606)
ذریعۂ آمدن آپ کپڑے کی تجارت کرتے تھے اور فرماتے تھے:اگر پانچ شخصیات نہ ہوتیں تو میں تجارت ہی نہ کرتا،پوچھا گیا وہ پانچ شخصیات کون ہیں تو فرمایا:(1) حضرت سفیان ثوری (2) حضرت سُفیان بن عُیَیْنَہ(3) حضرت فضیل بن عِیاض (4) حضرت محمد بن سَمّاک اور(5) حضرت ابن عُلَیّہ علیہم الرحمۃ آپ تجارت کیلئے خراسان کا سفر فرماتے اور جو نفع ہوتااس میں سے بقدر ضرورت اپنے اہل و عیال کا اور حج کا خرچہ نکال کر باقی ان پانچ ہستیوں کو بھجوادیتے۔ (تاریخ بغداد،ج6،ص234)
علاوہ ازیں بیشتر فقہاء و محدثین ایسے گزرے ہیں  جنہوں نے فقہ و فتاؤی یا درس و تدریس کے ساتھ ساتھ ذریعہ معاش کے لئے  تجارت سے بھی وابستگی رکھی تھی ۔ موصوف نے بتایا کہ کرہ ارض کے ایک حصہ میں جب تک خلفاء راشدین، اموی، عباسی اور عثمانی خلق خدا کی رہنمائی کرتے رہے تب تک اسلام کی ترویج و اشاعت،دعوت و تبلیغ اور  فقہ وفتاوی یا درس و تدریس کی خدمت پر مامور حضرات میں سے بیشتر  کو حکومت کی جانب سے معاشی امداد  حاصل رہی۔ ان میں سے بیشتر ایسے بھی ہوئے جنہوں نے حکومتی امداد  کو صرف نظر کرتے ہوئے  کسی ہنر کے ذریعے اپنے اہل وعیال کی کفالت کا بار گراں برداشت کیا  یا پھر تجارت کے ذریعے کسب معاش کو ترجیح دیا۔
اب  چونکہ ایسا ماحول نہیں رہا،  زمانہ بدل گیا  اور جو لوگ مساجد کی امامت پر مامور ہیں  یا مذہب اسلام کی دعوت و تبلیغ ، ترویج و اشاعت اور درس و تدریس کی خدمات انجام دے رہے ہیں انہیں  کوئی حکومتی امداد حاصل نہیں (تلنگانہ، مغربی بنگال اور دہلی میں گذشتہ کئی سال سے ایٔمہ  اور موذنوں کو تنخواہیں مل رہی ہیں) اور نہ ہی مسلمان  صحیح معنوں میں ایٔمہ، دعاة اور مدرسین کو مناسب تنخواہ  دیتے ہیں کہ اہل خانہ کی مکمل حاجت روائی ہو سکے۔ ایسے موقع پر اگر بیشتر حضرات معاشی بدحالی کی گرفت سے بچنے کے لئے اپنے بچے ہوئے وقت کو بروئے کار لا کر تجارت سے وابستگی اختیار کرتے ہیں یا کسی ہنر کو سیکھنے میں اپنا وقت صرف کر رہے ہیں  تو  اس پر کسی کا اعتراض کرنا بے جا اور نا مناسب ہے ۔  اس سے گریز از حد ضروری ہے ورنہ علماء پر اس قسم اعتراض کرنا خیبت و خسرانی کا سبب بن سکتا ہے۔
                     اس کے علاوہ موصوف نے فرمایا کہ ہم میں سے ہر کسی کو ایک دن اس دار فانی کوچ کر جانا ہے ۔ بعد ازاں روز قیامت  اپنے تمام تر عادات و اطوار حرکات و سکنات اور معمولات کا حساب بھی دینا ہے۔ اسی لیے ہمیں کسی کے ٹوہ  میں نہ پڑ کر اپنے اعمال و کردار کو سنوارنے میں پوری توجہ دینا چاہیے  اور علماء  کی قدر کرنے کے ساتھ  ساتھ انہیں معاشی امداد بھی فراہم کرنی چاہیے تاکہ وہ پوری توجہ کے ساتھ خدمت دین میں لگے رہیں تاکہ تا قیامت مذہب اسلام کا بول بالا ہوتا رہے۔
اس کے علاوہ موصوف نے اور بھی مزید باتیں کیں جو انتہائی سبق آموز تھیں۔
از قلم :- احمد اللہ سعیدی عارفی ( محمد احمد رضا  اتر دیناج پور ) متعلم جامعہ عارفیہ سید سراواں کوشامبی الہ آباد

بدھ، 25 مارچ، 2020

-:اہل مذہب اور ملحدین پر کرونا کے اعتقادی اثرات:-
          از:- احمد اللہ سعیدی عارفی (محمد احمد رضا) جامعہ عارفیہ الہ آباد

دوستوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔! آج پوری دنیا میں آمد و رفت کے ذرائع ، تجارت، تعلیم، سیاست اور مذہبی رسومات پر تقریبا پابندی لگ چکی ہے ۔ غرض ہر چیز اپنی اپنی جگہ پر ٹھپ ہو کر رہ گئی ہیں ۔ کرونا وائرس کا جن ابھی تک بوتل میں واپس جاتا ہوا نظر نہیں آرہا ہے ۔ اس موضوع پر اس قدر مضامین اور ویڈیوز تیار کی جا چکی ہیں کہ اگر میں اس کا تفصیلی جائزہ لوں تو میرے معمولات کی انفرادیت پر فرق آجائے ۔ لیکن آج میں کرونا سے جڑے ایک اہم گوشہ کے متعلق اپنی انگلیوں کو جنبش دینے پر مجبور ہوا ۔میں دیکھ رہا ہوں کہ سوشل میڈیا پر مذہب بیزار سوچ رکھنے والا طبقہ کرونا وائرس سے پیدا ہونے والی سنگین صورتحال کو اپنے حق میں پوری طرح کیچ کرنے میں مصروف ہے ۔چونکہ یہ کمیونٹی سائنس پرست ہے دنیا کا ہر مذہبی شخص چاہے وہ اس بات کا اظہار نہ کرنا چاہتا ہو لیکن سچ یہ ہے کہ اس کی نگاہیں اس کرونا کی عذاب سے بچنے کے لئے سائنس ہی کی تجربہ گاہوں پر ٹکی ہوئی ہیں ۔ایک بار پھر کعبہ سے لے کر یروشلم کی مقدس دیواروں تک ویرانی کا طویل سلسلہ پیدا ہو چکا ہے ۔ایک بار پھر آب زمزم سے لے کر گنگا جل تک کا پانی خود سے جڑی شفا کی سب امیدوں پر پھر چکا ہے ۔ ۲۷ سال کی عمر میں پہلی دفعہ بہت کچھ ایسا دیکھنے کو ملا جو اس سے پہلے ہم نے نہیں دیکھا ۔اور یہی وہ صورت حال ہے جس سے مذہب مخالف گروہ پوری طرح کور کرنے میں لگے ہوئے ہیں ۔وہ کھل کر اس بات کا اظہار کر رہے ہیں کہ- نعوذ بااللہ- کہاں ہے تمہارا خدا ؟؟؟ اور یہ کعبہ میں جراسیم کش ادویات کا چھڑکاؤ کیوں کیا جا رہا ہے؟؟؟ آپ لوگ آب زمزم کا چھڑکاؤ کیوں نہیں کرتے؟؟؟ کیوں کہ اس میں تو آپ کے نزدیک شفا ہے ۔ مذہب اور مذہبی اس قدر بے بس کیوں ہیں؟؟؟کیوں ہماری سائنس کے آگے گھٹنے ٹیک رہے ہیں؟؟؟ یہ بات مان لو کہ تمہارا مذہب تمہاری اپنی سوچوں کا عکس ہے ، اس کا تمہاری زندگی سے یا کسی خدا سے کچھ لینا دینا نہیں ہے ۔

دوستوں ۔۔۔! آئندہ سطور میں اس کا جواب ان شاء اللہ میں انتہائی تسلی بخش دوں گا لیکن دوسری طرف ذرا مذہب پرستوں کا بھی جائزہ لے لیں ۔ مذہب پرستوں کی بھی دو گروہ ہیں ۔ خاص طور پر اس حوالے سے مسلمانوں میں دو نظریہ کے حاملین پائے جا رہے ہیں ۔ اول وہ حضرات جو بے وقوف اور بہادر ہیں ۔ جو کہہ رہے ہیں کہ کرونا وائرس اللہ کی طرف سے ہے اور اور ہم اللہ کے بندے ہیں ہمیں وائرس سے کوئی نقصان نہیں ۔اسی طرح مسجد میں چھپ کر بیٹھنے پر وائرس حملہ آور نہیں ہوگا ۔ یہ طبقہ زیادہ تر اہل منبر اور ان کے متعلقین پر مشتمل ہے ۔دوسرا طبقہ وہ ہے جو جعلی پیروں اور ان کے لواحقین پر محیط ہے ۔اس وقت ان کی جانب سے عجیب و غریب باتیں سننے میں آ رہی ہیں ۔ جیسے کہ طواف رکنے سے زمین کی حرکت رک جائے گی وغیرہ وغیرہ ۔

دوستوں ۔۔۔! قوم مسلم میں سے یہ دونوں طبقہ صورت حال کو سمجھنے میں پوری طرح فلاپ ہو چکا ہے ، ان کے پاس کنڈیشن ہولڈ کرنے کی رتی برابر بھی قابلیت نہیں ہے اور اسلام مخالف لوگ ان سارے منظر( sceane ) کو کیچ کر رہے ہیں ۔

دوستوں ۔۔۔۔۔! اب سوال یہ کہ اصل سین کیا ہے؟ کرونا کے پس پشت قدرت کھیل کیا کھیل رہی ہے؟؟؟ یہ چیز بڑی سمجھ سے تعلق رکھتی ہے ۔ اب صورت حال ہے یہ کہ ایک طرف ملحدین اور دوسری جانب مذہب پرست ہیں بشمول مسلمان ۔ ان سارے منظر نامے کے دوران مجھ جیسے لوگ جو اپنی فلسفیانہ اصول کے بجائے اپنے تعصب کے بجائے ہر چیز کو تاریخ، سائنس اور مذہب کے خوبصورت امتزاج سے دیکھنے کے قائل ہیں ایسے لوگ دنیا کے اس سارے منظر نامے کو کیسے دیکھ رہے ہیں؟؟؟ یا عام لفظوں میں کہا جائے تو کرونا وائرس سے جو صورت حال پیدا ہوئی ہے اس کو کس طرح سمجھنا چاہئیے؟؟؟ اور ہم ان سارے سین کو لے کر دنیا کو کیسے ڈیل کر سکتے ہیں ؟؟؟ سب سے پہلے آپ یہ سمجھ لیں کہ مذہب مخالف لوگ ہم سے کہیں زیادہ تعلیم یافتہ ہوتے ہیں ۔لیکن ان کی ذہنی سطح کسی جاہل پیر کو پوجنے والے کسی جاہل مرید سے زیادہ نہیں ہوتی۔ کیوں کہ تعصب کی عینک سے حاصل کیا گیا علم اکثر بے سود ہوتا ہے ۔اب پہلے تو آپ یہ ذہن میں رکھیں کہ اگر کرونا وائرس کسی لیبارٹری میں اسپیشل تیار نہیں ہوا ،اگر یہ مصنوعی وائرس نہیں ہے تو پھر یہ کیا ہے؟؟؟ اس سین کو ہم کس طرح سمجھیں گے؟؟؟
دیکھئے موڈ آف نیچر اور ڈیزائن آف نیچر، دنیا کا ہر خطر ناک حادثہ، اٹیک اور تباہی قدرت کے ان دو قوانین کے اکٹیو ہونے سے ہوتی ہے ۔اب ان دونوں قوانین میں قدرت ہر چیز کو بالائے طاق رکھ دیتی ہے ۔وہ اس بات سے قطع نظر کہ کون اس کا پیارا ہے اور کون اس کا پیارا نہیں ۔اس کی عبادت گاہیں ویران ہوتی ہیں یا آباد ہوتی ہیں ۔ جب یہ دونوں قوانین، موڈ آف نیچر اور ڈیزائن آف نیچر ایکٹیو ہوتے ہیں تو پھر بار ہا انسان کو یہی لگتا ہے کہ شاید قدرت وجود نہیں رکھتی، ایمان ڈگمگانے لگتا ہے، کیونکہ قدرت ان قوانین کو اپلائی کرنے کے بعد خاموشی سے صرف کھیل دیکھتی ہے اور وہ کھیل بہت دلچسپ ہوتا ہے ۔ تفہیم کے لئے بتا دوں کہ یہ کھیل بالکل ویسا ہی ہوتا ہے جیسے کہ ہم اپنے سیل فون کا پرانا سوفٹویر اپ گریڈ یا اپڈیٹ لگا کر خاموشی سے اسکین کو دیکھتے رہتے ہیں ۔ مثال کے طور پر چند سال قبل آصفہ نام کی ایک لڑکی عصمت دری کے ذریعے موت کے گھاٹ اتار دی جاتی ہے ۔آپ سوچ سکتے ہیں کہ مرنے سے قبل وہ کس کرب سے چلائی ہوگی ۔ اس نے روتے ہوئے خدا کو بھی پکارا ہوگا ۔ میرا ماننا یہ ہے کہ اگر وہ چیخ و پکار کوئی انسان سن لیتا چاہے وہ کیسا بھی ہو تو یقینا وہ نتائج سے بے پرواہ ہو کر اس چیخ و پکار پر اس بچی کی چیخ و پکار پر لبیک ضرور کہتا ۔لیکن ستر ماؤں سےزیادہ پیار کرنے والا خدا محو تماشا رہا ۔ اب یہاں ملحدین نے سوال کیا کہ اگر کوئی خدا سچ میں ہوتا تو اسے ستر ماؤں سےزیادہ پیار کرنے کا دعوی اس وقت سچ ثابت کرنا چاہئے تھا جب آصفہ کرب و الم سے چلائی ہوگی اور اس نے خدا کو بھی پکارا ہوگا لیکن خدا نے ستر ماؤں سےزیادہ پیار کرنے کا دعوی اس وقت سچ ثابت نہیں کیا ۔ اب میری فہم و فراست جو میں نے حضرت علامہ و مولانا غلام مصطفی ازہری صاحب قبلہ اور اپنے دیگر اساتذہ سے حاصل کیا اس کے مطابق اس حوالے سے میرا جواب یہ ہے کہ، ڈیزائن آف نیچر کیا ہے۔ ۱۸۵۷ میں جنگ آزادی لڑی گئی ۔ بشمول غیر مسلم مسلمانوں نے یہ لڑائی جہاد لڑی تھی ۔ اور اللہ تبارک و تعالی جہاد کے فضائل میں لکھتا ہے کہ اللہ مسلمانوں کی مدد کرتا ہے اور یہ بھی لکھا ہے کہ ایک مسلمان دس غیر مسلم مقابل ہے۔ لیکن اس کے باوجود ۱۸۵۷ کی جنگ مسلمان ہار گئے ۔ ایسا کیوں ہوا کہ مسلمان ایسے موقع پر شکست کھا گئے؟؟ ما بعد کے نتیجہ سے معلوم ہوا کہ قدرت کو ۱۸۵۷ کی شکست کے سینے سے پاکستان کو نکالنا تھا ۔ سوچئے اگر اس وقت مسلمان جیت جاتے تو برصغیر ایک ہی ملک ہوتا نیز ہندووں اور مسلمانوں میں فیصلہ کرنے والی تیسری طاقت موجود نہ ہوتی جس کی بنا پر بعد میں ہندو مسلم فسادات کا ایسا لا متناہی دور شروع ہوتا کہ شاید ہزاورں سال تک اس بر صغیر پر خون بہنے اور بہانے کے علاوہ کوئی اور کام نہ رہ جاتا ۔۱۸۵۷ کی شکست کے سینے سے اللہ رب العزت نے اس آخری چٹان کو جنم دیا جو آج مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کی حرمت کی واحد طاقتور ضمانت ہے ۔یہ ڈیزائن آف نیچر ہے۔ وہ یوں کہ قدرت بظاہر خاموش ہے ۔ بظاہر اس کے نام لیوا شکست سے دوچار ہیں جیسے کہ آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ مکہ مکرمہ بے اباہ سا لگتا ہے ۔ یہ بالکل بظاہر اس کے نام لیوا خدا کے لیوا شکست سے دوچار ہیں لیکن ایک وقت بعد وہی شکست دائمی جیت میں تبدیل ہو جاتی ہے ۔ قدرت اس سیارے کے سوشل اسٹریکچر کو زندگی آمیز اور متوازن رکھنے کے لئے کچھ ایسے کام کرتی رہتی ہے جو ایک وقت تک ہمیں ناگوار گزرتے ہیں ۔ وباووں کا پھیلنا بھی انہیں ناگوار کاموں میں سے ایک ہے۔ جو موڈ آف نیچر کو بتاتی ہے ۔ پہلے ہم نے ڈیزائن آف نیچر کو ضبط تحریر لایا اب ہم موڈ آف نیچر کو قلم بند کرتے ہیں کہ یہ کیسے ہمارے معاشرے کا حصہ بنتے ہیں ۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ کعبہ شریف جہاں سے لوگوں کو حج کے بعد اللہ کی رضا مندی حاصل ہوتی ہے اور جس کی دیدار کے لئے لوگ ایک عرصے سے مال و متاع جمع کرتے ہیں وہ ایک بیماری کے خوف سے خالی کرا دیا گیا ہے اس بار ہمیں حج کے کینسل ہونے کا بھی ملال ہے ۔ مسلمانوں کے اندر ایک طرح کی مایوسی کی سی کیفیت ہے جبکہ ملحدین جنہیں اکثر میں جہلا کا ایک جم غفیر سمجھتا ہوں وہ مسلمانوں پر ایک نظریاتی اور مذہبی اٹیک کرنے سے باز نہیں آ رہے ہیں ۔ حالانکہ وباووں کے حوالے سے اس وقت ہم جو کچھ بھی دیکھ رہے ہیں اس میں گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔اس صورت حال کو صرف پوزیٹو ہو کر سمجھنے کی ضرورت ہے کہ آخر سین کیا ہے ۔ اس وقت ہم پوری دنیا میں جو کشمکش دیکھ رہے ہیں یہ موڈ آف نیچر ہے ۔ یہ اکثر ڈیزائن آف نیچر کے بعد اپلائی ہوتا ہے اس میں ہوتا یہ ہے کہ قدرت آپ کو براہ راست کچھ بھی عطا نہیں کرتی ۔وہ کچھ اس طرح کھیل رچاتی ہے کہ بری سوچ رکھنے والوں کو سزا ملتی ہے اور بلند سوچ رکھنے والوں کو راہ ہموار ہوتی ہے ۔ آج جو لوگ تمسخر اڑا رہے ہیں کہ کعبہ سے لے کر فلسطین کی دیوار مقدس تک خدا اپنے مذہبیوں کو چھوڑ کر نعوذ بااللہ بھاگ گیا ۔انہیں علم ہونا چاہیے کہ قدرت ہر چند صدیوں بعد بنی نوع انسان کو کچھ نیا ٹاسک دے کر مینٹلی اپ گریڈ کرتی ہے ۔اس عمل میں ایک طرف ہزاورں افراد جاں بحق ہوتےہیں تو دوسری طرف جو رہ جاتےہیں وہ ماضی کے انسان سے کہیں زیادہ جدید ہوتے ہیں ۔میں اپنی اس تحریر میں ثابت بھی کروں گا۔ جیسے کہ ۹ویں صدی سے ۱۲ویں صدی تک یوروپ میں متعدد خطرناک وبائیں پھوٹیں اور ہر بار مساجد، گرجے اور مندر کئی کئی ماہ تک ویران پڑے رہے ۔چونکہ اس وقت مسلمان سائنسی علوم میں دنیا کے امام تھے اس لئے وباووں پر تحقیق اور ان کا توڑ نکالنا بھی مسلمانوں کی ذمہ داری تھی جیسے آج یوروپ دنیا بھر کی زندگی کو محفوظ کرنے کے لئے کام رہا ہے ۔لیبارٹریز کے اندر ویکسینز ایجاد ہو رہی ہیں ۔ اسی تناظر میں اس وقت مسلمانوں پر بھی یہ ذمہ داری عائد تھی۔ مسلمان بغداد، تلیتہ، قرطبہ اور غرناطہ میں بلکہ پوری مسلم دنیا میں مسلمانوں نے وباووں پر تحقیق کا کام شروع کیا ۔

اب آپ یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ موڈ آف نیچر انسان کو کس طرح اپ گریڈ کرتا ہے؟؟ وبائی تحقیق کے دوران عظیم مسلم سائنسدان ابوبکر الرازی نے مائیکرو کریئچر جو کہ ہماری اس سیارے کا حصہ ہے پہلے وہ دریافت نہیں ہوئے تھے یعنی جراثیم پہلے دریافت نہیں ہوئے تھے ۔تو وبائی تحقیق کے دوران مسلم سائنسدان ابو بکر الرازی نے جراثیم دریافت کیا اور اپنی مشہور زمانہ تصنیف کتاب الحاوی میں لکھا کہ نہایت چھوٹے چھوٹے کیڑے ہماری خوراک، ہوا، پانی اور بوسیدہ چیزوں کے ذریعے ہمارے جسم میں داخل ہوتے ہیں ۔بظاہر عام آنکھ سے نظر نہیں آتے اور یہ ہمارے نظام دفاع کو تباہ کرتے ہیں ۔ (آج بھی آپ کتاب الحاوی کھول کر دیکھ لیں یہ ساری باتیں لکھی ہوئی ہیں ) ۔۔ وبائی امراض سے بچاؤ کے لئے ہمیں پانی اور خوراک کو انتہائی صاف ستھرا رکھنا ہوگا جبکہ علاج و معالجہ کے نظام کو بھی ایک نئی ترتیب دینا ہوگی ۔ ایک ہی نہر اور کنوئیں کے سب لوگوں کے لئے پانی کا حصول وبائی امراض کی وجہ بن سکتا ہے ۔ دوستوں یوں تاریخ میں پہلی بار واٹر پمپ، واٹر پائپ، زیر زمین واٹر سپلائی ایجاد ہوئی ۔بیماروں کے علاج کے لئے الگ الگ مرض کے ہسپتال اور ان میں الگ الگ اسپیشل روم بنائے گئے ۔ خوراک میں کھدیں ایجاد کر کے جراثیموں کے خلاف ایک محاذ کھڑا کیا گیا ۔یوں ایک طرف وباووں سے ہزاروں انسان مر رہے تھے تو دوسری طرف انسان نے اسی انسان نے قدرت کے اس ٹاسک کو / موڈ آف نیچر کو سمجھ کر پوری کائنات کی اشیاء کو دسکور کرتا جا رہا تھا ۔اور ان سے نئی ایجادات کا ایک سلسلہ شروع کر رہا تھا ۔ اور یہاں تک کہ صرف وباووں کی وجہ سے چند صدیوں میں قدیم انسان ایک جدید انسان میں اپ گریڈ ہو چکا تھا ۔قدرت کے لئے کعبے سے کہیں زیادہ انسان کا اہل علم ہونا ضروری ہے ۔ وہ وقت آنے پر کعبہ کو بے آباد کر کے ، کعبہ کے دروازے مسلمانوں پر بند کر کے انہیں کشمیر اور ہندوستان سمیت پوری دنیا کے مظلوم مسلمانوں پر خاموشی سادھنے اور دشمنوں کے ساتھ ڈیلز کرنے کرنے کی سزا بھی دیتا ہے ۔اور آپ میں سے ہم میں سے بے شمار لوگوں کو کائنات کے رموز و اسرار سے بھی روشناس کراتا ہے ۔انسان نے ۹۰ویں فیصد علم حادثات اور مسائل سے سیکھا ہے ۔
وائرس کی اب تک ۷ خطرناک قسمیں دریافت ہو چکی ہیں ۔ انہیں دریافت کرتے کرتے انسان نے مزید ایسی تحقیقات کر لی ہیں اور دیگر چیزیں دریافت کر لی ہیں جو شائد عام حالات میں ممکن ں تھے ۔کرونا وائرس بھی اگر کوئی آرٹیفیشیل بیماری نہیں ہے،وائرس نہیں ہے۔خود سے تیار کردہ نہیں ہے ۔ بطور ہتھیار نہیں ہے تو یہ پھر موڈ آف نیچر کا ایک حصہ ہے ۔جس کے بعد ہم میڈیسن اور مائیکروکرئیچرس کے بارے میں مزید ایڈوانس ہو سکیں گے اور ہماری وقعت میں جو آگے بڑھنے کی رفتار ہے وہ پہلے سے زیادہ بہتر اور تیز ہو سکے گی ۔
دوستوں۔۔۔۔۔! اپنے آخری سطور میں یہ بھی رقم کر دوں کہ قدرت کے جو یہ دو قانون ہیں یہ انسانی آبادی کو اپ گریڈ کرتے ہیں وہ انسانی آبادی کو کنٹرول کرتے ہیں اور انسانوں کی جغرافیائی سرحدوں کو نئے سرے سے ترتیب بھی دیتے ہیں کیونکہ قدرت کو اس سیارے پر زندگی کو ایک خوبصورت انداز میں قیامت تک باقی رکھنا ہے لیکن ملحدین اسلام مخالف لوگوں کا اعتراض اب بھی باقی ہے جو اس وقت وہ سوشل میڈیا پر پھیلا رہے ہیں کہ مذہب نے سوائے جہالت اور اندھ وسواس کے لوگوں کو کچھ نہیں دیا اور آخر کار لوگ آج خدا کے بجائے لیبارٹریز کی طرف دیکھنے پر مجبور ہیں ۔ ان حضرات سے میں صرف اتنا کہنا چاہوں گا کہ مذاہب میں سے آپ اسلام پر یہ الزام عائد نہیں کر سکتے ۔ یہ بات گو متر پینے والوں پر تو صادق آ سکتی ہے لیکن اسلام کو اس حوالے سے آپ انوالو نہیں کر سکتے ۔ اسلام نے موڈ آف نیچر کو سمجھنے کی پوری ترغیب دی ہے ۔وہ موڈ آف نیچر جو لیبارٹریز کو بالکل ایڈوانس کرتا ہے جو اسپیس روم کو نئے ڈیزائن دیتا ہے جو انسان کو پہلے سے زیادہ ترقی یافتہ بناتا ہے ۔اسلام نے قدرت کی معرفت کرانے والے وجود کو سب سے زیادہ اہمیت دی ہے ۔اسلام میں ایک عالم کی نیند میں کروٹ زاہد کی پوری رات کی عبادت سے ہزاروں درجہ بہتر ہے ۔ علم مومن کی میراث ہے یہ جہاں سے بھی ملے اسے حاصل کرنا اس کا حق ہے ۔ یہ میرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم ہے ۔اور قرآن کہتا ہے،رب وہی ہے جس نے قلم کے ذریعے دکھایا ۔ اور انسان کو وہ سب کچھ سکھایا جو وہ جانتا نہیں تھا ۔ اب سوچنے والی بات ہے کہ خدا خود تو زمین پر آ کر نہیں سکھاتا ۔ وہ اسی طرح سکھاتا ہے ۔اس کا موڈ آف نیچر ہے اس کا ڈیزائن آف نیچر ہے، اے محبوب آپ فرما دیجیئے کہ کیا عالم غیر عالم برابر ہو سکتے ہیں؟؟
دوستوں ۔۔۔۔! اسلام نے تو لاء آف نیچر کو سمجھنے کی پوری تلقین کی ہے ۔ ساتھ ہی علماء کے درجے بھی بتائے ہیں لیکن مصیبت یہ ہے کہ مسلمانوں نے عالم اسے سمجھا جو اچھا قصہ گو ہے ۔جس کی تقریر میں آواز اچھی ہوتی ہے ۔جو شعر شاعری اچھی کر لیتا ہے ۔ جو لوگوں کو بھڑکانا اچھی طرح جانتا ہے ۔ مسلمانوں نے عالم اسے سمجھا جو طبیعیات کے بجائے مابعدالطبیعات کے مسائل کو ہی دنیا کے مسائل سمجھتا ہے ۔ مثلا مسلم علماء صرف " کل قیامت کے دن ۔۔۔۔۔"، " رفع یدین کون کرتا ہے کون۔۔۔۔۔۔۔۔۔" ،" فلاں بزرگ اتنے سال تک کنوئیں میں لٹکے۔۔۔۔۔۔۔" میں ہی اکتفا کرتے ہیں ۔جب مسلمانوں کے علماء کا منٹل لیول یہ ہوگا تو مسلمان لاء آف نیچر کو ڈیزائن آف نیچر کو موڈ آف نیچر کو کیسے سمجھنے والے ہو سکتے ہیں ۔کیسے ایسے دماغ ہمارے معاشرے میں پیدا ہو سکتے ہیں؟؟؟ تو پھر مصیبت آنے پر یہودیوں اور غیر مسلموں کے آگے ہاتھ پھیلانے کے علاوہ ہمارے پاس کوئی آپشن نہیں ہوتی ۔ کرونا وائرس موڈ آف نیچر ہے ۔ اس میں آپ کی موت بھی ہو سکتی ہے اور اس مصیبت میں ہو سکتا ہے کہ آپ کے قلم سے کچھ ایسی تحقیق دنیا کے سامنے آئے کہ بعد میں ہزاروں سال تک لوگ اس سے استفادہ کرتے رہیں ۔کیوں کہ قدرت انسانوں کو حادثات سے دوچار کر کے تعلیم دیتی ہے ۔ وہ خالق قرآن میں بھی تو یہی کہتا ہے کہ " اور انسانوں کو وہ کچھ سکھایا جو وہ جانتا نہیں تھا " ۔ تو انسان کیسے سیکھتا ہے، یہ چیز آپ کو سمجھنے کی ضرورت ہے ۔
از قلم :- احمد اللہ سعیدی عارفی ( محمداحمد رضا ) متعلم جامعہ عارفیہ سید سراواں کوشامبی

ہفتہ، 21 دسمبر، 2019

دوستو ۔۔۔۔۔۔۔۔ ! ڈاکٹر نوشاد عالم چشتی بر صغیر کی مشہور و معروف شخصیات میں سے ایک ہیں ۔ وطن عزیز اور مسلمانوں کے نو پید مسائل کے تئین اپنے قیمتی تاثرات سے قلم کو حرکت دیتے رہتے ہیں ۔ علاوہ ازیں موصوف نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی شعبہ تاریخ (history department ) میں ایک عرصہ تک تدریسی خدمات بھی انجام دیا ہے ۔ عرس عارفی کے موقع پر حضرت خانقاہ عارفیہ/جامعہ عارفیہ سید سراواں شریف کوشامبی الہ آباد تشریف لائے ۔ بعد نماز مغرب موصوف سے ملاقات ہوئی۔ بیشتر حضرات کی موجودگی میں راقم نے موصوف سے دریافت کیا کہ NRC )National Registration Of Citizenship)اور CAB)Citizenship Amendment Act ) کے خلاف جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سمیت ملک کی ۲۲ سے زائد یونیورسٹیوں کے طلبا مسلسل کئی دن سے احتجاج کر رہے ہیں، متعدد طلبہ شہید ہوئے، بے شمار زخمی ہوگئے اور پولیس والوں نے ظلم و بربریت سے ہاسٹل ،لائبریریاں اور مساجد میں توڑ پھوڑ کیا، اتنا نقصان ہوا لیکن اب تک اس کا کوئی مؤثر نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ اس پر ڈاکٹر موصوف نے لب کشائی کی کہ اب تک اگر کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم لوگ احتجاج کرنا بند کر دیں ۔ اگر حکومت کے ذریعے کوئی ایسا قانون بنتا ہے جس سے ملک کی اکثریت کو یا ملک کے ایک بڑے طبقے کو اپنی بیشتر بنیادی حقوق سے محرومی ہو تو اس کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنا ان کا حق ہے اور اگر فوری طور پر کوئی نتیجہ نہیں نکل رہا ہو تو مایوس نہیں ہونا چاہئے کیونکہ نتیجہ اللہ کے نزدیک ہے ۔

اس کے بعد راقم نے ان سے کہا کہ ملک کے مختلف علاقوں میں احتجاج کرنے کے بجائے اگر تمام مسلمان اور سیکولر غیر مسلم مل کر مشترکہ طور پر دہلی میں احتجاج کریں تو بہتر ہوگا ۔ اس پر ڈاکٹر موصوف صاحب بتایا کہ دہلی میں تو ملک کے سیکولر حضرات مشترکہ طور پر احتجاج کر رہے ہیں لیکن وطن عزیز کے دیگر چھوٹے بڑے شہروں میں بھی protests ہونا ضروری ہے تاکہ حکومت کو اپنی غلطی کا احساس چہار جانب سے نظر آئے ۔ اس پر موصوف نے مزید اضافہ کیا کہ اس بل کے خلاف ملک کی دیگر اقلیتوں کے ساتھ ساتھ اکثریت کا بڑا طبقہ بھی ہے اس لئے مسلمانوں کو اسلامی تشخص کے ساتھ جلوس اور احتجاج میں شرکت نہیں کرنا چاہئے نیز اسلامی نعرے نہیں لگانا چاہیئے ورنہ اس کے ذریعے فسطائی طاقتوں کے پروردہ فسادات برپا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے نیز احتجاج کے ذمہ داران مائک اپنے ہی ہاتھوں میں رکھیں کیوں کہ بیشتر مقامات پر ہورہے احتجاج میں فساد پھیلانے والوں کی جب شناخت کی گئی تو پتا چلا کہ یہ کوئی مسلمان نہیں بلکہ فسطائی طاقتوں کی جانب سے اسلامی لبادہ اوڑھ کر اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کی کی غرض سے یہ جلوس اور احتجاج میں شامل ہو کر فسادات پھیلا رہے ہیں ۔ ان باتوں کو ملحوظ خاطر رکھا جائے پھر احتجاج کے لئے نکلیں ۔

راقم کے ایک اور سوال پر موصوف نے فرمایا کہ چونکہ دفعہ ۱۴۴ نافذ ہے اس لئے آپ باہر احتجاج نہیں کر سکتے لیکن اگر آپ اس بل کے خلاف احتجاج کرنا چاہ رہے ہیں، جو کہ آپ کا حق ہے تو آپ اپنے کیمپس میں ہی صدائے احتجاج بلند کر سکتےہیں لیکن آپ کے لئے ضروری ہے کہ اس کے لئے آپ مقامی سیکولر غیر مسلموں کو ، جو کہ چند روز قبل NRC اورCAB کے خلاف علم احتجاج بلند کر چکے ہیں، ساتھ لے لیں اور اس جلوس میں کوئی بھی اسلامی نعرے نہ ہوں ورنہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے علاوہ موصوف نے ملک بتایا کہ حکومت کی بے راہ رویوں کی وجہ سے آج ملک میں کس قدر ابتری پھیلی ہوئی ہے ۔ آج وطن عزیز کی جو صورت حال ہے، ملک کی سالمیت کے لئے ایک سوالیہ نشان ہے ۔
از قلم:- احمد اللہ سعیدی عارفی( محمد احمد رضا ) متعلم جامعہ عارفیہ سید سراواں کوشامبی الہ آباد

جمعرات، 19 دسمبر، 2019

- : اٹھا قلم تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!! : -

                 دورستوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔! ہمارے گاؤں "سملیہ " جو کہ بہار اور بنگال کا سنگم ہے،  سے تقریبا ۱۔۵ میل/۲ کیلو میٹر دوری پر  قومی شاہراہ  NHAI31 سے  متصل  دولت پور نامی مقام پر واقع "جامعہ نوریہ برکات العلوم " سے موسوم  اہل سنت و جماعت کا ایک چھوٹا سا ادارہ ہے ۔کل مورخہ ۲۷ نومبر سنہ ۲۰۱۸ء بروز منگل کو جامعہ ھذا کی چہار دیواری کے اندر ہمارے علاقے کی شان مناظر اھل سنت حضرت علامہ و مولانا مفتی مطیع الرحمان صاحب قبلہ کی سرپرستی میں  سالانہ اجلاس کا انعقاد ہوا۔

                 اس جلسے میں مفتی صاحب قبلہ کے ساتھ ساتھ  دیگر علاقائی بڑی شخصیات کے علاوہ  ملک گیر شہرت یافتہ  مولانا غلام رسول بلیاوی اور اختر پرواز صاحبان بھی مدعو تھے۔  عشا کی نماز سے فارغ ہو کر عشائیہ تناول کرنے کے بعد راقم بھی مولانا صدام صاحب قبلہ جو کہ ہمارے بہت   ہی قریبی ہیں، کے کہنے پر جلسے میں شرکت کے لئے روانہ ہوا  ۔  تقریبا ۸:۳۰ بجے ہم دونوں جلسہ گاہ  پہنچ گئے ۔ مفتی صاحب قبلہ بھی سرپرستی کے فریضہ کی انجام دہی کے لیے ۹:۰۰ بجے کے قریب اسٹیج پر جلوہ گر ہوگئے۔

پہلے ہم لوگ چائے خانے کی جانب نکلے   پھر جب مجمع کی طرف لوٹے تو دیکھا کہ اسٹیج پر  مفتی صاحب قبلہ کی تشریف آوری ہو رہی ہے  اور ایک مولوی صاحب پوری  توانائی کے ساتھ بڑے جوش میں خطاب کر رہے ہیں ان کی باتیں قوت سماعت سے ٹکرائیں تو سہی لیکن کچھ حاصل نہ ہوا  ۔  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔خیر   ان کے بعد اناؤنسر نے مولانا صابر رضا صاحب کو مائیک سنبھالنے کی دعوت دی ۔ مولانا موصوف نے مختصر سے وقت میں  کافی عمدہ اور سبق آموز باتیں کیا ۔  مولانا نے ہمارے قوم کے اندر اردو زبان و ادب کی عظمت کو اجاگر کرتے ہوئے مجمع کو بتایا کہ وسطانیہ فوقانیہ اور قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے تحت جو سندیں طلبہ کو جاتی ہیں وہ کافی اہمیت کے متحمل ہیں کیوں کہ حکومت ان سندوں کو اہمیت دیتی ہے ۔ انہوں نے عوام الناس سے قطع نظر صرف علماء کو مد نظر رکھتے ہوئے اس بات کے تئین  انتہائی افسوس کا مظاہرہ کیا کہ آج ہمارے ملک میں ۹۰ فیصد عالم پورے وثوق کے ساتھ یہ نہیں کہہ سکتے کہ جس قرأت کے ذریعے وہ نماز پڑھتے یا پڑھاتے ہیں اس میں مکمل درستگی ہے یا نہیں؟انہوں نے قرب و جوار کے ضعیف اور نوجوان حضرات کے لئے یہ خوشخبری سنائی کہ اس ادارے میں ہر ماہ کے پہلے جمعرات کو تعلیم بالغہ کے نام سے ایک کورس کا آغاز کیا جا رہا ہے جس میں علاقائی بوڑھے اور جوان چھوٹی چھوٹی سورتوں کی اچھی طرح سے مشق کریں گے اور اپنی نماز کو ظاہر وباطن دونوں اعتبار سے درست کرنے کی کوشش کریں گے ۔
        انہوں نے علماء اور عوام کو صرف  نعرے بازی سے گریز کرنے کی ہدایت دی اور مزید کہا کہ  علماء اور عوام صرف مسلک اعلی حضرت کا نعرہ نہ لگائیں  بلکہ عوام دین کے مبادیات اور اصولی احکام کو سیکھیں و  سمجھیں   اور علماء اصول کے ساتھ ساتھ   دیگر فروعی  مسائل کے تعلیم و تعلم میں اپنا قیمتی وقت صرف کریں اور علماء نعرے بازی کے بجائے عوام الناس میں دینی ماحول ہموار کرنے میں اپنی قوت صرف کریں ۔  مولانا موصوف نے اور بھی مزید قیمتی باتیں کیں جو سیمانچل کے مسلمانوں کو کامیابی کی راہ ہموار کرنے میں مددگار ثابت ہوں گی ۔ انشاءاللہ ۔

    ان کے بعد ناظم اجلاس نے مفتی صاحب قبلہ کی موجودگی میں اپنا تاثر پیش کرنے کے لئے اسی علاقے واقع لڑکیوں کا ایک کامیاب مدرسہ کے بانی و سربراہ مولانا مجاہد الاسلام صاحب  کو ۲ منٹ کا وقت دیتے ہوئے مائیک پر آنے کی دعوت دی ۔  مولانا موصوف نے سامعین کو صرف  یہی باور کرانے میں ۲ منٹ کا وقت صرف کر دیا کہ ان کو صرف ۲ منٹ کا وقت دیا گیا ہے ۔خیر انہوں نے کسی طرح ۱۵ منٹ میں اپنی بات مکمل کیا ۔ ویسے بھی اتنی بڑی شخصیت کو اپنا تاثر پیش کرنے کے لئے محض ۲ منٹ کا دیا جانا یہ اناؤنسر کا ایک غیر معقول فیصلہ تھا ۔

           اس کے بعد ناظم اجلاس نے مفتی صاحب قبلہ کو عوام الناس سے خطاب کرنے کی دعوت دی ۔ مفتی صاحب قبلہ عوام کے رو برو ہوئے ۔ پورے برصغیر میں یہ بات ہر عام و خاص کے مابین مشہور و معروف ہے کہ مفتی مطیع الرحمان صاحب قبلہ کی تقریر چیخ و پکار سے  مبرا  پوری متانت و سنجیدگی کے ساتھ ہوتی ہے،  گویا یوں محسوس ہوتا ہے کہ درسگاہ میں کوئی استاذ اپنے شاگردوں کو بحسن و خوبی ان کا سبق سمجھا رہا ہو ۔  مفتی صاحب قبلہ انتہائی قیمتی اسباق عوام و خواص کو پڑھائے مثلا انہوں نے بتایا کہ آج کل جب کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس وقت عورت کے پاس بہت سی عورتیں موجود رہتی ہیں یہ سراسر ناجائز و حرام ہے بلکہ صرف وہی دائی وہاں حاضر رہے جس کی ضرورت ہو،  مفتی صاحب قبلہ نے ایک اور اہم نکتہ کی جانب اشارہ کہ جب کوئی  پیدا ہو تو اس کے کان میں سب سے پہلے کلمہ طیبہ اور  آذان کی آواز گونجنی  چاہئے۔  حالانکہ ایسا ہوتا نہیں ہے بلکہ عورتوں کے شور و غل اور فضول باتیں بچے کے کان میں  سب سے پہلے  گھر کر جاتی ہیں جس کے باعث بڑے ہو کر یہ بچہ انہی چیزوں کا رسیہ ہوتا ہے ۔ کاش کہ اگر بچے  کے کان میں اسلامی طریقے سے سب سے پہلے کلمہ طیبہ اور آذان کی آواز کے رس گھولے جائیں تو انشاءاللہ اس کے مثبت نتائج برآمد ہونگے اور بچہ بڑے ہوکر دیندار، پرہیزگار اور متقی ہوگا۔
     مفتی صاحب قبلہ نے اپنے خطاب میں بےشمار قیمتی باتیں بتائیں جو  لائق عمل رہیں لیکن چند باتیں مفتی صاحب قبلہ کی ایسی رہیں جو راقم کو ہضم نہیں ہوئیں مثلا انہوں نے کہا کہ" فقہ صرف چار ہیں " اگر ان کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اہل سنت و جماعت سے موسوم مسلمانان عالم کے درمیان اس وقت متفق علیہ مذاہب فقہ صرف چار ہیں  ( فقہ زیدیہ کو استثنا کئے بغیر ) تو ان کا کہنا بجا ہے ور نہ نہیں ۔  انہوں نے اپنی گفتگو میں کہا کہ "امام بخاری علیہ الرحمہ شافعی المسلک تھے " ان کا یہ کہنا مطلقا درست نہ ہو گا کیونکہ امام بخاری نے یہ کبھی نہیں فرمایا کہ وہ شافعی المسلک ہیں یا ان کے ارشادات و فرمودات سے اس طرح کے کوئی شواہد و نظائر نہیں ملتے جس سے صراحتا یہ کہا جا سکے کہ امام بخاری شافعی المسلک تھے ۔ ہاں یہ الگ بات ہے امام شافعی اور امام بخاری کے جملہ  موافق  میں کافی حد یکسوئی اور اتفاق ہے لیکن  اگر کسی ما بعد امام کے مواقف کسی ما قبل امام کے موافق کے مساوی ہوں تو اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ مابعد امام ماقبل امام کا مقلد ہو ، ویسے بھی امام شافعی اور امام بخاری علیہما الرحمہ کے زمانے میں زیادہ فرق نہیں ہے ۔ امام شافعی کی وفات ۲۰۵ھ ہے اور امام بخاری کی  پیدائش ۲۱ شوال المکرم سنہ ۱۹۴ ھ ہے ۔ دونوں کی اپنی اپنی شان ہے ۔

           دوسری صدی ہجری تک کے جتنے بھی مشہور و معروف علماء ہیں سبھی مجتہد فی الشرع ہوئے ۔ تیسری صدی ہجری میں پیدا ہوئے بہت ہی مشہور و معروف عالم دین امام ابو جعفر احمد بن محمد الطحاوي  (۲۳۹ھ -۳۲۱ھ) علیہ الرحمہ کو فقہ حنفی میں صف اول (مجتہد فی المذہب )  فقہاء میں شمار کیا جاتا ہے لیکن عقائد میں جمھور احناف کے برخلاف ان کے نظریات امام ابو الحسن اشعری (۲۶۰ھ -۳۲۴ھ ) کے نظریات سے زیادہ مطابقت رکھتے ہیں۔

        تیسری صدی ہجری میں جو علماء مشہور ہوئے ان میں سے بعض  مجتہد فی الشرع  ہوئے اور بعض مجتہد فی المذہب ۔ دوسری صدی ہجری پیدا ہونے والے بعض علماء کو امام ابو حنیفہ علیہ الرحمہ کے شاگرد اور بیشتر فروعی مسائل میں ان کے موقف سے اتفاق ہونے کی بنا پر ان کا معتقد اور مقلد گردانا جاتا ہےجیسے کہ امام ابو یوسف  (۱۱۳ھ-۵ ربیع الاول ۱۸۲ھ)، امام محمد بن حسن الشيباني (۱۳۱ھ-۱۸۹ھ)، امام زفر بن ہزیل  (۱۱۰ھ-۱۵۸ھ)، امام حسن بن زیاد  (۷۳۴ء - ۸۱۴)،اور امام ابو عیسی محمد بن عیسی ترمذی (۲۰۹ھ- ۱۳رجب۲۷۹ھ ) کو امام شافعی  (۱۵۰ھ-۲۰۵ھ) کا ۔ رحمهم اللہ اجمعین ۔

        اس کے علاوہ انہوں نے فقہاء کے مابین مقام و مرتبہ کی  درجہ بندی کرتے ہوئے کہا کہ "سب سے زیادہ مرتبہ امام اعظم کا  پھر امام شافعی کا  پھر امام مالک کا  پھر امام احمد کا " ۔ اس میں انہی کی تخصیص نہیں، بلکہ بے شمار علمائے بر صغیر اس میں ملوث ہیں ۔ بڑے ادب و احترام کے ساتھ  میرا خصوصا مفتی صاحب قبلہ سے اور بالعموم  ان تمام علماء، جو فقہاء کے مابین  اس طرح کی درجہ بندی کرتے ہیں، سے سوال ہے کہ آخر آپ کو کیسے معلوم ہوا کہ امام اعظم  ابو حنیفہ کا رتبہ امام شافعی اور امام مالک سے زیادہ ہے؟ اگر یہ آپ کا کشف ہے تو آپ اپنے کشف کے ذریعے کئے گئے  اس درجہ بندی کو اپنے تک محدود رکھئے یا اپنے پیروکاروں تک ہی محدود رکھئے  یا پھر پوری وضاحت کے ساتھ بیان کیجئے کہ فقہاء کے درمیان یہ جو درجہ بندی ہے یہ ان کے  پیروکار  اور متبعین کو  مد نظر رکھتے ہوئے ہے نہ کہ ان کے مرتبے کے لحاظ سے ۔  ویسے بھی بر صغیر کے علماء کا ہی ماننا ہے کہ عوام کالانعام ہے تو عوام الناس کے سامنے اس طرح اشارات و کنایات اور متشابہات کے ذریعے بغیر وضاحت کے  خطاب کرنا چہ معنی دارد؟     خیر ۔۔۔۔۔۔۔! کہاں سے  میں کدھر پھنس گیا ۔ مفتی صاحب قبلہ کی نصیحت آمیز گفتگو کے بعد جناب اختر پرواز صاحب مجمع کے رو برو ہوئے انہوں نے بھی عوام کو کافی ورزش کرائی ۔انتظار کی مدت  بالآخر ختم ہوئی اور جس شخصیت کی گرج دار آواز   سننے کی غرض سے راقم ۲ کیلو میٹر دوری کا سفر طے کر کے آیا تھا وہ شخصیت اسٹیج پر جلوہ گر ہوئی ۔ ویسے سن رکھا تھا کہ حضرت پارلیمنٹ سے لیکر بڑے بڑے اسٹیجوں میں اپنی قابلیت کا لوہا منوا چکے ہیں ابھی ماضی قریب میں حضرت نےایک نئی تحریک کی بنیاد رکھی ہے جس کے تحت وہ نچلے طبقے کے لوگوں کو متحد  کر رہے ہیں ۔ اس کے علاوہ حضرت کا ایک دوسرا چہرہ بھی نگاہوں کے  سامنے  میں ہے جو جامعہ اشرفیہ کے واردات میں ذہن نشین ہوا تھا ۔ خیر حضرت کی گفتگو شروع ہوئی اور ۲۰ سے ۲۵ منٹ گذر گئے لیکن حضرت کی گفتگو کا کوئی متعین رخ سمجھ میں نہیں آیا ۔ آپ سے کیا بیان کروں کہ حضرت کیا فرما رہے تھے ۔ ایک تو  حضرت یہ بھی کہ رہے تھے کہ بلیاوی آج اس کانفرنس میں صرف میلاد سے متعلق گفتگو کرے گا اور دوسری طرف حضرت کانفرنس میں موجود سابق ایم ایل اے صاحب کے اوصاف بھی بیان کر رہے تھے ۔۱۰ سے ۱۵  منٹ اور  اسی طرح  ان کو برداشت کر رہا تھا ۔ ہمارے بھائی نما دوست مولانا شاہ نواز عالم سعیدی عارفی مصباحی کے عم مکرم حضرت علامہ و مولانا مزمل حسین صاحب مصباحی (بانی و سربراہ جامعہ رضویہ نعیم العلوم ) ہمارے آگے تشریف فرما تھے، آخر مجبورا  ہماری مادری زبان میں بول پڑے کہ " الا تقریر نی پوسابے،  یہا سے بڑھیاں تو ہمرا بولہی " مطلب یہ کہ اس طرح کی تقریر سن کے کوئی فائدہ نہیں اس سے اچھی تقریر ہم ہی  لوگ کر لیتے ہیں مطلب یہ کہ کسی نہ کسی موضوع کے تحت بولتے ہیں اور اللہ و رسول کی باتیں اور ارشادات و فرمودات لوگوں سے بیان کرتے ہیں نہ کہ کسی ایم ایل اے یا کسی ایم پی کے اوصاف بیان کرتے ہیں ۔   اس کے بعد مولانا مزمل صاحب، مولانا صدام صاحب اور دیگر رفقاء کے ہمراہ راقم بھی گھر لوٹ آیا ۔ 


 راقم- احمد اللہ سعیدی عارفی  (محمد احمد رضا ) جامعہ عارفیہ سید سراواں آلہ آباد  یوپی

منگل، 12 نومبر، 2019

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت کے بارے میں غیر مسلم  دانشمند حضرات  نے کیا کہاہے ؟

اسلام تنہا ایسا دین ہے جس میں یہ خاصیت پائی جاتیہے کہ وہ گوناگوں تبدیلیوں کو خود میں جذب کر سکے اور خود کو ہر زمانہ کے حساب سے منطبق کر سکے۔ میں نے حضرت محمد مصطفی (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے دین کے بارے میں یہ پیشین اس آسمانی دین کا کم سے کم فائدہ یہ ہوا کہ لکھنے، پڑھنے اور اسلامی دنیا میں علوم کے عالمگیر ہونے کو بڑھاوا ملا اور اس کے ساتھ ہی یه اسپین ، جرمنی ، انگلستان جیسے ممالک اور یوروپی حکومتوں کی طرف منتقل ہوا اور اس کے بعد پوری دنیا میں فروغ حاصل ہوا، اس طرح سے اس آسمانی سنگ میل کے بعد روم و مصر و ایران جیسے تمدن و ثقافت کے پاس بھی اس کا کوئی متبادل و جواب نہیں تھا۔ اس حقیقت کے تاریخی دلائل غیر قابل انکار اور بے شمار ہیں: ان میں ایک دلیل ان اسلامی علماء و دانشوروں بلکہ غیر اسلامی و مغربی دانشمندوں کا مکرر اقرار و اعتراف ہے جس کے ایک مختصر نمونے کا ذکر ہم یہاں کریں گے:
گوئی کی ہے کہ ان کا مذھب آئندہ یوروپ کے ملکوں میں قابل قبول ہوگا۔ جیسا کہ آج کے دور میں اس کے قبول
کرنے کا آغاز ہو چکا ہے۔ اسلام کا ظہور پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ) اور اھل بیت (علیہم السلام) کی زحمتوں کے نتیجے میں تاریخ بشری میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے جس میں بے شمار ھمہ گیر ترقی و ارتقاء نے بنی نوع بشر کو اپنے سایہ پناہ میں لے لیا ہے۔
مغربی معاشرہ کے نامور دانشمند و اسکالرز توہین و تذلیل و اہانت کے باوجود پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ) کو نہ صرف یہ کہ صف اول کے دینی رہنما و بزرگ کے طور پر تسلیم کرتے ہیں بلکہ تمام صراحت اور صاف گوئی کے ساتھ اسلام کو اس کے بے شمار خصائص کے ساتھ، ایک عالمی اور جہانی دین ہونے کا اعتراف کرتے ہیں اور شاید یہی سبب ہے کہ اس واقعیت نے توہین و اہانت کرنے والوں کے درد میں اضافہ کر دیا ہے اور اس حقیقت کے جواب میں انہیں تعصب و بے دینی و بد تمیزی کے سوا کوئی راہ نظر نہیں آ رہی ہے۔

(1) ٹالسٹواے

مشہور روسی مصنف و مربی و فلسفہ اخلاق، جس کی تعلیمات اور آئیڈیالوجی کو بڑے بڑے سیاست مداروں منجملہ گاندھی نے اپنا آئیڈیل قرار دیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی ذات گرامی اور شخصیت تمام اکرام و احترام کی مستحق ہے اور ان کی شریعت عقل و حکمت کے موافق ہونے کے سبب ایک دن عالمگیر حیثیت اختیار کر لے گی(۱).

(2) کارل مارکس

انیسویں صدی عیسوی کا یہ جرمنی الاصل فلسفی، سیاستمدار اور انقلابی لیڈر، پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی شخصیت کو عمیق طور سے درک کرنے کے بعد اپنی رای کا اس طرح سے اظہار کرتا ہے: محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ) ایسے شخص تھے جو بت پرستوں کے درمیان آہنی اراد ےکے ساتھ کھڑے ہوئے اور انہیں یکتا پرستی اور توحید کی دعوت دی اور ان کے دلوں میں جاویدانی روح و نفس کا بیج بویا۔ اس لیے انہیں نہ صرف یہ کہ مردان بزرگ کی صف میں رکھا جائے بلکہ وہ اس بات کے مستحق ہیں کہ ان کے فرستادہ خدا ہونے کا اعتراف کیا جائے اور دل کی گہرائی سے کہا جائے کہ وہ اللہ کے رسول ہیں (۲).

(3)مہاتما گاندھی

پیغمبر اسلام (صلی الله علیه و آله) کی حیات خود ایک کھلی علامت اور نشانی تھی اس بات کہ مذ ھبی امور میں جبر و اجبار کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے (۳).

(4)جواہر لعل نہرو

جس مذھب کی پیغبمر اسلام (صلی الله علیه و آله) تبلیغ و ترویج کرتے تھے جس میں سادگی، صداقت ، درستی ، جمہوری اقدار اور مساوات وبرابری کے رنگ تھے، وہ پڑوسی ممالک کے لوگوں میں مورد استقبال قرار پایا (۴).

(5)ولٹر فرانسوی

یقینا حضرت محمد (صلی الله علیه و آله) نہایت بزرگ انسان تھے، وہ ایک ماہر حاکم، خردمند و مدبر قانون گذار، ایک عدالت پسند بادشاہ اورپرہیز گار پیغمبر تھے، انہوں نے عام لوگوں کے سامنے اپنے اخلاق و کردار کا جو مظاہرہ کیا وہ اس سے زیادہ ممکن نہیں تھا۔ (۵)

(6)پیرسیمون لاپلاس

یہ اٹھارویں وانیسویں صدی عیسوی کے معروف و مشہور ماہر نجومی اور ریاضی داں تھے، ان کے نظریات نے علم نجوم و ریاضی میں ایک انقلاب پیدا کر دیا، وہ ان مغربی محققین میں سے ہیں جنہوں نے دین مبین اسلام کے بارے میں اس طرح سے اظہار رای کیا ہے:
اگر چہ میں آسمانی ادیان کا معتقد نہیں ہوں مگر حضرت محمد (صلی الله علیه و آله) کا دین اور ان کی تعلیمات، انسان کی سماجی زندگی کے دو نمونے ہیں۔ اس لیے میں اس بات کا اعتراف کرتا ہوں کہ اس دین کا ظاہر ہونا اور اس کے خردمندانہ احکام بزرگ اور با اہمیت ہیں اور اسی وجہ سے میں ان کی تعلیمات سے بے بہرہ نہیں ہو سکتا (۶).

(7) پروفیسر ارنیسٹ ھیگل

انیسویں صدی کے سب سے بڑے اور مشہور جرمنی الاصل فلسفی کا کہنا ہے:
اسلام مذھب نہایت جدید ہونے کے ساتھ ساتھ غیر مخدوش اور عالی توحیدی مباحث کا حامل ہے۔ (۷)

(8) ہربرٹ جارج ویلز

یہ انگریز مصنف و محقق اپنی کتاب سرمایہ سخن میں اس طرح تحریر کرتا ہے:
اسلام تنہا ایسا دین ہے جس کے رکھنے پر دنیا کے تمام شریف لوگ افتخار کر سکتے ہیں، وہ تنہا دین ہے جسے میں نے سمجھا ہے اور میں مکرر اس بات کو کہتا ہوں کہ وہ دین جو خلقت و آفرینش کے رموز و اسرار سے آگاہ ہے اور تمام مراحل میں تمدن و ثقافت کے ہمراہ ہے، وہ فقط اسلام ہے۔

(9) گوئٹہ

یہ جرمنی کا مشہور و معروف دانشمند، شاعر اور مصنف ہے جس نے جرمنی اور عالمی ادب پر گہرا اثر چھوڑا ہے، وہ اپنی کتاب دیوان شرقی وغربی میں لکھتا ہے:
قران کریم نامی کتاب کے مندرجات ہمیں مجذوب کر دیتے ہیں اور حیرت میں ڈالتے ہیں اور اس بات پر مجبور کر دیتے ہیں کہ ہم اس کی تعظیم کریں۔

(10) جارج برنارڈ شاہ (۱۸۵۶ سے ۱۹۵۰)

یہ شیکسپیر کے بعد ابگلستان کا سب سے بڑا مصنف ہے جس کے افکار نے مذھب، علم، اقتصاد، خانوادہ اور ہنر و آرٹ میں مخاطبین پر نہایت گہری چھاپ چھوڑی ہے، جس کے افکار کی متلاطم موجوں نے مغربی معاشرے کی عوام مین روشن فکری کا جذبہ پیدا کر دیا۔ وہ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیه و آله)کی عظیم شخصیت کے بارے میں اس طرح لکھتا ہے:
میں ہمیشہ محمد (صلی الله علیه و آله) کے دین کے بارے میں، اس کے زندہ ہونے کی خاصیت کی وجہ سے حیرت میں پڑ جاتا ہوں اور اس کا احترام کرنے پر خود کو مجبور پاتا ہوں، میری نظر میں تنہا اسلام ہی وہ دین ہے جس میں ایسی خاصیت ہے کہ وہ کسی بھی تغیر و تبدیلی کو خود میں جذب کر سکتا ہے اور خود کو زمانہ کے مختلف تقاضوں میں ڈھالنے کی استعداد رکھتا ہے۔ میں نے محمد (صلی الله علیه و آله) کے دین کے بارے میں یہ پیشین گوئی کی ہے کہ وہ آئندہ میں یوروپ والوں کے لیے قابل قبول ہو جائے گا جیسا کہ آج اس امر کی ابتداء ہو چکی ہے۔ میرا ماننا ہے کہ اگر اسلام کے پیغمبر جیسا کوئی مطلق حاکم اس ساری کائنات پر حاکم ہو جائے تو اس جہان کے مسائل اور مشکلات کو حل کرنے میں اس طرح سے موفق اور کامیاب ہو جائے گا کہ انسان صلح و سعادت تک پہچ جائے گا جسے اس کی شدید ضرورت ہے۔

(11) اڈوارڈ گیبن

یہ اٹھارویں صدی کا انگلینڈ کا سب سے بڑا مورخ اور جس نے روم کی شہنشاہیت کے سقوط کی مشہور تاریخ لکھی ہے۔ وہ قرآن مجید کے بارے میں اس طرح لکھتا ہے:
بحر ایٹلس سے لے کر ھندوستان میں موجود دریاء گنگا کے کناروں تک قرآن مجید نہ صرف یہ کہ ایک فقہی قانون کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے بلکہ وہ ملکوں کے قانون اساسی بشمول قضاء و عدالت، شہریت کے نظام، سزا کے احکام سے لے کر امور مالی تک انسان کے ان تمام قوانین کا احاطہ کرتا ہے اور یہ تمام کے تمام امور ایک ثابت احکام کے سبب انجام پاتے ہیں یہ سب ادارہ خدا کی جلوہ گری ہے۔ دوسرے الفاظ میں قرآن مجید مسلمانوں کے لیے ایک عام دستور العمل اور قانون اساسی کی حیثیت رکھتا ہے جس میں دین، معاشرہ، شہریت، فوج، عدالت،جرم، سزا کے تمام قوانین اور اسی طرح سے انسان کی روزانہ کی فردی و سماجی زندگی سے لے کر دینی وظائف تک جس میں تذکیہ نفس سے لے کر، حفظان صحت کے اصول کی مراعات، فردی حقوق سے عمومی حقوق تک اور اخلاقیات سے جنایات تک، اس دینا کے عذاب و مکافات سے اس جہان کے عذاب و مکافات تک سب کو شامل کرتا ہے۔ (۸)

(12) پروفیسر ویل ڈوران (۱۸۸۵ تا ۱۹۸۱)

یہ امریکا کا مشہور مصنف ومورخ ہے جس کے آثار کا موجودہ عصر میں لاکھوں لوگ مطالعہ کرتے ہیں۔ وہ پیغمبر اسلام (صلی الله علیه و آله) کی شخصیت کے بارے میں اس طرح سے اظہار نظر کرتا ہے:
اگر اس مرد بزرگ کے عام لوگوں پر ہونے والے اثر کا حساب کریں تو یقینا ہمیں کہنا پڑتا ہے کہ حضرت محمد (صلی الله علیه و آله) تاریخ انسانی کے بزرگ ترین بزرگ ہیں۔ وہ چاہتے تھے کہ اس قوم کی علمی و اخلاقی سطح کو، جو شدت گرما اور خشکی صحرا کے سبب توحش کی تاریکی میں ڈوبے ہوئے تھے، بلند کریں اور انہیں اس سلسلے میں جو توفیق حاصل ہوئی کہ وہ گزشتہ تمام عالم کے مصلح بزرگوں سے زیادہ تھی، مشکل سے ہی کسی کو ان کی صف میں کھڑا کیا جا سکتا ہے جس نے اپنی تمام آرزووں کو دین کے لیے وقف کر دی ہو،اس لیے کہ وہ اس دین پر عقیدہ رکھتے تھے۔ محمد (صلی الله علیه و آله) نے بت پرستوں اور صحرا میں پراکندہ قبیلوں کو ایک امت میں بدل دیا اور دین یہود و دین مسیح اور عرب کے قدیم دین سے برتر و بالا تر ایک سادہ آئین اور روشن اور مضبوط دین کی بنیاد رکھی، جس کی معنویت کی اساس، قومی شجاعت سے پیدا پوئی تھی، جس نے ایک ہی نسل کے اندر سو جنگوں میں فتح اور کامیابی حاصل کی اور ایک صدی کی مدت میں ایک عظیم اور باشکوہ حکومت قائم کر لی اور موجودہ زمانے میں اس کے پاس ایک پایدار قدرت ہے جس نے آدھی دنیا کو مسخر کیا ہوا ہے۔ (۹)
منابع:
(۱) ڈاکٹر گوسٹاو لوبون، اسلام و عرب صفحہ ۱۵۴ و ۱۵۸۹
(۲) محمد عند علماء الغرب، ص ۱۰۱
(۳) اسلام شناسی غرب، ص ۳۶
(۴) نگاھی بہ تاریخ جہان
(۵) اسلام از نظر ولٹر ص ۲۸ و ۵۳
(۶) مجلہ مکتب اسلام، اردیبہشت ۱۳۵۲ ص ۶۹
(۷) توماس کار لایل، زندگانی محمد (صلی الله علیه و آله) ص ۴۸
(۸) عذر تقصیر بہ پیشگاہ محمد و قرآن ص ۷۲
(۹) پنج گام دین ص ۱۸۵

احمد اللہ سعیدی عارفی جامعہ عارفیہ سید سراواں کوشامبی الہ آباد
دوستو ۔۔۔۔۔۔۔۔! مولانا مقصود عالم سعيدی صاحب جامعہ عارفیہ کے ایک ماہر استاد ہیں، مذہب اسلام کی دعوت و تبلیغ اور ترویج و اشاعت کے لئے ہمہ وقت سرگرم رہتے ہیں، ساتھ ہی جامعہ ہذا کے طلباء کی تنظیم "جمعیت الطلبہ" کے نگراں کی حیثیت سے بھی خدمت انجام دے رہے ہیں ۔مولانا موصوف راقم کے کلاس  (سابعہ )میں " المسند الصحيح المختصر بنقل العدل عن العدل إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم" المعروف بہ  مسلم شریف کا درس بھی دیتے ہیں ۔
     
        آج جب مولانا موصوف صاحب کلاس میں تشریف لائے تو طلباء نے  ان سے گزارش کی کہ  آپ کتاب کا درس نہ دے کر ہمارے چند سوالوں کے جوابات عنایت  فرمائیں ۔ حضرت نے ہم لوگوں کی عرضی قبول کی اور سوال کرنے کو کہا ۔

ہمارے کلاس ساتھی جناب محسن صاحب نے ان سے  دریافت کیا کہ علماء کے نزدیک  جب یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ مسلمانوں کے مابین آج امام حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے ہمنواؤں کی یاد منانے کا جو غیر مناسب اور نازیبا مراسم مروج ہیں، اسلام میں اس کی ممانعت ہے ۔پھر وہ کون سے اسباب و ذرائع ہیں جن کی بنا پر علماء عوام الناس کو ان اعمال قبیحہ سے باز رہنے کی ہدایت کرنے سے گریز کرتے ہیں ؟

                    اس پر مولانا صاحب نے جواب دیا کہ ایک طویل مدت سے  علماء  اس اس سلسلے میں اپنی تصانیف میں فقط  اس کے خلاف چند  باتیں لکھ کر بس اسی پر اکتفا کرتے ہوئے  اپنے وعظ و نصیحت کے ذریعے   عوام الناس کو ان چیزوں سے نہ  روک کر اس میں  تساہلی سے کام لیا ہے ۔ اب ایک طویل عرصہ  سے لوگ یہ سب کرتے آ رہے ہیں تو یک بارگی ان کو اس سے  روکنا آسان نہیں ہوگا۔ اگر آپ ان دنوں نوحہ خوانی اور سینہ کوبی کے خلاف کوئی بات بیان کریں گے تو عوام آپ کے خلاف ہو جائے گی اور اگر اس تعلق سے  آپ نے ذرا سی بھی شدت برتی تو یہ عوام الناس آپ سے برسر پیکار ہو جائے گی ۔
       
          انہوں نے اس فلسفے کو اپنے تجربے کے ذریعے  سمجھاتے ہوئے کہا کہ شادی بیاہ میں ڈی جے وغیرہ بجانا ناچ گانا کرنا ایک ناجائز اور حرام عمل ہے۔ ہمارے بعض احباب نے شادی وغیرہ کے موقع پر  اس حرام اور قبیح عمل کے سد باب کے لئے حکمت عملی سے کام لیتے ہوئے عین شادی کے دن سے ۱۵    ۲۰ روز پہلے سے اہل خانہ کو  سمجھانے کی کوشش کی، اس کے منفی اثرات اور دنیاوی واخروی نقصان بتاتے ہوئے ان کی ذہن سازی کی ۔ بالآخر ان میں سے  بیشتر حضرات نے ان کی بات مانی ،  شادی میں ڈی جے اور بینڈ کی شرکت  سے پپرہیز کیا ۔ اس کے برعکس بعض نا عاقبت اندیش مولوی  حضرات نے اس سلسلے میں فراست مندی سے گریز کرتے ہوئے عجلت پسندی کا مظاہرہ کیا  اور ڈی جے کی شمولیت کی بنا پر  عین  وقت  نکاح پڑھانے سے انکار  کیا ۔ اس کا منفی نتیجہ یہ مرتب ہوا کہ ان لوگوں اس مولانا صاحب کو وہاں سے کوچ کرنے  کے لئے کہا اور دوسرے مولانا کو مزید پیسے دے کر نکاح پڑھوا لیا ۔

           کسی بھی سلسلے میں اگر عوام کو کسی ضروری  امر  کی جانب  ان کی توجہات کو مرکوز کرانا ہو، یا کسی حرام و  غیر دینی  چیز سے ان کی  دلچسپی ختم کرنی ہو تو اس کے لئے آپ کو عین وقت سے کافی پہلے ہی آہستہ آہستہ اس دینی اور ضروری امر کی اہمیت کو ان کے اذہان میں اجاگر کرنا ہوگا یا اس حرام اور  غیر دینی امر کے نقصانات  کو لوگوں کے گوش گزار کرتے ہوئے ان کے دل و دماغ میں اتارنا پڑے گا  تب ہی لوگوں کو بات سمجھ میں آئے گی ۔ اگر لوگ دعوت و تبلیغ اور مسلم معاشرے میں مروجہ غیر شرعی امور کو مٹانا چاہتے ہیں تو اس کے لئے یہ ایک بہترین طریقہ ہے ۔ مولانا موصوف صاحب نے اس تعلق سے اور بھی قیمتی باتیں کیں تو سبق آموز تھیں ۔

از :- احمد اللہ سعیدی عارفی  (محمد احمد رضا ) متعلم جامعہ عارفیہ آلہ آباد

ہندوستانی مسلمانوں کے مسائل،قیادت کی خاموشی،اور مستقبل کے خدشات

آج ہندوستان میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے ساتھ جس طرزِ عمل کا مشاہدہ کیا جا رہا ہے، وہ نہایت تشویش ناک اور فکر انگیز ہے۔ متعدد مواقع پر ا...