جمعرات، 1 دسمبر، 2022

-:ضلع کشن گنج:-

 🌷 ضلع  کشن گنج  🌷



ریاست بہار  کے  سیمانچل منطقہ کے  ضلع  کشن گنج  کا  قیام 14/جنوری 1990ء میں عمل میں آیا ____  ضلع کے  ہیڈکواٹر  کا  نام  بھی  کشن گنج  ہے.

ضلع کا رقبہ  1880  اسکوائر    کیلو میٹر ہے.  جو  سات تحصیل (Block) اور   731   گاؤں   (villages)     پر مشتمل ہے.

2011 کی مردم شماری   (census) کے  مطابق  ضلع   کی      جملہ آبادی  1690948  ہے  _______  ضلع   کی مسلم آبادی   1149095  ہے     جو کل آبادی   کا  % 68  ہے ____     یہ ریاست کا  واحد مسلم اکثریتی ضلع ہے. شرح خواندگی (literacy rate) 

صرف  % 57  ہے _    ضلع    کا  ایک لوک سبھا حلقہ    اور    چھ اسمبلی حلقے ہیں، جو  پارلیمنٹ اور  ریاستی اسمبلی میں   مسلم نمائندگی     کو  یقینی  بناتے ہیں.

ضلع کشن گنج  کے مغرب میں  ضلع ارریہ  اور  ضلع کے جنوب مغرب میں ضلع  پورنیہ  ہے   __ اس کے   مغرب میں  ریاست مغربی بنگال  کا   ضلع اتردیناجپور   اور  اس کے شمال میں ضلع دارجلنگ اور پڑوسی ملک نیپال واقع ہے.

ضلع   کے     اہم      دریا    (rivers) مہانندا                 (Mahananda) کن کئی                         (Kankai) میچھی (Mechi) رتوا     (Ratua) ڈونک (Donk) رمضان (Ramzan) ہیں. _____

ضلع  میں خوب  بارش  (Yağmur) ہوتی ہے __ مئی (May) کے    مہینہ سے  بارش  شروع ہو جاتی ہے _ جو اکتوبر  کے ختم  تک  جاری  رہتی ہے ___ ویسے زیادہ بارش جون تا ستمبر میں ہوتی ہے __ ہر سال خوب بارش ہوتی ہے _ جس کی وجہ سے پینے کے پانی اور  آبپاشی  (irrigation)   کا مسلہ نہیں  ہے __  مگر   سیلاب   کا مسلہ  ضرور  ہے، جو  چھوٹے     اور میڈیم سائز کے  ڈیم (Dam) بنا کر حل کیا جا سکتا ہے. اس سے سیلاب کا  مسلہ حل ہوگا_______ ساتھ ہی آبپاشی کے لئے مزید پانی حاصل ہوگا __ ان مسائل کے حل کے لئے مضبوط قوت ارادی    اور      سیاسی طاقت ضروری ہے.


ریاست بہار کے واحد مسلم اکثریتی ضلع کشن گنج کے ہر مسلمان کو  یہ جاننا اور ماننا ضروری ہے کہ اس کی مادری زبان    (mother  tongue) صرف   اور    صرف     اردو    ہے __ 2021ء  کی  عنقریب       آنے  والی مردم شماری (census) کے موقع پر مادری زبان  (mother  tongue)کے کالم  میں  صرف  اور  صرف     اردو لکھانا   بہت  ضروری  ہے.

اردو   مادری زبان  لکھانے    والے ہی  اردو آبادی    (urdu  population) میں شمار ہوتے ہیں __ اور اسی بنیاد پر    دستوری    اور   قانونی   حقوق حاصل ہوتے ہیں. __ ضلع  میں  اردو کو  دوسری  سرکاری  زبان کا  درجہ حاصل ہے، جو کہ  سراسر  ناانصافی ہے __

اردو والوں  کے لئے لازم  ہے کہ پہلے اپنی مادری زبان اردو  لکھا کر ثابت کریں کہ   ضلع   کی    غالب اکثریت  اردو آبادی (urdu  people) کی ہے. جس کی بنیاد پر اردو ضلع کی  پہلی سرکاری زبان   بن  سکتی ہے __   یا  کم از کم   ضلع  کو   دو لسانی  ضلع  قرار  دیا  جا سکتا ہے  ___  جس کی رو سے ضلع کا سارا سرکاری کام کاج  ہندی  کے  علاوہ  اردو زبان  میں  ہو سکتا ہے __ اس کے علاوہ  اردو زبان روزگار  سے جڑے گی __ ضلع کے آٹھ سو گاؤں  میں سرکاری   اردو میڈیم اسکولس  کھل سکتے ہیں__     جو  اردو آبادی کو  روزگار  کی فراہمی کا ذریعہ  بن  سکتے ہیں ___

اس کے علاوہ  اردو میڈیم  اسکولس  نئی نسل  کو   اردو زبان   اور   اردو تہذیب  سے  جوڑنے کا  کام کریں گے.


اس میں کوئی شک نہیں کہ  مسلمان اصلی مقامی باشندے (indigenous people) ہونے کی وجہ سے  مقامی زبان  میتھلی     (Maithili)       اور  سورجاپوری  (Surjapuri)     زبانیں بھی جانتے ہیں __ مگر  ان زبانوں کو  اپنی مادری زبان  لکھانے  سے    اردو زبان کا  شدید نقصان ہوتا ہے __ اور اردو زبان دستوری اور قانونی حقوق سے  محروم  ہو جاتی ہے.

بہتر تو  یہی ہے کہ ہر مسلمان  اپنی مادری زبان کے کالم میں  صرف اردو لکھائیں __  دوسری اور تیسری زبان کے طور پر  جو  مناسب    سمجھیں، لکھا سکتے ہیں. __ اس سلسلے میں ابھی سے  آنے والی مردم شماری  کے لئے  شعور بیدار  کریں.

********************

اتوار، 27 نومبر، 2022

امر ،اکبر اور انتھونی

 -:امر، اکبر... او نتھونی ​​ایس ایس ایس!!!!!!!!!!:-



 تو بائیں اور دائیں اکبر اور امر ہیں، درمیان میں ہمارا انتھونی گونسالویس ہے۔ وہ دنیا میں اکیلا ہے اس کا دل بھی خالی ہے اس کا گھر بھی خالی ہے اور اس کے دل میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!!!۔


 اوہ!!! موضوع سے ہٹ گئے۔

 ،

 تو درمیان والا اپنے پردادا کی طرح کشمیری پنڈت ہے، یا اپنے دادا کی طرح پارسی، (یا بھکت سماج کے مطابق، دادا مسلمان ہیں)۔


 یا وہ اپنی ماں کی طرح ایک عیسائی ہے، یا اپنے الفاظ کے مطابق شیو کا عقیدت مند ہے؟

 بہت الجھن ہے۔


 اس کے باوجود واٹس ایپ یونیورسٹی میں اس کے مذہب کے حوالے سے متعدد طویل مقالے لکھے گیے ہیں ۔ انہیں مقالوں کو پڑھ کر اور بار بار شیر کر کے پی ایچ ڈی کرنے والے لاکھوں "سبجیکٹ ایکسپرٹ" بے روزگار گھوم رہے ہیں...


 یہ سوال اب بھی برسوں پر محیط ہے۔

 یہ تنگ ہے، بڑا ہے، عقیدت مند اسے اندر لے کر گھوم رہے ہیں۔

 ،

 میرا ماننا ہے کہ راہل کا تعلق کسی مذہب سے نہیں ہیں.. ان کا خون ہندوستان کی طرح رنگین ہے۔ہمارے دل کی مانند ان کا دل بھی ہندوستانی ثقافت کی طرح ایک پگھلنے والا برتن ہے۔


 میرے خیال میں راہل کی رگوں میں حقیقی ہندوستان بہتا ہے۔

 اسی لیے حقیقی ہندوستان کا دل راہل کے لیے دھڑکتا ہے۔


نوٹ:- اخیر میں واضح کر دوں کہ میں فی الحال کانگریسی نہیں بلکہ ترنمول کانگریس کا سپورٹر ہوں۔


از:- احمد اللہ سعیدی عارفی

اتوار، 20 نومبر، 2022

وقت اور تربیت میں فرق۔۔

 




آج کے والدین کے عام الفاظ۔۔۔(چھوڑو ابھی 18 سال ہی کا تو ہے۔۔۔۔ بچہ ہے ۔۔۔۔لائف کو انجوائے کرنے دو۔۔ ابھی تو اسکے کھیلنے کھودنے کے دن ہیں، آدھی رات کو گھر سے غائب،،،،، ، فارغ ہے گھر میں بور ہوجاتا ہے۔۔۔۔غیرہ و غیرہ


آئیے تاریخ کی نظر سے دیکھتے ہیں،،،،،،،،،،،،،،،، بچوں نے کتنی عمر میں کیا کارنامے سر انجام دیئے،،،، تا کہ ہم اس دھوکے سے نکل جائیں ۔۔۔!


اندلس (اسپین )کا فاتح عبدالرحمن الداخل رحمہ اللہ عمر 21 سال۔۔۔


قسطنطنیہ کا فاتح محمد الفاتح رحمہ اللہ عمر 22 سال ۔


مسلمانوں کی اس لشکر کا سپاہ سالار جس میں ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہما جیسی شخصیات موجود تھے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ عمر 18 سال ۔۔۔


سندھ کا فاتح محمد بن قاسم رحمہ اللہ عمر 17 سال۔۔۔


جس نے اسلام مین پہلا تیر چلایا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ عمر 17 سال ۔۔۔


جس نے اپنے گھر کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ سلم کیلئے مکہ معظمہ میں وقف کیا الارقم بن الارقم عمر 16 سال۔۔۔


اسلام میں سب سے زیادہ اکرم شخصیت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ عمر 16 سال۔۔۔۔


حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے حواری جنہوں نے سب سے پہلے اسلام میں تلوار چلائی صاحبی زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ عمر 15 سال۔۔۔۔


اس امت کے فرعون کو واصل جہنم کرنے والے معاذ بن الجموح عمر 13 سال اور معوذ بن عفراء عمر 14 سال۔۔۔رضی اللہ عنہما ۔۔۔


وحی کو لکھنے والے اور جس نے 17 دن میں یہود کی زبان کو سیکھ لیا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ عمر 13 سال ۔۔۔


جس کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کا والی بنا کر غزوہ کیلئے تشریف لےگئے عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ عمر 18 سال۔۔۔



*اور ہمارے بچے شادی تک بچے ہی رہتے ہیں...*


    از:- احمد اللہ سعیدی عارفی۔                      

جمعہ، 4 نومبر، 2022

 *♥️جو لوگ مفتیان کرام سے بلاضرورت خیالی و فرضی سوالات پوچھتے رہتے ہیں،ان پر علماءِ سلف  کے کچھ دلچسپ جوابات:😆😉*


ایک شخص نے امام شعبی سے داڑھی پر مسح کرنے کا مسئلہ پوچھا.

انہوں نے کہا : انگلیوں سے داڑھی کا خلال کر ل

و.

وہ شخص بولا : مجھے اندیشہ ہے کہ داڑھی اس طرح بھیگے گی نہیں 

امام شعبی نے جواب دیا : پھر ایک کام کرو، رات کو ہی داڑھی  پانی میں بھگو دو.😂

📜 المراح فی المزاح:ص 39


امام شعبی سے ہی ایک شخص نے پوچھا : کیا حالت احرام میں انسان اپنے بدن کو کھجلا سکتا ہے؟ انہوں نے کہا : ہاں. وہ شخص بولا : کتنا کھجلا سکتا ہے؟ انہوں نے جواب دیا : جب تک ہڈی نظر نہ آنے لگے.😜


📜المراح فی المزاح


ایک شخص نے عمر بن قیس سے پوچھا : اگر انسان کے کپڑے، جوتے اور پیشانی وغیرہ میں مسجد کی کچھ کنکریاں لگ جائیں تو وہ ان کا کیا کرے؟ انہوں نے جواب دیا :  پھینک دے. وہ شخص بولا : لوگ کہتے ہیں وہ کنکریاں جب تک دوبارہ مسجد میں نہ پہنچائی جائیں وہ چیختی رہتی ہیں.

وہ بولے : تو پھر انہیں اس وقت تک چیخنے دو جب تک ان کا حلق پھٹ نہ جائے.

وہ شخص بولا : سبحان اللہ! بھلا کنکریوں کا بھی کہیں حلق ہوتا ہے؟

انہوں نے جواب دیا : پھر بھلا وہ چیختی کہاں سے ہیں؟😬


📜العقد الفرید 92/2


اعمش کہتے ہیں ایک شخص امام شعبی کے پاس آیا اور پوچھا: ابلیس کی بیوی کا کیا نام  ہے؟ انہوں نے جواب دیا : میں اس کی شادی میں شریک نہیں ہوا تھا.🤣


📜سیر اعلام النبلاء 312/4


ایک آدمی امام ابو حنیفہ رحمۃاللہ علیہ کے پاس آیا اور پوچھا جب میں اپنے کپڑے اتار کر ندی میں غسل کرنے کے لیے جاؤں تو اپنا چہرہ قبلہ کی طرف رکھوں یا کسی اور طرف؟

انہوں نے جواب دیا : بہتر ہے کہ تم اپنا چہرہ کپڑے کی طرف رکھو تاکہ کوئی انہیں چرا نہ لے .😆😝


📜المراح فی المزاح : ص 43


 عربی سے ترجمہ




*🤲🏻 احمد اللہ سعیدی عارفی

#احمد_اللہ_سعیدی_عارفی

#ahmadullahsaeedi

ہفتہ، 29 اکتوبر، 2022

مذہب اسلام میں مساجد کا مقام

 مذہب اسلام میں مساجد کی حیثیت دیگر مذاہب کی عبادت گاہوں کی طرح محض عبادت کی ادائیگی کےلیے مختص کی گئی ایک عمارت کی نہیں بلکہ مساجد اسلامی معاشرہ کی دینی ، سیاسی ، معاشرتی ، اخلاقی، رفاہی قیادت کا مرکز ہیں۔ دنیا کی ظلمتوں میں اسلام ہدایت کا نور ہے اور مساجد وہ چراغ ہیں جہاں سے یہ نور اپنی کرنوں سے معاشرہ کے گوشہ گوشہ کو منوّر کرتا ہے ۔ مساجد کی حیثیت اسلامی معاشرہ میں دل کی ہے جہاں سے علم و ہدایت کا خون معاشرہ کی رگوں میں پہنچتا ہے ۔ مسجد ایک معاشرہ میں اسلام کے زندہ ہونے کی علامت ہے ۔ اسلام کا اعلیٰ ترین شعار ہے ۔

بندے کا اللہ سے رابطہ دو حوالوں سے ہے ۔ ایک بندے کی طرف سے عبادت کا دوسرا اللہ کی طرف سے ہدایت کا ہے ۔ مسجد رابطہ کے ان دونوں حوالوں کا مرکز ہے ۔ مسجد کی ایک جہت مصلّیٰ کی ہے ۔ نماز جو اللہ کے سامنے بندگی کے اظہار کا اعلیٰ ترین وسیلہ ہے نماز اس عبادت کی اجتماعی ادائیگی کا مقام ہے ۔مساجد کی دوسری جہت منبر کی ہے ۔ منبر اللہ کی طرف سے اتاری گئی ہدایت کی اشاعت کا مرکز ہے ۔ منبر تعمیر کردار اور افراد سازی کا سب سے بڑا مرکز ہے ۔ مسجد دعوت و اصلاح اور سماجی رابطہ ( social connectivity) کا ایسا زبردست نظام ہے جس کو اگر اُس کی صحیح بنیادوں پر استوار کرلیا جائے تو امّت کو کسی اور نظام کے ایجاد یا امپورٹ کرنے کی ضرورت ہی باقی نہیں رہ جاتی ۔

مساجد کی اِس اہمیت ہی کے پیش نظر مساجدکی تعمیر پر خصوصی فضیلتوں اور انعامات کے وعدے کیے گئے ہیں ۔ اگر اسلامی ریاستیں موجود ہیں تو مساجد کی تعمیراور انتظام کی ہر ذمہ داری ریاست کی ہوگی ۔ اسلامی ریاست کی غیر موجودگی میں یہ ذمہ داری علاقہ کے مسلم افراد کی ہے کہ وہ مسجد کی تعمیر کا انتظام کریں اور اس کو مطلوبہ بنیادوں پر قائم رکھنے کی کوشش کریں۔

الحمد للہ دین سے دوری کے اس دور میں بھی مساجد کے معاملہ میں اہل اسلام کی حساسیت قائم ہے ۔ وطن عزیز میں پھیلی لا تعداد مساجد اس بات کی گواہ ہیں ۔ دنیا پرستی کے اس دور میں بھی مسلمان اپنی گاڑھی کمائی سے مساجد کی تعمیرکرتے ہیں اور ان کے رکھ رکھاؤ کاسارا خرچ بھی برداشت کرتے ہیں ۔ وہ مخلصین یقینا مبارکبادی کے مستحق ہیں جو مساجد کی تعمیر اور اس کے انتظام میں اپنا قیمتی مال اور وقت صرف کرتے ہیں ۔ اُن کو اُن کی محنتوں کا حقیقی صلہ یقینا اللہ دینے والا ہے ۔ذیل میں مساجد کے انتظام ، ائمہ کے حقوق اور دعوتی امور کی ترتیب کے حوالے سے موجودہ حالات کے پیش نظر مساجد کے ذمہ داران کی خدمت میں کچھ مشورے اور گذارشات عرض کیے جارہے ہیں ۔ یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ مسجد صرف عمارت نہیں ایک نظام کا نام ہے۔ مسلم معاشرہ کی اصلاح کا بہت کچھ انحصار نظام مساجد کی اصلاح پر ہے ۔ یہ مشورے اس نظام کی تعمیر اور اصلاح کے کی نیت سے دیے گئے ہیں ۔ اللہ ہم سب کو اصلاح کی توفیق نصیب فرمائے۔​


#احمد_اللہ_سعیدی_عارفی

#ahmadullah


saeedi

ہفتہ، 24 ستمبر، 2022

-:अंकिता हत्याकांड :

 *अंकिता के हत्याकांड* पर कोई भी भक्त आक्रामक post नही कर रहा है।


इसके कारणों का विश्लेषण करते है...


1. कांड बीजेपी शाषित राज्य मे हुआ , जहा की सरकार पर सवाल करने का इनको अधिकार ही नही है।


2. आरोपी मे एक भी अब्दुल नही।


3. इनको राजस्थान या बिहार के हिन्दुओ का ही फ़िक्र है।


4. पहले सबसे ज्यादा फ़िक्र इनको महाराष्ट्र के हिन्दुओ का था पर अब बीजेपी वहां सरकार मे आ गई तब से इनको अब वहां के हिन्दु का किम्मत 2 कौड़ी हो गया ।

अब इनको महाराष्ट्र मे हिन्दु पर अपराध होगा तो ये कोई विधवा विलाप नही करेंगे।


5. अभी इनका मनपसंद डेस्टिनेशन राजस्थान है।


सारी बातो का सार एक निकलता है की ,अगर *हिन्दु को अपनी किम्मत इन भाजपाइयो की नजर मे क़ायम रखनी है तो इनको विपक्ष मे बैठाओ।*

जैसे ही ये जिस राज्य मे *सत्ता मे आते है तो हिन्दु का जान का किम्मत इनके लिए 2 कौड़ी का होता है।*


جمعرات، 23 جون، 2022

*ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے آپ ﷺ کے نکاح کو لےکر کیئے جانے والے اعتراضات کا مدلل جواب :*

 *ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے آپ ﷺ کے نکاح کو لیکر کیئے جانے والے اعتراضات کا مدلل جواب :*


ایک اہم تحقیق :  

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيِمِ.. الحَمْدُ لله رَبِّ العَالَمِينَ وَالصَّلاَةُ وَالسَّلاَمُ عَلَى أَشْرَفِ الخَلْقِ أَجْمَعِينَ وَخَاتَمِ الأَنْبِياءِ وَالمُرْسَلِينَ سَيِّدِنا مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَأَتْبَاعِهِ بِإِحْسَانٍ إِلَى يَوْمِ الدِّيِنِ.


*کیا ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کا نکاح حضرت محمد ﷺ کے ساتھ کم سنی میں ہوا تها......؟؟؟*

دشمنان اسلام خصوص" مغربی دنیا کے لوگ اس بات کو لیکر حضرت محمد ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کرتے نظر آتے ہیں. .. اور آپ ﷺ کے مبارک تقدس کو پامال کرنے کی ناپاک کوشش کرتے ہیں، جنکا دیکھا دیکھی آج کل ہندوستان کے کچھ تنگ ذہن، اسلام مخلاف لوگ بھی اس کو عنوان بنا کر مسلمانان ہند کے جذبات کو مجروح کرنے کی کوشش کررہے ہیں.. جس کو سن کر مسلمان بہت زیادہ پریشان ہوجاتے ہیں اور شان اقدس میں ہونے والی گستاخی کو برداشت نہیں کرپاتے، مگر اس کے باوجود اس اعتراض پر اپنے آپ کو لاجواب  محسوس کرتے نظر آتے ہیں.. اور بعض مسلمان خود حیران ہوکر اس پر سوال کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے امی عائشہ سے اتنی کم عمری میں نکاح کیوں کیا تها....؟؟؟ 

آگے جو تحقیق اور حقائق آپکے سامنے پیش کیئے جارہے ہیں اسے پڑھ کر آپکے سارے اشکال دور ہوجائیں گے ان شاءالله،  اور آپ خود اپنے دوسرے مسلم اور غیر مسلم بھائیوں کی غلط فہمی کو دور کر سکتے ہیں،  یہ تحریر بڑی محنت سے تیار کی گئی ہے اسکو کم از کم ایک دفعہ ضرور پڑھیں تاکہ پوری زندگی آپکو اس عنوان کے متعلق تذبذب میں مبتلا نہ ہونا پڑے.  عنقریب اسکا انگریزی میں ترجمہ بھی پیش کیا جائے گا ان شاءالله، جسکو آپ اپنے غیر مسلم دوستوں کے ساتھ بھی شیر کرسکتے ہیں..

بوقت ضرورت مقررین حضرات بھی اس تحقیق سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عوام کو اس کے متعلق بتا سکتے ہیں، جو کہ اسوقت مسلمان ، خصوصا" دنیوی پڑھے لکھے طبقے کے ایمان و عقائد کی سلامتی کے لئیے ضروری ہے.....


صحیح بخاری و صحیح مسلم کی روایات سے پتا چلتا ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنه کا نکاح انکی چھ سال کی عمر میں ہوا اور رخصتی کے وقت انکی عمر شریف نو برس کی تھی. { رواه البخاري (3894) ومسلم (1422) }..

 یہ ساری روایات صحیح ہیں انکی صحت پر کلام نہیں کیا جاسکتا.

اس بات کو مغربی میڈیا نے کئی دفعہ mispresent کرکے عوام کے دلوں میں حضرت محمد مصطفی ﷺ کے متعلق بدگمانی پیدا کرنے کی ناپاک کوشش کی ہے. ..

 جس کی وجہ سے بعض لوگ حیرانی اور تعجب سے پوچھتے ہیں کیا محمد ﷺ نے ایک بچی سے نکاح کیا تھا...؟؟؟


آئیے دیکھتے ہیں کہ اسکی کیا حقیقت ہے.....

اس نکاح کے پیچھے کیا حکمت تھی...؟؟؟

 1400 سو سال پہلے کیا یہ عام سی بات تھی. ....؟؟؟؟

اسکا جواب دینے کے لئیے ان روایات کی صحت پر کلام کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ اسکو تاریخی پس منظر سے دیکھنے کی ضرورت ہے...


*اہم نکتہ*:-  

وقت کے ساتھ ساتھ انسانوں کی غذا اور انکے کے استعمال کی چیزوں میں بڑی تبدیلیاں آئی ہیں اور اسی طرح انسانوں کے اندر بھی جسمانی تبدیلیاں (  Anatomical and Physiological Changes ) ہوئی ہیں...

1400 سال پہلے اتنی کم عمری میں شادی ہونا ایک عام سی بات تھی... اور یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ یورپ، ایشیاء، افریقہ اور امیریکہ میں 9 سال سے 14 سال کی لڑکیوں کی شادیاں کردی جاتی تھیں. ..


مثال کے طور پر سینٹ آگاسٹین Saint Augustine ~ 350 AD  نے جس لڑکی سے شادی کی اسکی *عمر 10 سال* تھی. .


راجا ریچرڈ 2 ، KING RICHARD-II 1400 AD  

نے جس لڑکی سے شادی کی اس کی *عمر سات سال* کی تھی. .

ہینری 8 ، HENRY 8 نے ایک *6 سال* کی لڑکی سے شادی کی تھی. .

یہاں تک کہ عیسائیوں کی پڑھی جانے والی آج کی موجودہ بائبل میں ہے.

In the book of Numbers, chapter 31 and verse 17 


*" But Save for yourselves every GIRL who has never slept with a man "*

*" مگر ہر وہ لڑکی جو باکرہ ہے اسکو اپنے لیئے محفوظ کرلو"*


عیسائیوں کی کیتھولک ینسائکلوپیڈیا کے مطابق حضرت

 عیسی علیہ السلام کی والدہ حضرت مریم کا نکاح انکی 12 سال کی عمر میں 99 برس کے جوسف سے ہوئی تھی.


1929 سے پہلے تک برطانیہ میں، چرچ آف انگلینڈ کے وزراء *12 سال* کی لڑکی سے شادی کرسکتے تهے.


1983 سے پہلے کیتھولک کینان کے قانون نے اپنے پادریوں کو ایسی لڑکیوں سے شادی کرلینے کی اجازت دے رکھی تھی کہ جنکی *عمر 12* کو پہنچ چکی ہو.

بہت سارے لوگ اس بات سے ناواقف ہیں کہ امیریکہ کے اسٹیٹ آف ڈیلیورا میں 1880 میں لڑکی کی شادی کی جو کم سے کم عمر تھی وہ *8 سال* تھی. اور کیلیفورنیا میں *10 سال* تھی. ..

یہاں تک کہ آج تک بھی امیریکہ کے کچھ اسٹیٹس میں لڑکیوں کی شادی کی جو عمر ہے، وہ *میسیچوسس میں 12 سال*، اور *نیوہیمسفر میں 13 سال* اور *نیویارک میں 24 سال* کی عمر ہے.

یہاں تک تو عیسائیت اور مغربی ممالک میں لڑکی کی شادی کی مناسب عمر اور وہاں کے معروف شخصیات کے متعلق تھا، جس سے یہ صاف ثابت ہوتا ہے کہ تاریخی نکتہ نظر سے اس عمر کی لڑکی سے نکاح کرنا ایک عام سی بات تھی اور اسکو کوئی معیوب نہیں سمجھتا تھا.


*ہندو مذہب میں شادی کی عمر* : 

اب ہمارے ملک ہندوستان کے قوانین اور ہندو مذہب کی مقدس کتابوں پر نظر ڈالتے ہیں کہ ان میں لڑکی کی شادی کی مناسب عمر کے بارے میں کیا لکھا ہے. ؟

ہندو مذہب کی کتاب منوسمرتی میں لکھا ہے،

*" لڑکی بالغ ہونے سے پہلے اسکی شادی کر دینی چاہیے"*

( گوتما 18-21 )


*"اس ڈر سے کے کہیں ایام حیض نہ شروع ہوجائیں، باپ کو چاہئیے کہ اپنی لڑکی کی شادی اسی وقت کردے جب کے وہ بے لباس گھوم رہی ہو، کیونکہ اگر وہ بلوغت کے بعد بھی گھر میں رہے تو اسکا گناہ باپ کے سر ہوگا "*  

واشستها ( 17:70 )

(manu ix, 88; http://www.payer.de/dharmashastra/dharmash083.htm)


- *Age of Marriage in India*

*ہندوستان میں شادی کی عمر* :

اس کے متعلق کیمبرج کے سنٹ جانس کالج کے Jack Goody نے اپنی کتاب

 *The Oriental, the Ancient and Primitive*

میں لکھا ہے کہ ہندوستانی گھروں میں لڑکیاں بہت جلدی ہی بیاہ دی جاتیں تھیں. .


سری نواس ان دنوں کے بارے لکھتے ہیں جب کہ انڈیا میں بلوغت سے قبل شادی کرنے کا رواج چلتا تھا..


(1984:11) : لڑکی کو اسکی عمر کو پہنچنے سے پہلے اسکی شادی کردینی ہوتی تھی؛ ہندو لا کے مطابق اور ملک کے رواج کے موافق لڑکی کے باپ پر یہ ضروری تھا کہ وہ بالغ ہونے سے پہلے اسکی شادی کردے، گرچہ  کہ رخصتی میں اکثر تاخیر ہوتی تھی، جو تقریبا" 3 سال ہوتی تھی.

(The Oriental, the Ancient, and the Primitive, p.208.)


- اور یہ بات سب جانتے ہیں کہ ایسی کم عمری کی شادیوں کا انڈیا میں آج بھی رواج ہے. 


- *The Encyclopedia of Religion and Ethics*   

میں لکھا ہے کہ، جس کی بیٹی اس حالت میں بلوغت کو پہنچتی تھی کہ وہ غیر شادی شدہ ہو تو اسکے (ہندو)  باپ کو گنہگار سمجھا جاتا تھا ، اگر ایسا ہوتا تو وہ لڑکی خود بخود "سدرا" (نچلی ذات ) کے درجہ میں چلی جاتی تھی. اور ایسی لڑکی سے شادی کرنا شوہر کے لئیے باعث رسوائی ہوا کرتا تھا..


*منو* کی *سمرتی* نے مرد اور عورت کے لئیے شادی کی جو عمریں طے کی ہیں وہ اسطرح کہ، لڑکا 30 سال کا اور لڑکی 12 سال کی یا لڑکا 24 سال کا اور لڑکی 8 سال کی...

مگر آگے چل کر *بھراسپتی* اور *مہابهارتہ* کی تعلیم کے مطابق ایسے موقعوں پر (ہندو) لڑکیوں کی جو شادی کی عمر بتائی گئی ہے، وہ 10 سال اور 7 سال ہے، جبکہ اسکے بعد کے *شلوکاس* میں شادی کی کم از کم عمر 4 سے 6 سال اور زیادہ سے زیادہ 8 سال بتائی گئی ہے. اور اس بات کے بے شمار شواہد ہیں کہ یہ باتیں صرف تحریر میں نہیں تھیں ( یعنی ان پر عمل کیا جاتا تھا) 

(encyclopedia of religion and ethics, p.450 ), 


- تو ہندو مذہب کے ماننے والوں کی اپنی کتابوں کے مطابق بھی اس عمر میں شادی کرنا کوئی عیب کی بات نہیں ہے، جو لوگ اسپر اعتراض کرتے ہیں یا تو وہ جہالت کی بنیاد پر کرتے ہیں یا سیاسی مفاد کی خاطر... انکو چاہئیے کہ پہلے تاریخ کا اور اپنی مذہبی کتابوں کا مطالعہ کریں....

*1400 سال قبل ملک عرب میں* 

 بھی اس عمر میں لڑکی کی شادی کو معیوب نہیں سمجھا جاتا تھا...

حضرت محمد ﷺ کے زمانے میں جن لوگوں نے آپکے پیغام کو جھٹلایا تھا، انہوں نے ہر طریقے سے آپ ﷺ کو بدنام کرنے اور آپکو نیچا دکھانے کی کی کوشش کی. وہ ہر اس موقع کی تاک میں رہتے تھے کہ جس سے وہ آپ ﷺ کی شخصیت پر وار کر سکیں زبانی طور پر بھی اور جسمانی طور پر بھی.

آپ ﷺ پر جو زبانی حملے کرتے تھے ان میں کبھی آپﷺ کو  جادوگر کہتے تھے، کبھی آپکو کو جھوٹا کہتے تو کبھی آپ ﷺ کو مجنون کہتے تھے، نعوذ بالله من ذالك. مگر کبھی بھی ان لوگوں کے دلوں میں یہ خیال بھی نہیں آیا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنه سے آپکے نکاح کو لیکر اعتراض کریں یا طعنہ دیں، ایسا کیوں...؟؟؟

کیونکہ اسوقت انکے سماج میں یہ عام سی بات تھی. اور انکے نزدیک وہ کوئی ایسی عیب کی بات نہیں تھی کہ جس کو بنیاد بنا کر وہ آپ کو طعنہ دیتے....


*کیا آپ جانتے ہیں. ..؟*

کیا آپ جانتے ہیں کہ حضرت محمد ﷺ کی حیات طیبہ کے پہلے 54 سال تک صرف ایک ہی زوجہ محترمہ تھیں، وہ ام المومنین حضرت خديجة الكبرى رضى الله عنه تھیں.

کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ ایک بیوہ عورت تھیں جن سے حضرت محمد ﷺ نے نکاح کیا تها؟؟؟؟؟

 اور کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ آپ ﷺ سے عمر میں پندرہ سال بڑی تھیں. .؟؟؟

حضرت محمد ﷺ نے اپنی زندگی کے عین جوانی کے ایام صرف یہ ایک بیوی حضرت خدیجہ رضى الله عنه کے ساتھ گذارے ہیں جو آپ سے 15 سال بڑی تھیں...اور آپ ﷺ نے انکی وفات تک بھی ان سے تعلق رکھا اور یہاں تک کے انکی وفات کے بعد بھی انکے دوستوں اور رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک اور تعلق


کو برقرار رکھا....


*أم المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنه سے آپکا نکاح:*

اللہ کے حکم پر آپﷺ نے أم المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنه سے نکاح فرمایا جب کہ انکی عمر مبارک 6 سال تھی، مگر اسی وقت رخصتی نہیں کی گئی، جب حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنه کی عمر 9 سال کی ہوئی تب آپکی رخصتی ہوئی. 

  

اب سوال یہ ہے کہ، جس وقت آپکی رخصتی ہوئی ہے اسوقت کیا حضرت عائشہ ابھی نابالغ بچی تھیں....؟؟؟

نہیں بلکہ ملک عرب کے موسم اور وہاں کی ترتیب کے حساب سے وہ عمر بچیوں کی رخصتی کے لئیے قابل قبول عمر تھی...


*تاریخ اور جدید سائنس* : اس بات کو واضح کرتے ہیں کہ بلوغت کی عمر مختلف زمانے اور مختلف علاقوں کے حساب سے مختلف ہوتی رہی ہے... 

موجودہ سائنسی تحقیقات اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ " لڑکیاں مکمل بلوغت کی عمر کو  *9 سے 15 سال کی عمر* کے درمیان کسی بھی وقت پہنچ سکتی ہیں. "

( http://www.livescience.com/1824-truth-early-puberty.html )


*" The average temperature of the country is considered the chief factor with regard to Menstruation and Sexual Puberty"*

(Women : An Historical, Gynecological and Anthropological compendium, Volume I, Lord and Brandsby , 1998, p. 563)


ترجمہ : "کسی بهی علاقے کی بچیوں کے ایام حیض کے شروعات اور ازدواجی بلوغت کی عمر کو پہنچنے میں اس ملک کا اوسط" جو درجہ حرارت ہے، وہ اہم کردار ادا کرتا ہے."


ان سارے دلائل کی روشنی میں اگر اس واقعہ کو دیکھیں تو یہ اشکال کہ أمی عائشہ رخصتی کے وقت نابالغ بچی تھیں، بلکل ختم ہوجاتا ہے. اور ان سارے واقعات اور تاریخی پس منظر کو سامنے رکھ کر دیکھا جائے تو کسی کو بهی اس نکاح پر اعتراض کرنے کا کوئی بھی موقع باقی نہیں رہتا....

ہاں! اگر کسی کے دل میں پہلے ہی سے مرض ہو تو اسے کوئی کچھ نہیں کرسکتا...

قوله تعالى:

﴿ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ فَزَادَهُمُ اللَّهُ مَرَضًا وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ بِمَا كَانُوا يَكْذِبُونَ ﴾

سورة: (البقرة) الآية: (10)

"ان کے دلوں میں مرض تھا۔ خدا نے ان کا مرض اور زیادہ کر دیا اور ان کے جھوٹ بولنے کے سبب ان کو دکھ دینے والا عذاب ہوگا."


*اس نکاح کی عظیم حکمت :*

تو اس نکاح کے پیچھے کیا حکمت تھی. ..؟؟؟

 ہمارا خالق، ہم کو سب کو پیدا کر نے والا سب چیزوں کو سب سے بہتر جاننے والا ہے.

حضرت عاشہ رضی اللہ تعالٰی عنه سے آپ ﷺ نے نکاح، اللہ تبارک وتعالى کے حکم کی تعمیل میں کیا تھا. 

( صحیح البخاری، جلد 5،  کتاب 58، حدیث 235 )

سیدنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنه نے، اللہ کے حبیب ﷺ کی 2200 سے زاید احادیث ہم تک پہنچائی ہیں. حضرت عائشہ رضی اللہ عنه غیر معمولی ذہین تھیں اور بہت بہترین قوت حفظہ کی مالک تھیں. اور چونکہ کم عمری میں ہی انکی شادی اللہ کے نبی ﷺ سے ہوگئی تھی، تو انہیں آپ ﷺ سے بہت سارا علم حاصل کرنے کا موقع مل گیا. جس کی بدولت آگے چل کر انہوں نے ایک بہت بہترین استاد، ماہر اور فقیہ کا کردار ادا کیا. تو اس شادی کے پیچھے بڑی حکمتیں پوشیدہ تھیں.

حضرت محمد ﷺ دنیا کی آسائش اور اسکی لذتوں سے لطف اندوز ہونے کے لئیے دنیا میں تشریف نہیں لائے بلکہ آپنے ہمیشہ اپنے آپ کو دنیا کی زیب و زینت اور اسکی لذتوں سے دور رکھا، اور اپنی امت کو بھی اسکے دھوکے سے ڈرایا.

 جتنے بھی نکاح آپ ﷺ نے اپنی حیات طیبہ میں فرمائے وہ مردوں والے شوق کی شادیاں نہیں تھیں، بلکہ وہ حکم الہی اور حکمت خداوندی کی بنیاد پر تھیں..

ورنہ ایک ایسا حسین و جمیل، اجمل و اکمل، ابحا و انور، اعلی و انسب، تونا اور خوبصورت نوجوان، جس جیسا کسی کی آنکه نے نہ دیکها ہو، وہ اپنی عین بھر پور جوانی کے ایام اپنے سے 15 سال بڑی ایک ہی بیوی کے ساتھ کیسے گزاسکتا تها ...؟؟

وأَحسنُ منكَ لم ترَ قطُّ عيني, وَأجْمَلُ مِنْكَ لَمْ تَلِدِ النّسَاءُ. خلقتَ مبرءاً منْ كلّ عيبٍ, كأنكَ قدْ خلقتَ كما تشاءُ. 

*آپ جیسا حسین میری آنکھ نے نہیں دیکھا.* 

*آپ جیسا جمال والا کسی ماں نے نہیں جنا.* 

*آپ ہر عیب سے پاک پیدا ہوئے* 

*آپ ایسے پیدا ہوئے جیسے خود آپنے اپنے لئیے چاہا.* 


 اللَّهمَّ صلِّ وسلِّم وبارك عليه، عدد خلقك.. ورضا نفسك، وزِنَةَ عرشِكَ، ومدادَ كلماتِك، اللَّهمَّ صلِّ وسلِّم وبارك عليه عدد ما خلقتَ، وعدد ما رزقتَ، وعدد ما أحييتَ، وعدد ما أَمتَّ.

اس کو شیر کر کے صدقۂ جاریہ ثواب میں حصہ لیجیے

 احمد اللہ سعیدی عارفی📝


 جامعہ عارفیہ الہ آبادی 





ہندوستانی مسلمانوں کے مسائل،قیادت کی خاموشی،اور مستقبل کے خدشات

آج ہندوستان میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے ساتھ جس طرزِ عمل کا مشاہدہ کیا جا رہا ہے، وہ نہایت تشویش ناک اور فکر انگیز ہے۔ متعدد مواقع پر ا...