جمعرات، 23 جون، 2022

*ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے آپ ﷺ کے نکاح کو لےکر کیئے جانے والے اعتراضات کا مدلل جواب :*

 *ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے آپ ﷺ کے نکاح کو لیکر کیئے جانے والے اعتراضات کا مدلل جواب :*


ایک اہم تحقیق :  

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيِمِ.. الحَمْدُ لله رَبِّ العَالَمِينَ وَالصَّلاَةُ وَالسَّلاَمُ عَلَى أَشْرَفِ الخَلْقِ أَجْمَعِينَ وَخَاتَمِ الأَنْبِياءِ وَالمُرْسَلِينَ سَيِّدِنا مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَأَتْبَاعِهِ بِإِحْسَانٍ إِلَى يَوْمِ الدِّيِنِ.


*کیا ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کا نکاح حضرت محمد ﷺ کے ساتھ کم سنی میں ہوا تها......؟؟؟*

دشمنان اسلام خصوص" مغربی دنیا کے لوگ اس بات کو لیکر حضرت محمد ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کرتے نظر آتے ہیں. .. اور آپ ﷺ کے مبارک تقدس کو پامال کرنے کی ناپاک کوشش کرتے ہیں، جنکا دیکھا دیکھی آج کل ہندوستان کے کچھ تنگ ذہن، اسلام مخلاف لوگ بھی اس کو عنوان بنا کر مسلمانان ہند کے جذبات کو مجروح کرنے کی کوشش کررہے ہیں.. جس کو سن کر مسلمان بہت زیادہ پریشان ہوجاتے ہیں اور شان اقدس میں ہونے والی گستاخی کو برداشت نہیں کرپاتے، مگر اس کے باوجود اس اعتراض پر اپنے آپ کو لاجواب  محسوس کرتے نظر آتے ہیں.. اور بعض مسلمان خود حیران ہوکر اس پر سوال کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے امی عائشہ سے اتنی کم عمری میں نکاح کیوں کیا تها....؟؟؟ 

آگے جو تحقیق اور حقائق آپکے سامنے پیش کیئے جارہے ہیں اسے پڑھ کر آپکے سارے اشکال دور ہوجائیں گے ان شاءالله،  اور آپ خود اپنے دوسرے مسلم اور غیر مسلم بھائیوں کی غلط فہمی کو دور کر سکتے ہیں،  یہ تحریر بڑی محنت سے تیار کی گئی ہے اسکو کم از کم ایک دفعہ ضرور پڑھیں تاکہ پوری زندگی آپکو اس عنوان کے متعلق تذبذب میں مبتلا نہ ہونا پڑے.  عنقریب اسکا انگریزی میں ترجمہ بھی پیش کیا جائے گا ان شاءالله، جسکو آپ اپنے غیر مسلم دوستوں کے ساتھ بھی شیر کرسکتے ہیں..

بوقت ضرورت مقررین حضرات بھی اس تحقیق سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عوام کو اس کے متعلق بتا سکتے ہیں، جو کہ اسوقت مسلمان ، خصوصا" دنیوی پڑھے لکھے طبقے کے ایمان و عقائد کی سلامتی کے لئیے ضروری ہے.....


صحیح بخاری و صحیح مسلم کی روایات سے پتا چلتا ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنه کا نکاح انکی چھ سال کی عمر میں ہوا اور رخصتی کے وقت انکی عمر شریف نو برس کی تھی. { رواه البخاري (3894) ومسلم (1422) }..

 یہ ساری روایات صحیح ہیں انکی صحت پر کلام نہیں کیا جاسکتا.

اس بات کو مغربی میڈیا نے کئی دفعہ mispresent کرکے عوام کے دلوں میں حضرت محمد مصطفی ﷺ کے متعلق بدگمانی پیدا کرنے کی ناپاک کوشش کی ہے. ..

 جس کی وجہ سے بعض لوگ حیرانی اور تعجب سے پوچھتے ہیں کیا محمد ﷺ نے ایک بچی سے نکاح کیا تھا...؟؟؟


آئیے دیکھتے ہیں کہ اسکی کیا حقیقت ہے.....

اس نکاح کے پیچھے کیا حکمت تھی...؟؟؟

 1400 سو سال پہلے کیا یہ عام سی بات تھی. ....؟؟؟؟

اسکا جواب دینے کے لئیے ان روایات کی صحت پر کلام کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ اسکو تاریخی پس منظر سے دیکھنے کی ضرورت ہے...


*اہم نکتہ*:-  

وقت کے ساتھ ساتھ انسانوں کی غذا اور انکے کے استعمال کی چیزوں میں بڑی تبدیلیاں آئی ہیں اور اسی طرح انسانوں کے اندر بھی جسمانی تبدیلیاں (  Anatomical and Physiological Changes ) ہوئی ہیں...

1400 سال پہلے اتنی کم عمری میں شادی ہونا ایک عام سی بات تھی... اور یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ یورپ، ایشیاء، افریقہ اور امیریکہ میں 9 سال سے 14 سال کی لڑکیوں کی شادیاں کردی جاتی تھیں. ..


مثال کے طور پر سینٹ آگاسٹین Saint Augustine ~ 350 AD  نے جس لڑکی سے شادی کی اسکی *عمر 10 سال* تھی. .


راجا ریچرڈ 2 ، KING RICHARD-II 1400 AD  

نے جس لڑکی سے شادی کی اس کی *عمر سات سال* کی تھی. .

ہینری 8 ، HENRY 8 نے ایک *6 سال* کی لڑکی سے شادی کی تھی. .

یہاں تک کہ عیسائیوں کی پڑھی جانے والی آج کی موجودہ بائبل میں ہے.

In the book of Numbers, chapter 31 and verse 17 


*" But Save for yourselves every GIRL who has never slept with a man "*

*" مگر ہر وہ لڑکی جو باکرہ ہے اسکو اپنے لیئے محفوظ کرلو"*


عیسائیوں کی کیتھولک ینسائکلوپیڈیا کے مطابق حضرت

 عیسی علیہ السلام کی والدہ حضرت مریم کا نکاح انکی 12 سال کی عمر میں 99 برس کے جوسف سے ہوئی تھی.


1929 سے پہلے تک برطانیہ میں، چرچ آف انگلینڈ کے وزراء *12 سال* کی لڑکی سے شادی کرسکتے تهے.


1983 سے پہلے کیتھولک کینان کے قانون نے اپنے پادریوں کو ایسی لڑکیوں سے شادی کرلینے کی اجازت دے رکھی تھی کہ جنکی *عمر 12* کو پہنچ چکی ہو.

بہت سارے لوگ اس بات سے ناواقف ہیں کہ امیریکہ کے اسٹیٹ آف ڈیلیورا میں 1880 میں لڑکی کی شادی کی جو کم سے کم عمر تھی وہ *8 سال* تھی. اور کیلیفورنیا میں *10 سال* تھی. ..

یہاں تک کہ آج تک بھی امیریکہ کے کچھ اسٹیٹس میں لڑکیوں کی شادی کی جو عمر ہے، وہ *میسیچوسس میں 12 سال*، اور *نیوہیمسفر میں 13 سال* اور *نیویارک میں 24 سال* کی عمر ہے.

یہاں تک تو عیسائیت اور مغربی ممالک میں لڑکی کی شادی کی مناسب عمر اور وہاں کے معروف شخصیات کے متعلق تھا، جس سے یہ صاف ثابت ہوتا ہے کہ تاریخی نکتہ نظر سے اس عمر کی لڑکی سے نکاح کرنا ایک عام سی بات تھی اور اسکو کوئی معیوب نہیں سمجھتا تھا.


*ہندو مذہب میں شادی کی عمر* : 

اب ہمارے ملک ہندوستان کے قوانین اور ہندو مذہب کی مقدس کتابوں پر نظر ڈالتے ہیں کہ ان میں لڑکی کی شادی کی مناسب عمر کے بارے میں کیا لکھا ہے. ؟

ہندو مذہب کی کتاب منوسمرتی میں لکھا ہے،

*" لڑکی بالغ ہونے سے پہلے اسکی شادی کر دینی چاہیے"*

( گوتما 18-21 )


*"اس ڈر سے کے کہیں ایام حیض نہ شروع ہوجائیں، باپ کو چاہئیے کہ اپنی لڑکی کی شادی اسی وقت کردے جب کے وہ بے لباس گھوم رہی ہو، کیونکہ اگر وہ بلوغت کے بعد بھی گھر میں رہے تو اسکا گناہ باپ کے سر ہوگا "*  

واشستها ( 17:70 )

(manu ix, 88; http://www.payer.de/dharmashastra/dharmash083.htm)


- *Age of Marriage in India*

*ہندوستان میں شادی کی عمر* :

اس کے متعلق کیمبرج کے سنٹ جانس کالج کے Jack Goody نے اپنی کتاب

 *The Oriental, the Ancient and Primitive*

میں لکھا ہے کہ ہندوستانی گھروں میں لڑکیاں بہت جلدی ہی بیاہ دی جاتیں تھیں. .


سری نواس ان دنوں کے بارے لکھتے ہیں جب کہ انڈیا میں بلوغت سے قبل شادی کرنے کا رواج چلتا تھا..


(1984:11) : لڑکی کو اسکی عمر کو پہنچنے سے پہلے اسکی شادی کردینی ہوتی تھی؛ ہندو لا کے مطابق اور ملک کے رواج کے موافق لڑکی کے باپ پر یہ ضروری تھا کہ وہ بالغ ہونے سے پہلے اسکی شادی کردے، گرچہ  کہ رخصتی میں اکثر تاخیر ہوتی تھی، جو تقریبا" 3 سال ہوتی تھی.

(The Oriental, the Ancient, and the Primitive, p.208.)


- اور یہ بات سب جانتے ہیں کہ ایسی کم عمری کی شادیوں کا انڈیا میں آج بھی رواج ہے. 


- *The Encyclopedia of Religion and Ethics*   

میں لکھا ہے کہ، جس کی بیٹی اس حالت میں بلوغت کو پہنچتی تھی کہ وہ غیر شادی شدہ ہو تو اسکے (ہندو)  باپ کو گنہگار سمجھا جاتا تھا ، اگر ایسا ہوتا تو وہ لڑکی خود بخود "سدرا" (نچلی ذات ) کے درجہ میں چلی جاتی تھی. اور ایسی لڑکی سے شادی کرنا شوہر کے لئیے باعث رسوائی ہوا کرتا تھا..


*منو* کی *سمرتی* نے مرد اور عورت کے لئیے شادی کی جو عمریں طے کی ہیں وہ اسطرح کہ، لڑکا 30 سال کا اور لڑکی 12 سال کی یا لڑکا 24 سال کا اور لڑکی 8 سال کی...

مگر آگے چل کر *بھراسپتی* اور *مہابهارتہ* کی تعلیم کے مطابق ایسے موقعوں پر (ہندو) لڑکیوں کی جو شادی کی عمر بتائی گئی ہے، وہ 10 سال اور 7 سال ہے، جبکہ اسکے بعد کے *شلوکاس* میں شادی کی کم از کم عمر 4 سے 6 سال اور زیادہ سے زیادہ 8 سال بتائی گئی ہے. اور اس بات کے بے شمار شواہد ہیں کہ یہ باتیں صرف تحریر میں نہیں تھیں ( یعنی ان پر عمل کیا جاتا تھا) 

(encyclopedia of religion and ethics, p.450 ), 


- تو ہندو مذہب کے ماننے والوں کی اپنی کتابوں کے مطابق بھی اس عمر میں شادی کرنا کوئی عیب کی بات نہیں ہے، جو لوگ اسپر اعتراض کرتے ہیں یا تو وہ جہالت کی بنیاد پر کرتے ہیں یا سیاسی مفاد کی خاطر... انکو چاہئیے کہ پہلے تاریخ کا اور اپنی مذہبی کتابوں کا مطالعہ کریں....

*1400 سال قبل ملک عرب میں* 

 بھی اس عمر میں لڑکی کی شادی کو معیوب نہیں سمجھا جاتا تھا...

حضرت محمد ﷺ کے زمانے میں جن لوگوں نے آپکے پیغام کو جھٹلایا تھا، انہوں نے ہر طریقے سے آپ ﷺ کو بدنام کرنے اور آپکو نیچا دکھانے کی کی کوشش کی. وہ ہر اس موقع کی تاک میں رہتے تھے کہ جس سے وہ آپ ﷺ کی شخصیت پر وار کر سکیں زبانی طور پر بھی اور جسمانی طور پر بھی.

آپ ﷺ پر جو زبانی حملے کرتے تھے ان میں کبھی آپﷺ کو  جادوگر کہتے تھے، کبھی آپکو کو جھوٹا کہتے تو کبھی آپ ﷺ کو مجنون کہتے تھے، نعوذ بالله من ذالك. مگر کبھی بھی ان لوگوں کے دلوں میں یہ خیال بھی نہیں آیا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنه سے آپکے نکاح کو لیکر اعتراض کریں یا طعنہ دیں، ایسا کیوں...؟؟؟

کیونکہ اسوقت انکے سماج میں یہ عام سی بات تھی. اور انکے نزدیک وہ کوئی ایسی عیب کی بات نہیں تھی کہ جس کو بنیاد بنا کر وہ آپ کو طعنہ دیتے....


*کیا آپ جانتے ہیں. ..؟*

کیا آپ جانتے ہیں کہ حضرت محمد ﷺ کی حیات طیبہ کے پہلے 54 سال تک صرف ایک ہی زوجہ محترمہ تھیں، وہ ام المومنین حضرت خديجة الكبرى رضى الله عنه تھیں.

کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ ایک بیوہ عورت تھیں جن سے حضرت محمد ﷺ نے نکاح کیا تها؟؟؟؟؟

 اور کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ آپ ﷺ سے عمر میں پندرہ سال بڑی تھیں. .؟؟؟

حضرت محمد ﷺ نے اپنی زندگی کے عین جوانی کے ایام صرف یہ ایک بیوی حضرت خدیجہ رضى الله عنه کے ساتھ گذارے ہیں جو آپ سے 15 سال بڑی تھیں...اور آپ ﷺ نے انکی وفات تک بھی ان سے تعلق رکھا اور یہاں تک کے انکی وفات کے بعد بھی انکے دوستوں اور رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک اور تعلق


کو برقرار رکھا....


*أم المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنه سے آپکا نکاح:*

اللہ کے حکم پر آپﷺ نے أم المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنه سے نکاح فرمایا جب کہ انکی عمر مبارک 6 سال تھی، مگر اسی وقت رخصتی نہیں کی گئی، جب حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنه کی عمر 9 سال کی ہوئی تب آپکی رخصتی ہوئی. 

  

اب سوال یہ ہے کہ، جس وقت آپکی رخصتی ہوئی ہے اسوقت کیا حضرت عائشہ ابھی نابالغ بچی تھیں....؟؟؟

نہیں بلکہ ملک عرب کے موسم اور وہاں کی ترتیب کے حساب سے وہ عمر بچیوں کی رخصتی کے لئیے قابل قبول عمر تھی...


*تاریخ اور جدید سائنس* : اس بات کو واضح کرتے ہیں کہ بلوغت کی عمر مختلف زمانے اور مختلف علاقوں کے حساب سے مختلف ہوتی رہی ہے... 

موجودہ سائنسی تحقیقات اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ " لڑکیاں مکمل بلوغت کی عمر کو  *9 سے 15 سال کی عمر* کے درمیان کسی بھی وقت پہنچ سکتی ہیں. "

( http://www.livescience.com/1824-truth-early-puberty.html )


*" The average temperature of the country is considered the chief factor with regard to Menstruation and Sexual Puberty"*

(Women : An Historical, Gynecological and Anthropological compendium, Volume I, Lord and Brandsby , 1998, p. 563)


ترجمہ : "کسی بهی علاقے کی بچیوں کے ایام حیض کے شروعات اور ازدواجی بلوغت کی عمر کو پہنچنے میں اس ملک کا اوسط" جو درجہ حرارت ہے، وہ اہم کردار ادا کرتا ہے."


ان سارے دلائل کی روشنی میں اگر اس واقعہ کو دیکھیں تو یہ اشکال کہ أمی عائشہ رخصتی کے وقت نابالغ بچی تھیں، بلکل ختم ہوجاتا ہے. اور ان سارے واقعات اور تاریخی پس منظر کو سامنے رکھ کر دیکھا جائے تو کسی کو بهی اس نکاح پر اعتراض کرنے کا کوئی بھی موقع باقی نہیں رہتا....

ہاں! اگر کسی کے دل میں پہلے ہی سے مرض ہو تو اسے کوئی کچھ نہیں کرسکتا...

قوله تعالى:

﴿ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ فَزَادَهُمُ اللَّهُ مَرَضًا وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ بِمَا كَانُوا يَكْذِبُونَ ﴾

سورة: (البقرة) الآية: (10)

"ان کے دلوں میں مرض تھا۔ خدا نے ان کا مرض اور زیادہ کر دیا اور ان کے جھوٹ بولنے کے سبب ان کو دکھ دینے والا عذاب ہوگا."


*اس نکاح کی عظیم حکمت :*

تو اس نکاح کے پیچھے کیا حکمت تھی. ..؟؟؟

 ہمارا خالق، ہم کو سب کو پیدا کر نے والا سب چیزوں کو سب سے بہتر جاننے والا ہے.

حضرت عاشہ رضی اللہ تعالٰی عنه سے آپ ﷺ نے نکاح، اللہ تبارک وتعالى کے حکم کی تعمیل میں کیا تھا. 

( صحیح البخاری، جلد 5،  کتاب 58، حدیث 235 )

سیدنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنه نے، اللہ کے حبیب ﷺ کی 2200 سے زاید احادیث ہم تک پہنچائی ہیں. حضرت عائشہ رضی اللہ عنه غیر معمولی ذہین تھیں اور بہت بہترین قوت حفظہ کی مالک تھیں. اور چونکہ کم عمری میں ہی انکی شادی اللہ کے نبی ﷺ سے ہوگئی تھی، تو انہیں آپ ﷺ سے بہت سارا علم حاصل کرنے کا موقع مل گیا. جس کی بدولت آگے چل کر انہوں نے ایک بہت بہترین استاد، ماہر اور فقیہ کا کردار ادا کیا. تو اس شادی کے پیچھے بڑی حکمتیں پوشیدہ تھیں.

حضرت محمد ﷺ دنیا کی آسائش اور اسکی لذتوں سے لطف اندوز ہونے کے لئیے دنیا میں تشریف نہیں لائے بلکہ آپنے ہمیشہ اپنے آپ کو دنیا کی زیب و زینت اور اسکی لذتوں سے دور رکھا، اور اپنی امت کو بھی اسکے دھوکے سے ڈرایا.

 جتنے بھی نکاح آپ ﷺ نے اپنی حیات طیبہ میں فرمائے وہ مردوں والے شوق کی شادیاں نہیں تھیں، بلکہ وہ حکم الہی اور حکمت خداوندی کی بنیاد پر تھیں..

ورنہ ایک ایسا حسین و جمیل، اجمل و اکمل، ابحا و انور، اعلی و انسب، تونا اور خوبصورت نوجوان، جس جیسا کسی کی آنکه نے نہ دیکها ہو، وہ اپنی عین بھر پور جوانی کے ایام اپنے سے 15 سال بڑی ایک ہی بیوی کے ساتھ کیسے گزاسکتا تها ...؟؟

وأَحسنُ منكَ لم ترَ قطُّ عيني, وَأجْمَلُ مِنْكَ لَمْ تَلِدِ النّسَاءُ. خلقتَ مبرءاً منْ كلّ عيبٍ, كأنكَ قدْ خلقتَ كما تشاءُ. 

*آپ جیسا حسین میری آنکھ نے نہیں دیکھا.* 

*آپ جیسا جمال والا کسی ماں نے نہیں جنا.* 

*آپ ہر عیب سے پاک پیدا ہوئے* 

*آپ ایسے پیدا ہوئے جیسے خود آپنے اپنے لئیے چاہا.* 


 اللَّهمَّ صلِّ وسلِّم وبارك عليه، عدد خلقك.. ورضا نفسك، وزِنَةَ عرشِكَ، ومدادَ كلماتِك، اللَّهمَّ صلِّ وسلِّم وبارك عليه عدد ما خلقتَ، وعدد ما رزقتَ، وعدد ما أحييتَ، وعدد ما أَمتَّ.

اس کو شیر کر کے صدقۂ جاریہ ثواب میں حصہ لیجیے

 احمد اللہ سعیدی عارفی📝


 جامعہ عارفیہ الہ آبادی 





جمعہ، 18 مارچ، 2022

اینٹ کا جواب پتھر سے دینا سیکھیں

 اینٹ کا جواب پتھر سے دینا سیکھیں!!! 


اگر کوئی تمہارے معاملات میں مداخلت کرے تو تم بھی اس کے معاملات میں اسی طرح مداخلت کر جاؤ!! ہر مرتبہ خود ہی نشانہ نہ بنو! بلکہ اگر کوئی تمہیں نشانہ بناتا ہے تو اس کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کرو۔ تاکہ اگلی بار کوئی تمہیں نشانہ نہ بنا سکے یا معاملات میں مداخلت نہ کر سکے۔

اس لیے کے آئے دن ہمارے ہی معاملہ میں لوگ مداخلت کرتے رہتے ہیں، اور ہم اپنے بچاؤ کے سوا کچھ نہیں کر پاتے، اور اس میں بھی  اکثر نا کام ہو جاتے ہیں۔ 

اسکول، کالج میں حجاب پر پابندی جیسے فیصلہ کے بعد ہم لوگوں کا بھی حق بنتا ہے کہ ہم بھی اب یہ مسئلہ اٹھائیں کہ ہم اپنے بچوں کو ان اسکول اور کالج میں نہیں بھیجیں گے جن میں مورتی رکھی ہوئی ہیں یا جن میں پوجا ہوتی ہو ، یا جہاں ٹیچرز ماتھے پر تلک لگاتے ہوں، یا سندھور اور منگلستر پہن کر آتے ہوں۔

اس کو روکنے کے لیے کورٹ کا دروازہ بھی کھٹکھٹانا پڑے تو کھٹکھٹائیں۔ اور سرکار سے مطالبہ کریں کہ ان تمام چیزوں کو بند کرائیں تاکہ سب اسکول میں  ایک سامان دکھیں۔ اور باقاعدہ اس کو اسی طرح سے روکنے کا مطالبہ کریں جیسے کہ دوسرے لوگوں نے پردہ کو روکنے کا مطالبہ کیا۔ اگر ہم اس طرح سے کرتے ہیں تو یہ اینٹ کا جواب پتھر سے دینا ہوگا۔  ورنہ تو ہر بار ہم کو نشانہ بنا کر ہمارے طورطریقہ کو بدلوایا  جاتا رہے گا۔ 


از: احمد اللہ سعیدی عارفی

9935586400


جمعہ، 11 مارچ، 2022

لمحہ ٔٔ فکریہ


 

وقت آ گیا ہے کہ مسلمانوں کو مساجد میں کچھ تبدیلیاں کرنی چاہیے۔


بہت ہو چکا مساجد کے درودیوار کے رنگ و روغن پر، بیت الخلإ کے سنگ مرمر پر ، قمقموں فانوس و جھومر پر، اٸر کنڈیشن اور اٸر کولرز پر اور نفیس قالینوں پر خرچ


مگر اب وقت آ گیا ہے کہ ترجیحات بدل کر کچھ ضروری جگہوں پر بھی اپنا مال خرچ کیا کریں۔

مگر کیسے۔ ۔ ۔ ۔؟

*چند تجاویز*


1۔ مساجد کو صرف نماز پڑھنے کی ہی جگہ نہ بناٸیں بلکہ اسلامی کمیونٹی سنٹر کی طرز پر وہاں غریبوں کے کھانے کا انتظام موجود ہو


2۔ ڈپریشن میں الجھے لوگوں کی رہنمائی (counseling) ہو۔


3۔ لوگوں کے خاندانی جھگڑے سلجھانے کا انتظام ہو


4۔ مدد مانگنے والوں کی مناسب تحقیق کے بعد اجتماعی و انفرادی طور پر مدد کی جا سکے


5۔ اپنے گھروں کے فالتو سامان کو نادار افراد کیلیۓ عطیہ کرنے کی غرض سے مساجد کا ایک حصہ مخصوص ہو


6۔ آپس میں رشتے ناتے کرنے کیلیۓ ضروری واقفیت کا موقع ملے


7۔ نکاح کا بندوبست سادگی کے ساتھ مساجد میں کیۓ جانے کو ترجیح دی جاۓ


8۔ قدرتی آفات سے ہونے والے نقصان کے ازالہ کیلیۓ اجتماعی کوششوں کا آغاز مساجد سے ہو


9۔ بڑی جامعہ مساجد سے ملحق مدارس میں دینی تعلیم کے ساتھ دنیاوی تعلیم کا بھی اہتمام ہو


10۔ ھماری مساجد میں ایک شاندار لاٸبریری ہو جہاں پر مکمل اسلامی و عصری کتب مطالعے کیلیۓ دستیاب ہوں


قوم میں باصلاحیت افراد کی کمی نہیں ان پڑھ یا کم لکھے پڑھے لوگوں کو اس کار خیر کیلیۓ استعمال کیا جا سکتا ہے


اپنے اندر عوامی فلاح و بہبود کی سوچ والے لوگ پیدا کریں


ان میں سے کوٸ بھی تجویز نٸ نہیں ہے ان تمام کاموں کی نظیر 1400 سال پہلے دور نبوی ﷺ کے مدینہ میں بھی ہوتے تھے


جیسے ہی ہم نے ان شاندار روایات کو چھوڑا ہم بربادی کی طرف بڑھتے چلے گیۓ اور چلے ہی جا رہے ہیں


خدا را


اب رک جاٸیں، سوچیں اور اپنی ترجیحات بدلیں۔

اللہ کریم ہمیں ان باتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطاء فرماۓ تا کہ اسلامی معاشرہ اپنی اصل شکل میں قائم ہو اور ہماری آنے والی نسلیں بہترین انداز میں زندگی گذار سکیں .


*نوٹ* اس پیغام کو دوسروں تک پہنچائیے تاکہ اللہ کسی کی زندگی کو آپ کے ذریعے بدل دے

جمعرات، 10 مارچ، 2022

یوکرین مسلمانوں کا قاتل

 *یوکرین مسلمانوں کا قاتل*


*آج جنہیں یوکرین پر رحم آرہا ہے ان کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ یہ کوئی فرشتہ ملک نہیں ہے۔ امریکہ نے جب بھی کسی مسلمان ملک پر حملہ کیا یوکرین نے سب سے پہلے اپنی فوج پیش کرکے امریکہ کی مدد کی سے لاکھوں مسلمانوں کو قتل عام کیا۔* 


*جی ہاں۔*


*بدقسمتی سے نئی نسل کے ممی ڈیڈی برگر بچے تاریخ سے لاعلم ہیں۔*


*امریکہ نے عراق پر حملہ کیا تو یوکرین نے نیٹو ممبر نہ ہونے کے باوجود اپنے 7,000 فوجی عراق بھیجے جنہوں نے امریکہ کے ساتھ مل کر 10 لاکھ عراقی مسلمانوں کو قتل کیا۔*


*یوکرینیوں نے صدام حسین کو پھانسی دینے میں امریکہ کی مدد کی۔ ہزاروں عراقی خواتین کی عصمت دری کی۔* 


*عراق میں شہید ہونے والے 10 لاکھ مسلمانوں میں سے آدھے یوکرینی فوج نے شہید کیے۔* 


*تو سوال یہ ہے اس پر کسی ممی ڈیڈی مخلوق کو درد کیوں نہیں ہوا ؟؟* 


*کیا عراقی انسان نہیں تھے ؟؟*


*مسلمان قتل ہوں تو آپ کو درد نہیں ہوتا، کافر قتل ہوں تو سب کو انسانیت یاد آجاتی ہے۔* 


*یہ منافقت کیوں ؟؟* 


*یہ دہرا معیار کیوں  ؟؟؟؟*


 *آج یوکرین پر حملہ ہوتے ہی ممی ڈیڈی مسلمان رونے لگ گئے ہیں، انہیں فورا انسانیت یاد آگئی جبکہ یہی کافر جب مسلمان ممالک عراق افغانستان لبیا شام فلسطین کشمیر اور افغانستان پر حملے کرتے رہے تو کسی کو انسانیت یاد نہیں آرہی تھی۔ اس وقت کسی کو دکھ نہیں ہوا، کوئی لاکھوں مسلمانوں کے قتل پر نہیں رویا۔۔۔۔ کیوں آخر کیوں؟؟؟؟* 


*تاریخ سے لاعلم ممی ڈیڈی بچے یوکرین کی حمایت میں روئے جارہے ہیں کہ ہائے ظلم ہوگیا۔ کیا انہیں مسلمان ممالک پر یوکرینی فوجی کے ظلم کا پتا نہیں ؟*


*میڈیا تو منافق ہے۔۔۔ یوکرین کی اصلیت بتانے کے بجائے حمایت کر رہا ہے۔* 


*آج یوکرین کی حمایت میں منہ سے جھاگ نکالنے والے مسلمان ممالک پر حملوں کے وقت خاموش رہے، کیا اس لیے کہ مرنے والے اس وقت مسلمان تھے اور مارنے والے انسانیت کا نام نہاد علمبردار امریکہ اور اسکا اتحادی یوکرین تھا۔۔۔۔؟؟؟*


*درحقیقت آج یوکرین وہی بھگت رہا ہے جو ماضی میں اس نے دوسروں کے ساتھ کیا۔۔۔۔۔۔ یوکرین مکافات عمل کا شکار ہے۔* 


*نوٹ :*

*تحریر کا مقصد روسی جارحیت کی حمایت کرنا نہیں بلکہ ہندوستانی ، پاکستانی مسلم ممی ڈیڈی قوم کو تاریخ یاد دلانا ہے تاکہ دوست اور دشمن کی تمیزکر سکے*۔


```■Russia Ukraine War

```


جمعرات، 20 جنوری، 2022

मेरा भारत

 *भाजपा बात करेगी "ताज" की,*

*तुम बात करना "आज" की l*


*भाजपा बात करेगी "शाहजहाँ" की,*

*तुम बात करना "जय शाह" की l*


*भाजपा बात करेगी "3 तलाक" की,*

*तुम बात करना "15 लाख" की l*


*भाजपा बात करेगी "राम-राज" की,*

*तुम बात करना "काम-काज" की l*


*भाजपा बात करेगी "गौरक्षका" की,*

*तुम बात करना "बेटी रक्षा" की l*


*भाजपा बात करेगी "गाय" की,*

*तुम बात करना "आय" की l*


*भाजपा बात करेगी "गौशाला" की,*

*तुम बात करना "पाठशाला" की l*


*भाजपा बात करेगी "शमसान-कबिरसतान" की,*

*तुम बात करना "संविधान" की l*


*भाजपा बात करेगी"पाकिस्तान" की,*

*तुम बात करना मेरा "देश महान" की l*


*भाजपा बात करेगी "नदियां सफाई" की,*

*तुम बात करना "शिक्षा और दवाई" की l*


*भाजपा बात करेगी "नफरत दंगों" की,*

*तुम बात करना "भूखे-नंगों" की l*


*भाजपा बात करेगी "नए वादों" की,*

*तुम याद दिलाना "पुराने वादों" की l*


*भाजपा बात करेगी तुम्हारी "कमाई" की,*

*तुम बात करना "मंहगाई" की l*


*भाजपा बात करेगी "हिंदू-मुसलमान" की,*

*तुम बात करना "देश जहान" की l*


*भाजपा बात करेगी "मन" की,*

*तुम बात करना "काले धन" की l*


*भाजपा बात करेगी "मोदीभक्ति" की,*

*तुम बात करना "देशभक्ति" की l*


*भाजपा बात करेगी,जातिवाद की,*

*तुम बात करना अपने अधिकार की*


*भाजपा बात करेगी "कमल के फूल" की,*

*तुम बात करना अपनी "भूल" की l*  


 *भाजपा बात करेगी नाकाबंदी की ...,,* 

 *तुम बात करना नोटबंदी की .... I* 


 *भाजपा बात करेगी पकोडे की ....,* 

 *तुम बात करना भगोडे की .... ।* 


 *भाजपा बात करेगी पुतलों की....,* 

 *तुम बात करना मासुमों के कत्लों की... I* 


 *भाजपा बात करेगी आस्था  की,* 

 *तुम बात करना अस्थाना की .... I* 


 *भाजपा बात करेगी नोबेल की ...,* 

 *तुम बात करना राफेल की .... I* 


*भाजपाई बात करेंगे सर्फ "हिंदुत्व" की*

*हम सब को बात करना है "विश्व बंधुत्व" की*

🇮🇳🇮🇳🇮🇳

       ✍️#ahmadullahsaeedi

#احمد_اللہ_سعیدی

بدھ، 29 دسمبر، 2021

Fingerprints

فنگر پرنٹس__________

انسانی جسم کی انگلیوں میں لکیریں تب نمودار ہونے لگتی ہیں جب انسان ماں کے شکم میں 4 ماہ تک پہنچتا ہے یہ لکیریں ایک ریڈیایی لہر کی صورت میں گوشت پر بننا شروع ہوتی ہیں ان لہروں کو بھی پیغامات ڈی۔۔این۔۔اے دیتا ہے مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ پڑنے والی لکیریں کسی صورت بھی اس بچے کے جد امجد اور دیگر روئے ارض پر موجود انسانوں سے میل نہیں کھاتیں گویا لکیریں بنانے والا اس قدر دانا اور حکمت رکھتا ہے کہ وہ کھربوں کی تعداد میں انسان جو اس دنیا میں ہیں اور جو دنیا میں نہیں رہے ان کی انگلیوں میں موجود لکیروں کی شیپ اور ان کے ایک ایک ڈیزائن سے باخبر ہے یہی وجہ ہے کہ وہ ہر بار ایک نئے انداز کا ڈیزائن اس کی انگلیوں پر نقش کر کے یہ ثابت کرتا ہے ۔۔۔۔۔

کہ ہے کوئ مجھ جیسا ڈیزائنر ؟؟؟

کوئ ہے مجھ جیسا کاریگر ؟؟؟

کوئ ہے مجھ جیسا آرٹسٹ ؟؟؟

کوئ ہے مجھ جیسا مصور ؟؟؟

کوئ ہے مجھ جیسا تخلیق کار ؟؟؟

حیرانگی کی انتہاء تو اس بات پر ختم ہوجاتی ہے کہ اگر جلنے زخم لگنے یا کسی وجوہات کی بنیاد پر یہ فنگر پرنٹ مٹ بھی جائے تو دوبارہ ہو بہو وہی لکیریں جن میں ایک خلیے کی بھی کمی بیشی نہیں ہوتی ظاہر ہو جاتی ہیں۔۔۔۔🌹

#ahmadull


ahsaeedi

منگل، 12 اکتوبر، 2021

ये है मेरा भारत!!!!!

 *शुक्रवार को पूरा देश जब लखीमपुर खीरी नरसंहार को लेकर बहस में उलझा हुआ था, मोदी सरकार ने खामोशी से बिजली दरों की राष्ट्रीय नीति में बदलाव कर दिया।* 


*अब हल्ला है कि दीवाली से पहले देश अंधेरे में डूबने वाला है। देश के चतुर ऊर्जा मंत्री आरके सिंह पहले तो कहते रहे कि देश में कोयला संकट नहीं है।* 


*फिर जब राज्यों ने चिट्ठी लिखनी शुरू की तो अब ढाढस बंधा रहे हैं।* 


*असल में पूरा खेल अडाणी और टाटा के लिए एक साजिश के तहत शुरू किया गया है। मोदी के दोनों दोस्त कोयला विदेशों से मंगाते हैं।* 


*अभी कोयले का दाम विदेशी बाजार में 150 डॉलर प्रति टन का है। शुक्रवार को बदली गई टैरिफ नीति में अडाणी और टाटा 16 रुपये प्रति यूनिट की दर से बिजली बनाकर बेचेंगे।* 


*दोनों के पास कोयले की कमी नहीं है। केंद्र का मौजूदा बिजली खरीद समझौता पूर्व निर्धारित दरों पर ही बिजली बेचने की इजाज़त देता है। मोदी सरकार ने इसे नई टैरिफ नीति में बदल दिया है।* 


*पर देश में कोयले की कोई कमी नहीं है।*


*पिछले साल अप्रैल से सितंबर के बीच 282 मिलियन टन कोयला निकाला गया, जबकि इस साल 315 मिलियन टन कोयला निकला है।* 


*खुद कोल इंडिया लिमिटेड का 7 अक्टूबर का आंकड़ा कहता है कि उसने 1.501 मिलियन टन कोयला एक दिन में भेजा है और 10 अक्टूबर तक इसे 1.7 मिलियन टन कर दिया जाएगा।* 


*फिर अंधेरे युग की चिंता क्यों है?* 


*दिक्कत राज्यों के कंगाल होने से है। मोदी सरकार ने राज्यों को भिखमंगा बना दिया है। वे कोयले का पैसा भी नहीं दे पा रहे।* 


*इस पूरी साज़िश में मोदी सरकार 40 नए कोयला ब्लॉक का आबंटन करने जा रही है। यानी कोयले का उत्पादन बढ़ना ही है।* 


*भारत में पहले किसी भी ज़रूरी चीज़ की इस कदर कमी की जाती है कि लोग हाहाकार करें। फिर उसी चीज़ को दाम बढ़ाकर बेचा जाता है।* 


*पर्दे की आड़ में जमाखोरी और भ्रष्टाचार जमकर होता है।*


*मोदी राज में खुद सरकार यह कर रही है। ये मोदी का अंधेर युग है। अंधेरा इसीलिए छाया है।*

🇮🇳🇮🇳🇮🇳

#Ahmadullahsaeedi

ہندوستانی مسلمانوں کے مسائل،قیادت کی خاموشی،اور مستقبل کے خدشات

آج ہندوستان میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے ساتھ جس طرزِ عمل کا مشاہدہ کیا جا رہا ہے، وہ نہایت تشویش ناک اور فکر انگیز ہے۔ متعدد مواقع پر ا...